وزیراعظم کا خط نہ لکھنا توہین نہیں،اعتزاز
Sun, 02/05/2012 - 00:31 — niyar
اسلام آباد: این آر او ر توہین عدالت کیس میں وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سویلین اداروں میں تنائو اور کھینچائو ختم نہ ہو اتو باوردی ادارہ فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ وزیراعظم توہین عدالت کے موڈ میں ہیں نہ خط نہ لکھ کر توہین کی ہے آئین استثنیٰ دیتا ہے توہمیں آئین کی حکمرانی کو برداشت کرنا پڑے گا ' دنیا کی 7 ارب آبادی میں یہ استثنیٰ 198 سربراہان مملکت کو حاصل ہے گیلانی پہلے شخص نہیں عدالت کی زد میں 5 پاکستانی وزرائے اعظم آئے ہیں۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اعتزازاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے توہین عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تیاری کر رہے ہیں جو جامع ہو گی تاہم اپیل کا حتمی فیصلہ وزیراعظم خود کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں ابھی میرے دلائل باقی تھے۔ عدالت نے جلد بازی میں فیصلہ کیا صدر کو استثنیٰ حاصل ہے ' خط لکھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن خط لکھ کر وزیراعظم نے توہین عدالت نہیں کی اگر خط لکھا گیا اور سوئس حکومت نے عمل نہ کیا تو عدالت کو خفت کا سامنا بھی کرنا پڑے گا اعتزازاحسن نے کہا کہ ججوں کو بچوں سمیت گرفتار کرنا توہین عدالت ہے وزیراعظم نرم گفتار آدمی ہے جو خود عدالت میں پیش ہوا' اس نے توہین نہیں کی انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو پر بھی توہین عدالت کا مقدمہ بنا محمد خان جونیجو' بے نظیر بھٹو اور نواز شریف پر بھی توہین عدالت کے مقدمات بنے اب سویلین اداروں میں تنائو اور کھینچائو ختم ہونا چاہئے تنائو سے تیسرا باوردی ادارہ فائدہ اٹھاتا ہے انہوں نے کہا کہ اس عدلیہ نے بڑے معتبر فیصلے کئے ہیں لیکن ہر فیصلہ اچھا نہیں ہو سکتا ججز انسان ہیں ان سے بھی غلطی ہوسکتی ہے


Post new comment