ساءنس دانوں نے ایکسرے لیزر کی مدد
سے خفیف ترین صورتوں کے عکس لے لیےہیں تجربہ گاہ کے ساءنس دانوں نے پہلی بار اس
خیال کی توثیق کی ہے کہ مختصر اور شدید ترین ایکسرے پلسز کو استعمال کر کے اس سے
پہلے کہ ایکسریز سمپلر کو تباہ کر دیں، پروٹین جیسی ایشیاء کی صورتوں کا عکس لے
سکتے ہیں۔ دریں اثناء انہوں نے فلیش امیج لینےکی سپیڈ بھی ریکارڈ کی ہے جو کے 25
فینٹو سیکینڈ ثابت ہوی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اس سے بھی زیادہ طاقتور ایکسرے
لیزر میسر ہوں گے تو یہ نیا طریقہ کارپیچیدہ ترین باءیو مالیکولز کی صورتیں ایٹمی
حد تک لینے کے قابل ہوگا۔ یہ طریقہ کار ساءنس دانوں کومٹریلز ساءنس، پلازمہ
فزکس،باءیولوجی اور میڈیسن کے شعبوں میں تحقیق کرنے کے مواقع فراہم کرے گا۔
ہیمبلک کے ڈوش الیکٹرونی سینکرو
ٹرام پر فری الیکٹرون لیزر استعمال کر کے ساءنس دانوں نے لارنس لیور مور کے ہینری
چیپ مین اور اپسالہ یونیورسٹی کے جینوس ہاجو کی سرپرستی میں کام کرنے والی بین
الاقوامی تنظیم کا حصہ بن کر لیزر کے تباہ کرنے سے پہلے کسی چیز کے خفیف ترین تشکل
میں آنے والی تبدیلی کو ریکارڈ کر لیا ہے۔ لیور مور کے بناے ہوے کمپیوٹر الیگو
ردم نے اس چیز کے تشکل کو ازسِر نو پیدا کرنے کے فرق کو بھی ریکارڈ کیا ہے یہ
طریقہ کار ایٹمی پروگراموں کی تشکیل میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ، اس
میں زیادہ طاقت ور لینزوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ فلیش امیج کسی چیز کے عکس کو پچاس
نینو میٹر چھوٹا کر کے دکھا سکتے ہیں جو کہ آپٹیکل ماءیکرو سکوپ سے حاصل کیے جانے
والے عکس کا دس گناچھوٹا ساءز ہوگا۔
یہ تحقیق نیچر فزکس کے12 نومبر2006
کو آن لاءن شاءع ہونےوالے شمارے میں دی گءی ہ۔
رابطے کےلیے
Chapman9@Ilnl.gov