ٹُک دیکھ بہاریں جاڑے کی

اس تحریر کا عنوان ہم نے اردو نظم کے ممتاز شاعر نظیر اکبر آبادی کی ایک نظم سے تحریف کرتے ہوئے لیا ہے۔ نظیر اردو زبان کے بڑے شاعر تھے اور انہوں نے متنوع موضوعات پر دل پذیر نظمیں لکھیں تھی۔ انہوں نے چاروں موسموں پر جو نظمیں لکھیں تھیں ان میں سے ''جاڑے کا موسم'' والی نظم کی چند سطریں ملاحظہ ہوں۔ ابھی حال ہی میں انتظار حسین صاحب نے بھی ایک کالم میںاسی نظم سے استفادہ کیا ہے۔

 

ہر ایک مکاں میں سردی نے آ باندھ دیا ہو یہ چکر
جو ہر دم کپ کپ ہوتی ہو، ہر آن کڑا کڑ اور تھر تھر
پیٹھی ہو سردی رگ رگ میں اور برف پگھلتا ہو پتھر
جھڑ باندھ مہاوٹ پڑتی ہو اور تسپر لہریں لے لے کر
سناٹا باد کا چلتا ہو، تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
ہر چار طرف سے سردی ہو اور صحن کھلا ہو کوٹھے کا
چھڑکائو ہوا ہو پانی کا اور خوب پلنگ بھی ہو بھیگا
ہاتھوں میں پیالہ شربت کا، اور آگے ہو فراش کھڑا
فراش بھی پنکھاجھلتا ہو، تب دیکھ بہاریں جاڑے کی

آج کل جس جاڑے کے طوفان شمالی امریکہ میں چل رہے ہیں، ان میں اگر میاں نظیر موجود ہوتے تو ان کے لفظ برف ہو چکے ہوتے، زبان اکڑ چکی ہوتی اور وہ خود بھیگے پلنگ پر شربت پیتے پیتے قلفی بن چکے ہوتے اور ان کا فراش تو ہوا کے پہلے ہی جھونکے پر پنکھے سمیت اُڑ چکا ہوتا۔ ہاں یہ بھی ہو سکتا کہ اگر میاں نظیر ہندوستان کے بجائے کینیڈا میں ہوتے تو اپنی نظم کی لطافتوں کے ساتھ جاڑے کی بہار کسی اور رنگ میں دکھا رہے ہوتے۔

ہم نے جب ان ملکوں کو چھوڑ کر جہاں پچاس درجہ سنٹی گریڈ کی گرمی معمول تھا، اس کینیڈا کا رخ کیا جس کے کچھ علاقوں میں منفی پچاس درجہ تک کی سردی عام ہوتی ہے تو دور تلک یاد ِ وطن ہم کو سمجھانے تو آئی تھی لیکن یہاں کی سردی دیکھ کر بحر الکاہل کے مشرقی ساحلوں ہی سے پلٹ گئی تھی۔
اس ہفتہ جاڑے کی ایسی عجیب لہر نے شمالی امریکہ والوں کو جکڑا ہے کہ قطب شمالی سے چلتی ہوئی ہوا امریکہ کے جنوبی ریگستانوں کو بھی ٹھٹھرا گئی ہے۔ چونکہ قطب شمالی کینیڈا کا تاج ہے اور  برفانی ہوایئں یہاں ہی سے گزر کر امریکہ کا رخ کر رہی ہیں تو اللہ جھوٹ نہ بلوائے امریکہ کے چھوٹے چھوٹے بچے کینیڈا کو کوس بھی رہے ہیں اور کینیڈا میں سردی کی ماں سے سردی کو واپس بلانے کی دہائی دے رہے ہیں۔

میاں نظیر  تواس حال کو لکھنے کینیڈا نہیں آئے لیکن اردو کے ایک اور معروف شاعرحضرتِ جون ایلیا ایک بار، جاتی خزاں میں کینیڈا ضرور آئے تھے اور ایک صبح اپنے میزبانوں کو، ندا فاضلی کو، رسا چغتائی کو  اور دیگر احباب کو بتائے بغیر کینیڈا کی ست رنگ پت جھڑ دیکھنے کے شوق میں ململ کے کرتے میں باہر نکل  گئے تھے اور پھر راستہ بھی بھٹک گئے تھے۔ جب وہ بہت دیر تک واپس نہیں آئے تو ہم انہیں گاڑی لے کر ڈھونڈنے نکلے تو وہ تھر تھر کرتے ہوئے ایک گلی کے کونے میں برف کا پتلا بنے شاید یہ شعر  پڑ رہے تھے کہ'' حال یہ ہے کہ خواہشِ پرسشِ حال بھی نہیں''، ہم نے گھر آ کر انہیں خون گرم کرنے والا شربت پلایا اور جب ان میں حرارت واپس آئی تو وہ یہ شعر سنانے لگے کہ، ''میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس۔۔ خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں۔

آج کل شمالی امریکہ میں جس سردی کا واویلا ہے اس نے اس ترقی یافتہ ملک کو غیر ترقی یافتہ ملکوں کی صفوں میں شامل کردیا ہے۔ جگہ جگہ بجلی اڑ چکی ہے جوکئی کئی دن تک واپس نہیں آپارہی، آمدورفت کاکاروبار معطل ہے۔ برف پرانسان تو انسان گاڑیاں پھسلی جارہی ہیں اور ہر گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا ٹکرا کر ''من تو شدم تو من شدی'' کے گیت گارہی ہے۔
جو لوگ پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ وغیرہ سے یہاں تازہ تازہ وارد ہوئے ہیں ، اول تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کینیڈا کے لوگ سوئٹروں اور کوٹوں اور شالوں کے نیچے بھی کپڑوں کی کئی کئی تہیں کیوں پہنے پھرتے ہیں لیکن قطبِ شمالی کی تازہ ہوا کا جھونکا جب ان کے دل کا قرار لے جاتا ہے، تو وہ بھی موٹے موٹے سوئٹر تلاش کرتے پھرتے ہیں۔

ہمارے میاں نظیر کی طرح مغرب کا بلکہ دنیا کا ایک بڑا شاعر شیکسپیئر بھی کینیڈا تو نہیں آیا تھا لیکن اس نے بھی یورپ کی سردی پر ایک نظم انگریزی میں لکھی تھی جس کا لطف اصلی زبان ہی میں آئے گا، ملاحظہ ہو

Winter
(From "Love's Labour's Lost")
When icicles hang by the wall,
    And Dick the shepherd blows his nail,
And Tom bears logs into the hall,
    And milk comes frozen home in pail,
When blood is nipp’d and ways be foul,
Then nightly sings the staring owl,
Tu-whit;
Tu-who, a merry note,
While greasy Joan doth keel the pot.
When all aloud the wind doth blow,
    And coughing drowns the parson’s saw,
And birds sit brooding in the snow,
    And Marion’s nose looks red and raw,
When roasted crabs hiss in the bowl,
Then nightly sings the staring owl,
Tu-whit;
Tu-who, a merry note,
While greasy Joan doth keel the pot.

اب یہ کام صاحبانِ ادب کا ہے کہ وہ نظیر کی نظم اور شیکسپیر کی اس نظم  کاتقابلی جائزہ لیں۔ لطف دونوں میں ہمارے خیال میں تو برابر ہی کا ہے۔ ہمیں تو نظیر کی نظم بھی کمال کی لگی اور شیکسپیئر بھی ایک صاحبِ کمال تھا۔

ہمارے کینیڈا کے لوگ ہر سال کینیڈا کی سردی میں پریشان ہوتے رہتے ہیں اور انہیں گزشتہ کسی سال کی ہلکی سردی یاد آرہی ہوتی ہے، آج یہاں کے قومی ریڈیو پر موسم کے ایک ماہر نے سب کو یہ یاد دلایا کہ ''لوگو یہ نہ بھولو کہ تم قطبِ شمالی کے سائے میں رہتے ہوئے، ہندوستا ن یا دوبئی میں نہیں'' اور قطبِ شمالی وہ جگہ ہے جہاں برفانی ریچھ رہتے ہیں۔ برفانی ریچھ پر یاد آیا کہ امریکہ کے لوگ اس کڑاکے کی سردی کو کینیڈا کے برفانی ریچھ کا حملہ قرار دے رہیں ہیں اور کینیڈا والے خوش ہیں کہ وہ کبھی کبھی ہی تو امریکہ والوں کو دہلانے میںکامیاب ہوتے ہیں، سو وہ موسم کو دعایئں دے رہے رہیں اور برفانی آدمیوں کے گلے میں ہار ڈال رہے ہیں اور اس کے قدموں میں سوغاتیں رکھ رہے ہیں۔
اور ہم اس سردی میں یوں خوش ہیں کہ اس بہانے ہمیں میاں نظیر اور شیکسپیئر کو یاد کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ آپ بھی کوئی کتاب اٹھایئں اور کسی انگیٹھی  کے قریب بیٹھ جایئں۔

Urdutimes Special Type: 

Add new comment

Filtered HTML

  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Allowed HTML tags: <a> <em> <strong> <cite> <blockquote> <code> <ul> <ol> <li> <dl> <dt> <dd>
  • Lines and paragraphs break automatically.

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.


Copyrights © 2014 Urdutimes.com
Urdu News and Urdu Khabrain . Largest Urdu News Website in America.