اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Tue, 22 Apr 2008 07:13:00

تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات کے پس منظر میں

تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات کے پس منظر میں حصہ اول

 اپنی تمام ترتصوراتی اور تخلیاتی پرواز کے باوجود آج کا انسان یہ سوچنے سے قاصر ہے کہ موجودہ دور میں تمام تر آسائشوں اور آرائشوں سے مزین گھروں  میں رہتے ہوئے تمام تر خطرات سے پاک سڑکوں اور گلیوں میں گھومتے ہوئے سکون سے ادھر ادھر آتے جاتے ہوئے جن وسائل اورذرائع کو وہ استعمال کر رہا ہے وہ کس طرح ، کب اور کہاں استعمال میں آئے  اور ایک سے دوسرے کا درمیانی عرصہ کتنے کتنے ہزار سال پر محیط ہے۔  لیکن یہ تصور کرنا کوئی اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔ دو بچوں کو جنگلی جانوروں سے بھرے ہوئے جنگل میں چھوڑ آئیں اور دیکھیں کہ وہ اپنے بچاؤ اور بقا کے لیے کیا کرتے ہیں ۔ وہ بچے بڑے ہوکر اس جنگل کو ایک ترقی یافتہ نیویارک میں کس طرح بدلتے ہیں اور ایسا کرنے میں انہیں کتنے لاکھ سال لگتے ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ہمیں مذہبوں، ثقافتوں، زبانوں، سیاستوں، کمپنیوں اور ایجنسیوں سے باہر نکل کر اور اوپر اٹھ کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے ۔

 نیچے دیے گئے اعداد و شمار ہمیں بلا بلا کر پوچھتے ہیں کہ ایک ایجاد سے دوسری ایجاد میں کتنے لاکھ سال کا وقفہ پڑا اور اس وقفے میں کتنی ہزار نسلیں لقمہ اجل بن گئیں۔ ہزاروں سالوں کے وقفے پر پھیلی ہوئی بڑی بڑی ایجادات جنہوں نے اپنے وقت کی ثقافت اور سیاست پر گہرے نقوش چھوڑے اپنے وقت کے کارآمد ایقانوں کو وہموں میں تبدیل کر دیا ، آج اتنی معمولی اور بے ضرر نظر آتی ہیں کہ ہم انہیں ایجادات کی فہرست سے نکال بیٹھے معلوم ہوتے ہیں۔ کچھ ایجادات تو ایسی تھیں جنہوں نے اپنے وقت کی بساط ہی پلٹ دی لیکن بعض نے دوسری ایجادات کے آنے سے اتنی بے وقعت ہوگئیں کہ آج ہمیں ان کے نام تک معلوم نہیں ہیں۔ ہمیں تو صرف ان ایجادات کا علم ہو سکا ہے جو کسی نہ کسی صورت میں آج تک زیر استعمال ہیں اور جن کے کوئی نہ کوئی آثار پرانی تہذیبوں کی کھدائی سے سامنے آتے رہتے ہیں۔

 ایک سوال جسے میں اپنے ذہن سے دور نہیں کر سکتا وہ یہ ہے کہ کیا مستقبل میں کبھی ہمارا آج کا سنہری دور اتنا ہی پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ محسوس ہوگا جتنا کہ آج ہمیں لاکھوں اورہزاروں سال پرانا لیکن اپنے وقت کا ترقی یافتہ  دور محسوس ہورہا ہے۔  کیا انے والے ملینیم اپنے اندر اس سے بھی بڑی بڑی ایجادت چھپائے ہوئے ہیں جو آج ہمارے زیر استعمال ہیں اور جن کے سامنے یہ ایجادات نہ صرف بے وقعت اور بے ضرر محسوس ہوں گی بلکہ شاید عنقا محسوس ہوں۔

سائنسی ایجادات کی تاریخ میں  کچھ اور موضوعات بھی غور طلب ہیں اور وہ ہیں ثقافتوں مذہبوں اور زبانوں میں آنے والی تبدیلیاں۔  ہر ایجاد پچھلے مسائل کا حل بن کر سامنے آئی اور کئی دوسرے مسائل پیدا کر کے چلی گئی۔  مسائل، مسائل کا حل اور اس حل سے پیدا ہونے والے مزید مسائل یہ ایسی تکون ہے جو کبھی مربع یا مستتیل نہیں بن سکی۔  اس ازلی تکون کو سامنے رکھ کر جو سوال ذہن میں ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا مذہب ، ثقافت اور حکومت کی خاطر لڑنے والے ہم لوگ وہی لوگ تو نہیں ہیں جو ایک ایجاد سے دوسری ایجاد میں 16 لاکھ سال پہلے اپنے وقت کے ترقی یافتہ جانور بن کر ابھرے اور مر گئے۔

1 2 3 4 5 Next







(Your Name) آپ کا نام
(E-mail Address) ای میل ایڈریس
(City or Country) شہر یا ملک کا نام
(Write your message here) یہاں لکھیں




 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier