|
اردو ٹائمز (نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپر مین آصف علی زرداری نے ایک بار پھر اپنے موقف کو دوہراتے ہوئے کہا کہ سانحہ لیاقت باغ کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرائی جائیں۔ ق لیگ کوئی جماعت نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہے۔ بھٹو ایک نظریے کا نام ہے جسے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ مشرف کا بے نظیر کو اپنی موت کا ذمہ دار ٹھہرانا جمہوری کاز کی توہین ہے نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ شہید جمہوریت بے نظیر بھٹو نے شہادت سے قبل جمہوریت بہترین انتقام ہے جو پیغام دیکر گئی ہیں پیپلز پارٹی اس پر قائم ہے اور اسی پیغام کو آگے لیکر جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کو سیاسی رنگ دلانے کا الزام عائد کرنے والے یہ بھول گئے کہ ان کی شہادت ایک سیاسی جلسے میں اور انتخابی مہم کے دوران ہوئی اور یقیناً اس شہادت کو سیاست سے علیحدہ نہیں کیاجاسکتا تاہم ہماری خواہش ہے کہ پرامن طریقے سے بے نظیر بھٹو کے جمہوری مشن کو آگے بڑھایا جائے اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہمارے دکھوں کا مداوا انتخابات نہیں لیکن اس سے اتنا ضرور ہوگا کہ عوام کے دکھ تقسیم ہونگے اور پیپلزپارٹی جب انتخابات میں کامیاب ہوجائے گی تو عوام یہ سمجھیں گے کہ ہمیں وہ حق مل گیا جس کیلئے بے نظیر نے قربانی دی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے شفاف انتخابات ممکن نہیں چونکہ ان کو معلوم ہے کہ اگر انتخابات شفاف ہوئے تو پیپلز پارٹی دوتہائی اکثریت حاصل کر لے گی تاہم موجودہ صورتحال میں بھی ہم خیال جماعتوںسے ملکر بھاری اکثریت حاصل کرینگے اور ق لیگ کا صفایا کرینگے۔ بے نظیر کی شہادت کے بعد پارٹی امور کے تمام فیصلے باہمی مشاورت سے ہوتے ہیں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل پارٹی قائدین کے درمیان باہمی مشاورت ہوتی ہے میں اکیلا پارٹی امور پر کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ صدر مشرف نے انٹرویو میں کہا تھا کہ بے نظیر کی موت شاہد گولی لگنے کا نتیجہ ہو اور گاڑی سے سر باہر نکالنے پر وہ اپنی موت کی خود ذمہ داری ہیں اس حوالے سے سوال پر اپنے ردعمل میں آصف زرداری نے کہا کہ مشرف کی جانب سے گولی لگنے کے امکان بارے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی عہدیدار حقائق چھپا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کم وقت میں کئی بیان تبدیل کئے گئے ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قتل کے محرکات پرپردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ اس سے قبل وہ اکثر کہتے رہے کہ محترمہ کی موت گاڑی کا سن روف لگنے سے واقعہ ہوئی ہے آصف زرداری نے کہا کہ میرے خیال میں یہ بیانات نہ صرف حقائق کو چھپانے کے لئے دیئے گئے بلکہ ذمہ داری کسی اور کے کندھوں پر ڈالنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ایک سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ مشرف کی طرف سے بے نظیر کو اپنی موت کا ذمہ دار ٹھہرانا جمہوریت کے کاز کی توہین ہے حکمران ایک ایسی شخصیت کی حفاظت نہیں کرسکتے جو کہ ملک کو متحد کرنے کی کوشش میں مصروف تھیں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مشرف کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ اسامہ یا القاعدہ نیٹ ورک محترمہ کے قتل میں ملوث ہیںانہوں نے کہا کہ الیکشن میں ہمارا مقابلہ القاعدہ والوں سے نہیں ہے جبکہ القاعدہ خود بھی اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرچکی ہے دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو نے کہا کہ پاکستان سے بھٹو ازم کو ختم نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ وہ عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ کسی کے نام کے ساتھ بھٹو لگا کر بھٹو سے اظہار ہمدردی نہیں کی جا سکتی بلکہ اس کیلئے ضروری ہے کہ بھٹو کے نظریات پر بھی عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو صرف بھٹو خاندان کے ہی نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کے نظریات کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ بھٹو کے وارث ہم ہیں بلکہ ہمارا منشوریہ ہے کہ پوری قوم بھٹو کی وارث ہے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ بے نظیر بٹھو سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ پر لیکن اس کی شہادت پر دکھ ہے۔ بے نظیر کے بچے اورمیرے بچوں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ ابھی بلاول اور ذوالفقار جونیئر کی عمریں کم ہیں۔پانچ سال تک ان کے پاس و قت ہے کہ جب تک دونوں اپنی تعلیم مکمل کر کے فارغ ہو جائیں تو اگر دونوں کے درمیان کوئی سمجھوتہ ہو جاتا ہے تو اس میں بہتری کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور شاید تب وہ لوگ بھی نہیں رہیں گے جو یہ نہیں چاہتے کہ دونوں کے درمیان اتفاق ہو۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بے نظیر کی شہادت کے بعد فوری انتخابات کے حق میں نہیں تھی اس ماحول میں انتخابات میں حصہ لینا درست نہیں ہوگا اورابھی انتخابات کے بعد بہت سے مشکل مراحل آئینگے جن کا پیپلز پارٹی کو سامنا کرنا پڑے گا۔
|
|