ولیم ہیگ کا دورہ نیروبی: 21 سال بعد سفیر کی تعیناتی
Sat, 02/04/2012 - 06:56 — niyar
نیروبی: برطانیہ نے 21 سال سے جنگ زدہ صومالیہ کیلئے پہلا سفیر مقرر کر دیا ہے۔ یہ بات وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے ایسے وقت میں کہی جبکہ وہ انارکی کے شکار دارالحکومت موغا دیشو کا ایک سنگ میل دورہ کر چکے ہیں۔ ہیگ نے ایک بیان میں کہا ''مجھے خوشی ہے کہ 19 سال میں پہلا برطانوی وزیر خارجہ ہوں جس نے موغا دیشو کا دورہ کیا ہے۔ یہ صومالیہ کے ملک اور عوام سے برطانیہ کے عزم کی عکاسی ہے''۔ ''صومالیہ سے ہماری طویل وابستگی کا ایک اور اظہار یہ ہے کہ برطانیہ کے نئے سفیر میٹ بانے صومالی صدر شیخ شریف کو سفارتی اسناد پیش کی ہیں''۔ ہیگ پہلی اعلیٰ ترین شخصیت اور انتہائی سینئر برطانوی افسر ہیں جنہوں نے دو عشروں میں صومالیہ کے دارالحکومت کا دورہ کیا ہے۔ آخری برطانوی سفیر نے 21 سال قبل اس وقت صومالیہ چھوڑا تھا جب 1991ء میں صدر سیاد باری کی معزولی کے بعد افریقہ کے اس ملک میں بدامنی پھیلی۔ اس وقت سے مسلسل خانہ جنگی سے عسکری گروہوں کو پھیلنے پھولنے کا موقع ملا اور اسلامی عسکریت پسند اور قزاق گروہ جگہ جگہ اپنا قبضہ قائم کئے ہوئے ہیں۔ نیروبی میں برطانوی سفارتخانہ کے ترجمان نے کہا کہ نئے سفیر جو قبل ازیں صومالیہ کیلئے برطانیہ کے اعلیٰ نمائندے تھے کینیا کے دارالحکومت میں ہی قیام کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ وہ اس وقت موغا دیشو جائیں گے اور سفارتخانہ کھولیں گے ''جب سلامتی کی صورتحال اجازت دے گی''۔ یہ تقرری اور ہیگ کا اچانک دورہ 23 فروری کو مجوزہ لندن کانفرنس سے قبل ہوا ہے جس کا مقصد اس بحران کے شکار ملک کے مسائل حل کرنا ہے۔


Post new comment