|
اردو ٹائمز(نیوز) 3نومبر2007کو ملک میں ایمر جنسی کے نفاذ کے بعد سے پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائرپردباﺅ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، گزشتہ6ماہ کے دوران 4ارب ڈالر سے زائد کی ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 3نومبر2007تا10مئی 2008کے دوران ان ذخائر میں 4ارب16کروڑ 54لاکھ ڈالر کی ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے ۔3نومبر2007کو ملک میں ایمر جنسی کے نفاذ کے بعد سے پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل دباﺅ کا شکار ہیں 3نومبر کو ان ذخائر کا حجم 16ارب 37کروڑ25لاکھ ڈالر تھا جو10مئی 2008کو گھٹ کر 12ارب20کروڑ71لاکھ ڈالر کی سطح پر آگیا ہے ۔ اس ضمن میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ذخائر میں کمی کی بڑی وجہ کرنٹ اکاﺅنٹ کا بڑھتا ہوا خسارہ ہے جو تجارتی خسارے کا نتیجہ ہے ، حکومت کو بیرونی ادائیگیوں کیلئے بھی اپنے ذخائر کو استعمال کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ روایتی زرائع سے جو رقوم پاکستان کو مل رہی تھیں زیر تبصرہ مدت میں وہ بھی کم ہوئی ہیں سوائے بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی گئی رقوم جس میں سے 21فیصد کی شرح سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق برآمدات توقع کے مطابق نہیں بڑھ رہی ہے اور زیر تبصرہ مدت کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی کمی آئی ہے جبکہ ملکی اور عالمی مالیاتی حالات کی وجہ سے پاکستان کے نجکاری کا عمل بھی رواں سال سست روی کا شکار ہے ۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں سال پاکستان کئی بڑے اداروں کی جی ڈی آر جاری کرنے کے علاوہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بانڈز کے اجراءکا ارادہ رکھتا ہے تاہم ابھی تک سمت کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تیل کی درآمدی توازن کا رجحان بھی برقرار ہے ۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں دباﺅ کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدربھی متاثر ہورہی ہے ۔
|
|