پاکستان افغانستان میں تشدد کے خاتمے کیلئے مزید اقدامات اٹھائے: کونڈولیزارائس
پاکستان افغانستان میں تشدد کے خاتمے کیلئے مزید اقدامات اٹھائے: کونڈولیزارائس
اردو ٹائمز(نیوز) امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزارائس نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں تشدد روکنے کے لئے مزید اقدامات اٹھائے‘ تشدد کے ذرائع پاک افغان سرحدی علاقوں میں روپوش ہیں‘ وہ جمعہ کو آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں صحافیوں سے گفتگو کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین سے عسکریت پسندوں کی جانب سے افغانستان پر حملے روکنے کے لئے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ دونوں ممالک کے سرحدی علاقے افغانستان تشدد کے ذریعے ہیں اور یہاں چھپے انتہا پسند افغانستان کو غیرمستحکم کر رہے ہیں ہم سمجھتے ہیں صوبہ سرحد کے قبائلی علاقے مشکل علاقے ہیں لیکن عسکریت پسندوں کو منظم‘ وہاں سے حملے کرنے کی منصوبہ بندی اور پناہ گاہیں اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ لہٰذا پاکستان کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کو یہ سخت پیغام ایسے وقت دیا گیا ہے جب صرف چند دنوں میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی وائٹ ہا¶س میں امریکی صدر سے ملاقات کرنے والے ہیں پاکستان کی قیادت تواتر کے ساتھ امریکہ پر واضح کرتی رہی ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عسکریت پسندوں کے حملے روکنے کے لئے پاک افغان سرحد پر مزید حفاظتی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی کارروائیاں روکنے کے لئے اسلام آباد کو تعاون میں اضافہ کرنا ہو گا۔ اس موقع پر آسٹریلوی وزیر خارجہ سٹیفن سمتھ نے امریکی ہم منصب کی تجویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ سرحدی علاقے دہشت گردی کا مرکز نہیں رہے ہیں اور آسٹریلیا کو پاکستان کے قبائلی علاقوں کی صورتحال پر تشویش ہے ہمیں یقین ہے کہ ہم اس معاملے کو صرف پاکستان اور افغانستان کا دوطرفہ معاملے کے طور پر نہیں چھوڑ سکتے بلکہ یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔