خوراک کی متواتر فراہمی کیلئے سینیگال کی حکومت نے چاولوں کے 800 تاجروں کو منافع خوری کے الزام میں بھاری جرمانہ عائد کر دیا
خوراک کی متواتر فراہمی کیلئے سینیگال کی حکومت نے چاولوں کے 800 تاجروں کو منافع خوری کے الزام میں بھاری جرمانہ عائد کر دیا
اردو ٹائمز(نیوز) سینیگال نے چاول کے 800 تاجروں کو منافع خوری پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا۔ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور بحران کے پیش نظر حکومت نے شہریوں کی سہولت کے لئے پورے ملک میں منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف زبردست مہم شروع کی ہوئی ہے۔ ڈاکار میں مہنگے چاول اور غذائی اشیاءفروخت کرنے والوں کے خلاف جاری مہم میں 2000ءدکانوں پر چھاپے مار کر 3 لاکھ ٹن چاول قبضہ میں لے لیا اور دکانداروں کو ہزاروں ڈالر جرمانہ کیا گیا۔ 12 اپریل کے بعد سے سینیگال کی حکومت نے چاول کی قیمت 270 تا 280 فرانک فی کلوگرام رکھی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے کئے جا رہے ہیں۔ سینیگال کی حکومت نے اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف اے او عالمی سطح پر خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کر رہا۔ سینیگال اپنی خوراک کی زیادہ تر ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے