وزیراعظم نے خط نہ لکھ کر توہین عدالت نہیں کی: اعتزاز




اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے راہنما اور معروف قانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو ہتھکڑی لگنے کی فضا بنانے والوں کو مایوسی ہوئی۔ اٹارنی جنرل ہوتا تو عدالت کو لکھ کر کہتا کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو ہٹانا وزیراعظم کی صوابدید ہے گارنٹی نہیں دے سکتا۔ پی سی اوکا حلف اٹھانے والے جج نہیں رہے افتخار چوہدری آئینی اعتبار سے پی سی او جج نہیں ہیں۔ نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالتی امور کو نہ سمجھنے والوں نے ایک فضا بنا دی تھی کہ وزیراعظم کو پیشی پر ہتھکڑی لگے گی ا ور صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوں گے انہیں اس دن مایوسی ہوئی انہوں نے کہا کہ این آر او فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ پہلے سے تیار ہے مقدمات میں عدالتوں نے پیش رفت کی ہے اور چند مقدمات پر نیب ڈیل کر رہی ہے میں جس مقدمہ میں پیش ہو رہا ہوں وہ خط سے متعلق ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ 9 مارچ کے واقعے کے بعد مشرف کمزور ہو گیا اور پہلے سے تیار ماڈل بدل گیا اسی تبدیلی کے باعث مشرف وردی اتارنے پر مجبور ہوا۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس تقریبات میں کم جاتے ہیں صرف بار ایسوسی ایشنز میں جا کر خطاب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے ایسے احکامات نہیں آنے چاہئیں جن پر عمل نہ ہو سکے عدالت کے احاطہ میں احتجاج کو نہیں روکا جا سکتا تاہم عدالت کے اندر کسی قسم کا احتجاج نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں اٹارنی جنرل ہوں تو عدالت کو جواب دوں کہ آرمی جنرل یا ڈی جی آئی ایس آئی کو ہٹانا وزیراعظم کی صوابدید ہے میں اس میں کوئی شورٹی نہیں دے سکتا اور یہ لکھ کر حکومت دے سکتی ہے کہ یہ وزیراعظم کی صوابدید ہے کہ وہ صدر کو آرمی چیف لگانے کی ایڈوائس دے انہوں نے کہا کہ اصغر خان کیس کے حوالے سے عدالت پر الزام لگایا جا رہا تھا اور دبائو تھا کہ یہ کیس کیوں نہیں کھولا جارہا میں کیس کے حقائق نہیں جانتا لیکن اس میں بہت سے معتبر لوگوں کے نام ہیں اسد درانی کا بیان حلقی تفصیل میں تھا جن لوگوں کے نام ہیں انہیں صفائی کا موقع ملنا چاہئے۔ اعتزازاحسن نے کہا کہ جس پی سی او کو پارلیمنٹ نے منظور کیا اس پی سی او کے ججز پی سی او نہیں آئینی ہیں اور جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا وہ اب ججز نہیں رہے سیاسی اعتبار سے افتخار چوہدری پر پی سی او کا الزام رہے گا لیکن آئینی اعتبار سے وہ پی سی او جج نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی میں اولین کردار وکلاء اور ججز کا ہے تاہم نواز شریف اور میڈیا کا بھی کردار ہے مسلم لیگ نواز اور عمران خان نے بڑا حصہ ڈالاہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے کرکٹ اور شوکت خانم ہسپتال کی تعریف کرتا ہوں نواز شریف کے احسانات ہیں بہت سی باتیں مخالفت میں بھی فراموش نہیں کی جا سکتیں ایک سوال پر کہا کہ منصور اعجاز نہ آیا تو کیس کمزور ہو جائے گا بیان حلفی دینا کافی نہیں مخالف پارٹی کا گواہ پر جرح کا حق ہے صدر کو استثنیٰ حاصل ہے خط نہ لکھ کر وزیراعظم نے توہین عدالت نہیں کی تاہم سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت کو خط لکھنا پڑے گا چاہے اس پر سوئس عدالتوں میں عمل ہو یا نہ ہو۔

Post new comment

  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Allowed HTML tags: <a> <em> <strong> <cite> <code> <ul> <ol> <li> <dl> <dt> <dd>
  • Lines and paragraphs break automatically.

More information about formatting options



Copyrights © 2012 Urdutimes.com
Urdu News and Urdu Khabrain . Largest Urdu News Website in America.