پاکستان طالبان کا براہ راست معاون، برطانوی میڈیا کا الزام
Wed, 02/01/2012 - 10:37 — waseem
لندن: برطانوی میڈیا نے اپنی رپورٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کو پاکستان کی براہ راست معاونت حاصل ہے اور نیٹوافواج کے انخلا کے بعد طالبان افغانستان پر دوبارہ قبضہ کرسکتے ہیں۔ یہ رپورٹ پکڑے جانے والے چار ہزار طالبان، القاعدہ کے ارکان، غیر ملکی جنگجوں اور شہریوں سے کیے گئے تقریبا ستائیس ہزار انٹرویوز پر مبنی ہے۔ ہزاروں افراد سے تفتیش پر مبنی اس رپورٹ میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کا زور ٹوٹا نہیں ہے اور انہیں افغانستان کے عوام میں بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہے۔رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان کو طالبان کے اعلیٰ رہنماوں کے ٹھکانوں کا علم ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کیپٹن جان کربی نے کہا کہ ہمیں ایک عرصے سے آئی ایس آئی کے کچھ حلقوں اور شدت پسند تنظیموں کے درمیان رابطوں پر تشویش رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ دفاع نے نیٹو کی مذکورہ رپورٹ نہیں دیکھی۔ یہ رپورٹ پکڑے گئے چار ہزار طالبان، القاعدہ، غیرملکی جنگجووں اور شہریوں کے تقریبا ستائیس ہزار انٹرویو پر مبنی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دستاویز براہ راست مزاحمت کاروں سے بات چیت کر کے حاصل کی گئی ہے اس لیے اسے صرف معلومات سمجھا جائے نہ کہ تجزیہ۔رپورٹ میں ثابت کیا گیا کہ نیٹو افواج کے جلد افغانستان چھوڑنے کے لیے طالبان دانستہ طور پر چند علاقوں میں حملے کم کر رہے ہیں اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی ایک منظم مہم چلا رہے ہیں۔ رپورٹ میں افغان عوام میں طالبان کو حاصل مقبولیت کا بھی ذکر ہے رپورٹ کا کہنا ہے کہ جن علاقوں سے نیٹو افواج کا انخلا ہو چکا ہے، ان علاقوں میں طالبان اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ اکثر اوقات یہ اضافہ حکومتی اہلکاروں کی جانب سے کسی مزحمت کے بغیر بلکہ چند علاقوں میں ان کی عملی حمایت سے ہوا ہے۔ افغانستان میں تعینات نیٹو کی ایساف افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جمی کمنگز کا کہنا ہے کہ یہ ایک خفیہ دستاویز تھی اور اسے عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جانا تھا۔ انہوں نے دستاویز کے مندرجات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات طے شدہ ہے کہ ایسی دستاویزات خفیہ ہوتی ہیں اور ان پر کسی حالت میں بھی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا ۔


Post new comment