آر اینڈ دی ختم: اپیرل گارمنٹس کو متوقع کسارے کا سامنا
آر اینڈ ڈی سپورٹ ختم کرنے سے اپیرل گارمنٹس کے شعبے کو شدید بدترین مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ جاوید بلوانی
کراچی
(این این آئی) وزارت خزانہ کی جانب سے ٹیکسٹائل سیکٹر کو دی جانے والی آر اینڈ ڈی
سپورٹ ختم کرنے سے اپیرل گارمنٹس کے شعبے کو شدید بدترین مالی خسارے کا سامنا کرنا
پڑسکتا ہے ۔ یہ بات چیئرمین پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن جاوید بلوانی
اور چیئر مین اپیرل فورم نقی باڑی نے جمعرات کو پی ایچ ایم اے ہاﺅس میں مشترکہ
ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ جاوید بلوانی نے کہاکہ بجلی اور گیس
کی قیمتوں میں 45فیصد اضافہ کردیا گیا ہے اور مزید اضافے کے قوی امکانات ہیں جبکہ
ملک میں امن وا مان کی ابتر صورتحال اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے پہلے ہی پیداواری
لاگت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے اور پاکستان خطے کے حریف ممالک سے مقابلے اور
مسابقت کے قابل نہیں رہا اور وزارت خزانہ کی جانب سے ٹیکسٹائل سیکٹر کو دی جانے
والی آر اینڈ ڈی سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ اپیرل گارمنٹس سیکٹر کے تابوت میں آخری کیل
ثابت ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ نوید قمر نے اس بات کا اعلان کیا تھا
کہ 30جون 2009ءتک اپیرل سیکٹر کو آر اینڈ ڈی سپورٹ جاری رہے گی ۔ معاشی رابطہ کمیٹی
نے اس کی تصدیق کی تھی لیکن مشیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے آر اینڈ ڈی اچانک
مسترد کرنے کے فیصلے نے برآمدی نوعیت کے یونٹس کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ انہوں
نے آر اینڈ ڈی سپورٹ ملنے کی امید میں بیرونی خریداروں سے ریٹ طے کئے تھے لیکن
اچانک آر اینڈ ڈی سپورٹ ختم کرنے سے ان کو کروڑوں روپے کے مالی خسارے کا سامنا
کرنا پڑسکتا ہے جس سے ان کے بینک ڈیفالٹ اور مارکیٹ ڈیفالٹ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا
ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ اپیرل گارمنٹس کی سالانہ برآمدات 3.8 ارب ڈالر ہے جبکہ آر اینڈ
ڈی سپورٹ کی مد میں اپیرل گارمنٹس کو سالانہ 230 ملین ادا کئے جاتے ہیں جبکہ
ماہانہ 20ملین روپے آر اینڈ ڈی سپورٹ کی مد میں ادا کئے جاتے ہیں اگر 30جون
2009ءتک آر اینڈ ڈی سپورٹ کو جاری نہ رکھا گیا تو برآمد کنندگان کو شدید ترین مالی
خسارے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس سے قبل اسٹیٹ بینک کی جانب سے
نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود 20جون 2008ءتک 20ارب روپے مالیت کے آر اینڈ ڈی کلیمز
مرکزی بینک نے تاحال جاری نہیں کئے ہیں جبکہ گزشتہ 4ماہ کے دوران 72 ملین ڈالر کے
آر اینڈ ڈی کلیمز واجب الادا ہیں ۔ا نہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ
مالیاتی بحران کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر اور خصوصاً اپیرل گارمنٹس سیکٹر کو تمام ٹیکسوں
سے مستثنیٰ قرار دیا جائے جب تک تجارتی خسارہ ختم نہیں ہوجاتا ۔ انہوں نے کہا کہ چین
نے ریٹ میں 1فیصد مزید اضافہ کردیا ہے بلکہ یو ایس اے
¾ یو کے اور دیگر یورپی اور امریکی ریاستوں نے شرح سود میں 1فیصد
سے لے کر 3فیصد تک کمی کردی ہے ۔ پاکستان نے شرح سود میں 2فیصد اضافہ کردیا ہے اور
اس میں مزید اضافے کا عندیہ دیا جارہا ہے اور اگر صورتحال یہی رہی تو اپیرل سیکٹر
بنگلہ دیش کی جانب سے دی جانے والی آفر پر غور کرے گا اور ہوسکتا ہے کہ اپیرل
گارمنٹس کا شعبہ بنگلہ دیش شفٹ ہوجائے اس صورتحال میں بے روزگاری میں مزید اضافہ
ہوگا اور امن وامان کی صورتحال مزید ابتر ہوجائے گی ۔