عدالت جو بھی فیصلہ کریگی، قبول کیا جائے گا، وزیراعظم
Fri, 02/03/2012 - 17:18 — waheed.murad
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عدالت نے مجھے بلایا اور میں گیا ہوں، عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی قبول کیا جائے گا۔ ریلوے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے منافع بخش ادارہ کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بزنس ٹرین کے ذریعے مسافروں کو سہولیات کی فراہمی اور شاہراہوں پر ٹریفک کا رش کم کرنے میں مدد ملے گی۔ لاہور میں پبلک پارٹنر شپ کے ذریعے شروع کی جانے والی بزنس ٹرین کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر یقین رکھتی ہے اور معاشی ترقی کے لئے نجی شعبے کی اہمیت کو سمجھتی ہے۔ وزیراعظم نے بزنس ٹرین شروع کرنے پر وزارت ریلوے اور پرائیویٹ سیکٹر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ یہ اقدام ریلوے کی ترقی اور مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا فیصلہ کارپوریٹ سیکٹر کو فروغ دینے کے لئے کیا گیا ہے۔ نجی شعبے اور حکومت کے اشتراک اور تعاون سے ہی ترقی کے اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ حکومت نجی شعبے کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہے۔ ریلوے کے شعبے میں پارٹنر شپ ریلوے اور ملک کی مجموعی ترقی کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔ حکومت کے ریلوے کی ترقی کے لئے ہرممکن اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریلوے کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کو یقینی دلاتے ہیں کہ ان کی سفری سہولیات کو مزید آسان بنانے کے لئے بزنس ٹرین کی طرح دیگر اقدامات بھی اٹھائے جائینگے جبکہ ریلوے کی ترقی اور اس کے حالات بہتر بنانے کے لئے نئے انجن بھی خریدے جا رہے ہیں تاکہ ریلوے کو بہت جلد ایک منافع بخش ادارہ بنایا جا سکے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ عدالت نے بلایا ہے اور میں گیا ہوں، عدالت کیس کا جو بھی فیصلہ کرے گی اسے قبول کیا جائے گا،فیصلہ آنے سے قبل اس پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئندہ بجٹ اس حوالے سے تاریخی حیثیت کا حامل ہے کہ یہ جمہوری حکومت کا پانچواں بجٹ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت محاذ آرائی کی قائل نہیں اور نہ ہی حکومت کی طرف سے محاذ آرائی ہوئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے بارے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں ردوبدل کرنا حکومت کا نہیں اوگرا کا کام ہے۔ ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو وزارت خزانہ سے مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لے گی۔


Post new comment