|
بین الاقوامی خبریں
|
|
Tuesday, 03 November 2009 01:38 |
|
دبئی : سعودی عرب کی کنگ سعود یونیورسٹی کا شمار دنیا کی پانچ سو اعلی تعلیمی درسگاہوں میں کیا جانے لگا۔ عالمی جامعات کی شنگھائی ریٹنگ میں عرب دنیا سے کنگ سعود یونیورسٹی واحد تعلیمی ادارہ ہے کہ جسے دنیا کی پانچ سو بہترین یونیورسٹیوں میں شامل کیا گیا ہے۔ یونیورسٹیوں کے بارے میں شنگھائی ریٹنگ کو تعلیمی حلقوں میں اعتماد کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جامعات کے بارے میں شنگھائی ریٹنگ کو عالمی شہرت حاصل ہے۔ اس ریٹنگ میں ان تعلیمی اداروں اور انسٹی ٹیوٹ کو بھی شامل کیا گیا تھا کہ جن سے وابستہ افراد یا فارغ التحصیل طلبہ مختلف شعبوں میں نوبل انعام بھی جیت چکے ہیں۔ دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست مرتب کرنے کے لئے شنگھائی ریٹنگ نے دو ہزار یونیورسٹیوں کا جائزہ لیا۔ ان میں ایک ہزار جامعات پر مشتمل فہرست تیار کی گئی جو اپنے تعلیمی معیار کے حوالے سے بین الاقوامی اسٹینڈرڈ پر پوری اترتی تھیں۔ بعد میں ایک ہزار میں سے صرف پانچ سو بہترین جامعات کو شنگھائی ریٹنگ میں شامل کیا گیا۔ اس مرتبہ اس فہرست میں سعودی عرب کی کنگ سعود یونیورسٹی واحد ایسا تعلیمی ادارہ تھا کہ جو عرب دنیا سے اس فہرست میں شامل کیا گیا۔ ادھر دوسری جانب ریاض میں قائم کنگ سعود یونیورسٹی اور نیو یارک اسٹیٹ یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر طب کے شعبے میں ایک ایوارڈ حاصل کیا ہے۔ یہ ایوارڈ سرطان کے مرض کے متنوع علاج دریافت کرنے کی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا گیا ہے۔ سعودی خبر رساں ایجنسی نے ممبر ریسرچ ڈاکٹر عادل المقرن کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسلسل تحقیق کے بعد مدافعتی نظام کے تحت رسولیوں کا علاج دریافت کیا گیا ہے۔ اس ایجاد کو ماہرین اور ڈاکٹروں نے بہت زیادہ سراہا ہے کیونکہ یہ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کے ساتھ ملکر کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا اس بین الاقوامی معیار کی تحقیق کے لئے فنڈ محمد حسین العمودی چئر کی جانب سے فراہم کیا گیا۔ کنگ سعود یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں قائم چیئرز جامعہ میں بین الاقوامی معیار کی تحقیق کو فروغ دینے کا حصہ ہیں۔ اس سے قبل سعودی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد العنقری، جامعہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹرعبد اللہ العثمان، بین الاقوامی طبی تحقیق میں شریک محقق اور نیویارک اسٹیٹ یونیورسٹی کے نمائندے نے سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین سے ملاقات کی۔
|