واقعہ معراج ۔ حیات اطہر کا اہم ترین معجزہ




فاروق احمد
واقعہ معراج رسول اکرم کی حیات اطہر کا اہم ترین واقعہ ، ایک عظیم الشان معجزہ ہے، جو انسانی عقل و قیاس کی حدود سے بالا تر ہے۔ قرآن پاک میں سورہ بنی اسرائیل میں واقعہ معراج کا ذکر یوں کیا گیا ہے " پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک لے گئی جس کو ہم نے برکت دے رکھی ہے تا کہ اپنی قدرت کے کچھ نمونے دکھائیں۔ یقینا اللہ ہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔"
رسول اکرم واقعہ معراج بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں " میرے پاس براق لایا گیا جو گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا تھا، جو ایک قدم اتنی دور رکھتا تھا جتنی دور اس کی نگاہ جاتی تھی، میں اس پر سوار ہوا تو وہ مجھے لے کر چلا۔ میں بیت المقدس پہنچا، وہا ں دو رکعت نماز ادا کی، اسکے بعد جبرائیل میرے پاس آئے، ان کے ہاتھ میں دو برتن تھے۔ ایک میں شراب جب کہ دوسرے میں دودھ تھا، میں نے دودھ کو پسند کیا تو جبرائیل نے کہا: آپ نے فطرت کو پالیا "۔
براق کا سفر اس تیزی کے ساتھ ہوا کہ جس تک انسان کی عقل پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ایسا لگتا تھا ہر طرف موسم بہار آگیا ہے۔ چاروں طرف نور ہی نور پھیلتا چلا گیا۔ حضور اکرم کی سواری بڑی شان کے ساتھ پچاس ہزار فرشتوں کی معیت میں مسجد الحرام سے نکلی۔ آسمانوں کے دریچے کھول دئیے گئے تا کہ آسمان کے فرشتے بھی اسریٰ کے دولہا کی برات کے دیدار سے مشرف ہو سکیں۔ایک وادی آئی جس میں کھجور کے بے شمار درخت تھے۔ وہ آپ کی ہجرت گاہ مدینہ طیبہ تھی۔ پھر ایک وادی ایمن سے گزر ہوا۔ جبرائیل امین نے عرض کیا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنی ہم کلامی کا شرف بخشا۔ پھر بیت المقدس آگیا۔ وہاں حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک تمام انبیاء و رسل صفیں باندھے کھڑے تھے۔ امامت کا مصلہ خالی تھا۔ امام الانبیاء مصلے پر پہنچے تو جبرائیل امین نے اذان دی۔ اللہ کے حبیب نے امامت فرمائی۔ مسجد اقصیٰ سے فراغت کے بعد بلندی کا سفر شروع ہوا۔تمام انبیا ئے کرام معراج کی شب بیت المقدس میں جمع ہوئے، تو آپ ہی تمام نبیوں کے امام ہوئے اور میدان حشر میں آپ ہی اللہ تعالیٰ کے حضور سب کی شفاعت فرمائیں گے، یہی وہ مقام ہے جو آپ کے سوا کسی کو حاصل نہیں اور جس کا قرآن میں اللہ تعالیٰ نے صرف آپ ہی سے وعدہ فرمایا۔
جب آپ کائنات میں واپس تشریف لائے تو آپ کا بستر اسی طرح گرم تھا اوردروازے کی زنجیر بھی ہل رہی تھی۔ وضو کا پانی بھی جاری تھا۔
شب معراج کے وظائف کے متعلق حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جس نے اس دن سو مرتبہ سجان اللہ وبحمدہ پڑھا تو اس کے گناہ مٹا دئیے جائیں گے، خواہ اس کے گناہ سمندر کے جھاگ سے بھی زیادہ ہوں(صیح بخاری)۔
اس مقدس سفر میں مسلمانوں کو پانچ وقت کی نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا اور اس کا ثواب پچاس نمازوں کے برابر رکھا گیا، اس لئے ہم مسلمانوں کا فرض ہے کہ نماز پابندی کے ساتھ ادا کریں اور اس کے ساتھ اسلام کے تمام ارکان کی ادائیگی بھی کریں۔

Post new comment

  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Allowed HTML tags: <a> <em> <strong> <cite> <code> <ul> <ol> <li> <dl> <dt> <dd>
  • Lines and paragraphs break automatically.

More information about formatting options



Copyrights © 2012 Urdutimes.com
Urdu News and Urdu Khabrain . Largest Urdu News Website in America.