سہ جہتی ماڈلوں کو دنیا کے تیز ترین کمپیوٹروں پر چلا
کر تجربہ گاہوں میں کام کرنے والے طبیعات دانوں نے ایک ایسا ریاضیاتی ضابطہ تیار
کیا ہےجس نےسیارگانی انقلاب کے گرد واقع پر اسراریت کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ کءی
سالوں سے طبیعات دان یہ کہہ رہے تے کہ کم حجم کے سیارے جو سورج سے صرف ایک یا
دو گنا بڑے ہوں گے(3ایچ ای)کی بہت بڑی
مقدار پیدا کر رہے ہیں۔ جب کم حجم والے سیارے اپنے مرکزی حصوں میں ہاءیڈروجن خارج
کرتے ہیں تو آگ کے بڑے برے گولے بن جاتے
ہیںان کے مادے کی زیادہ تر مقدار خارج ہوجاتی ہے اور وہ کاءنات کو ہیلیم کےاس حلقے
آءسوٹوپ سے بھر دیتے ہیں۔تا ہم یہ بھرنا جب بگ بینگ کی پیش کوءیون سے ملتا ہے تو مشاہدات سے تذاد کھانے لگتا ہے۔یہ فرض کرتے ہوے
کے تمام سیارے تیزی سے گردش کر رہے ہیںساءنس دانوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ
سیارے (3ایچ ای) کو تباہ کرتے جارہے ہیں۔تا ہم یہ نظریہ بھی انقلاب کے نتاءج کو بگ
بینگ اور دوسرے مشاہدات سے متفق کروانے مین ناکام رہا ہے۔
اب آگ سے بڑے بڑے گولوں کو کلی طور
پر سہہ جہتی ہاءیڈرو داءمنک ضابطے کا نمونہ بنا کر لیور مور کے محقوقوں پیٹر ایگل
ٹن اور ڈیوڈ ڈءیر بارن نے پہچان لیا ہے کہ کس طرح کم حجم والے سیاروں کا میکنیزم
سیاروں کےپپھلنے پھولنے کے دوران پیدا ہونے والے (3ایچ ای) کو تباہ کرتا ہے۔ انہوں
نے معلوم کیا ہے کہہ ہیلیم کے مرکزی حصے سے تھوڑا سا باہر جلنے والا (3ایچ ای) جسے
پہلے غیر متحرق سمجھا جاتا تھا ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے جو نءے دریافت شدہ
گھلنے ملنے والے میکنیزم کو چلا رہا ہے مادے کے بلبلے جو تھوڑا بہت ہاءیڈروجن اور
کافی حد تک ہیلیم (ایچ ای3) سے بھرے ہوتے ہیں کسی سیارے کی سطح پر تیرنے لگتے ہیںاور
زیادہ جلنے کی وجہ سے کوءی (ایچ ای 3) سے بھرا دوسرا مادہ ان کی جگہ لے لیتاہے۔اس
طرح تیز گردش جیسے اضافی حالات کی ضرورت
محسوس کیے بغیرسیارے (ایچ ای3) کی زیادتی ختم کرتے رہتے ہیں۔
یہ تحقیق ساءنس ایکسپریس کے 26 اکتوبر2006 والے شمارے
میں موجود ہے