گریبان.... منو بھائی
ہندوستان کی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اگلے مہینے مئی 2008ءمیں ہندوستان پوری دنیا میں چین کے بعد موبائل فون کی سب سے بڑی مارکیٹ بن جائے گی جہاں 25 کروڑ ساٹھ لاکھ سے زیادہ موبائل فون ہوں گے۔ ہندوستان میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد امریکہ میں سیل فون استعمال کرنے والوں سے بڑھ جائے گی۔ ہندوستان کے ہر چوتھے باشندے کے پاس موبائل فون ہو گا جبکہ ہر چوتھے ہندوستانی کے پاس کھانے کو مناسب خوراک، پہننے کو موزوں کپڑے اور جوتے نہیں ہوں گے۔
دنیا کی اس نئی بیماری یا مصیبت یعنی موبائل فون کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ غربت کی طرح پھیلنے والا کاروبار ہے جس کی سب سے زیادہ تیزی ہندوستان میں دکھائی دیتی ہے جہاں ہر مہینے 85 لاکھ نئے خریدار پیدا ہو رہے ہیں۔ ہندوستان میں موبائل استعمال کرنے والوں کی موجودہ تعداد 25 کروڑ ہے جبکہ امریکہ میں سیل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد 25 کروڑ ساٹھ لاکھ ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ موبائل فون دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین میں استعمال ہوتے ہیں جوکہ 25 کروڑ ساٹھ لاکھ سے زیادہ ہیں۔ اس معاملے میں امریکہ دوسرے نمبر پر اور ہندوستان تیسرے نمبر پر ہے مگر اگلے مہینے یہ پوزیشن تبدیل ہو جائےگی اور ہندوستان میں موبائل فون استعمال کرنے والے دنیا کی واحد اور اکلوتی سپر پاور کے سیل فون استعمال کرنے والوں سے زیادہ ہوجائیں گے۔
ہندوستان کا پوری دنیا میں چین کے بعد موبائل فون کی سب سے بڑی منڈی بن جانا ناہموار، غیر مناسب اور کسی منصوبہ بندی کے بغیر احمقانہ ترقی کی مثال ہے جوکہ ترقی کی بجائے ترقی معکوس یا تنزلی سمجھی جاتی ہے۔ اس ناہموار ترقی کو دو قدم آگے اور تین قدم پیچھے جانے والی ترقی بھی کہا جاتا ہے۔ سب دنیا جانتی ہے کہ ہندوستان میں خواندگی کی شرح امریکہ کی خواندگی کے شرح کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے۔ مشکل سے ہندوستان کے ساٹھ فیصد لوگ پڑھنے لکھنے کے قابل ہیں اور ہندوستان کی پڑھی لکھی زنانہ آبادی کا تناسب 48 فیصد سے بھی کم ہے۔ امریکہ اور ہندوستان کے لوگوں کے معیار زندگی اور مالی حالات کو دیکھا جائے تو زمین آسمان کا فرق ہے چنانچہ ہندوستان میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد امریکی لوگوں سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے مگر ہندوستان کی آبادی اور وہاں کے لوگوں کی روزگار کے لئے بھاگ دوڑ کو دیکھا جائے تو یقین ہو جاتا ہے کہ ہندوستان میں موبائل استعمال کرنے والوں کی تعداد امریکی باشندوں سے زیادہ ہو گی۔
کچھ عرصہ قبل کسی امریکی ڈپلومیٹ نے حیرت ظاہر کی تھی کہ عام لوگ پاکستان کو غریب ملک سمجھتے ہیں لیکن اس کی سڑکوں پر چلنے والی نئی نکور گاڑیوں کو دیکھا جائے تو دور دور تک غربت دکھائی نہیں دیتی۔ امریکی ڈپلومیٹ کو بتایا گیا تھا کہ کسی ملک کی امارت یا غربت کا اندازہ اسکی سڑکوں پر چلنے والی کاروں کی مالیت سے نہیں ہوتا ان سڑکوں کی حالت سے ہوتا ہے جن پر یہ نئی نکور کاریں چلتی ہیں۔ نئی نکور کاریں تو بلیک منی سے بھی خریدی جا سکتی ہیں مگر سڑکیں کالی دولت سے نہیں سفید سرمائے سے تعمیر ہوتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ہندوستان کی موبائل فون کی منڈی کا بھی ہے کہ وہاں کی حکومت موبائل فون استعمال کرنے والوں کی ضرورت کے مطابق ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس فراہم نہیں کر سکتی اور حکومت کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں کہ وہ خواندگی کی شرح کو 100فیصد یا 80فیصد تک لے جا سکے۔ ہندوستان کے حکمرانوں کے اوپر تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کا جو دباﺅ ہے وہ اسے اپنی منڈی کو زیادہ سے زیادہ وسعت دینے کی کوشش کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ہندوستان کے حکمران اپنی سرتوڑ کوششوں کے باوجود موبائل فون استعمال کرنے کےلئے موزوں نیٹ ورکس ملک کی 60فیصد آبادی تک نہیں پھیلا سکتے یہاں تک کہ ممبئی، بنگلور اور دہلی جیسے ترقی یافتہ علاقوں میں بھی موبائل فون استعمال کرنے کی سہولتیں ملک کی ساٹھ فیصد آبادی تک نہیں پہنچ سکتیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کے غربت کی لکیر سے نیچے کے دیہی علاقوں میں ٹیلی کمیونیکیشن کی سہولتیں کیسی ہونگی۔ جن علاقوں میں لوگ اپنی ضروریات زندگی خریدنے کےلئے اپنے گردے فروخت کرنے اور جسم بیچنے پر مجبور ہوں اور اجتماعی خودکشی کے ذریعے زندگی کی مشکلات سے نجات پانے میں مصروف ہوں وہاں موبائل فون استعمال کرنے کا شوق اپنی منڈی کیسے پھیلا سکتا ہے۔
عالمی سطح پر موبائل فون کا کاروبار کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہندوستان کے اندر اپنی کمائی کا حجم بڑھانے کے لئے نیٹ ورکس پھیلانے کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ اگلے پانچ سالوں کے دوران اس سلسلے میں ہندوستان میں پچاس کروڑ ڈالر خرچ کئے جائیں گے اور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پچاس کروڑ ڈالر خرچ کرنے والے کم از کم پانچ سو کروڑ ڈالر کمانے کا انتظام تو کر ہی رہے ہوں گے۔ مغرب کی ہندوستان میں یہ سرمایہ کاری محض ہندوستان کی مدد کے لئے نہیں ہو سکتی۔ مغرب ہر معاملے میں اپنے فائدے اور مفاد کا سوچتا ہے، جو خرچ کرتا اس سے سو گنا زیادہ کماتا ہے۔