صدر اوباما کا حامد کرزئی کو ٹیلی فون
Tue, 02/21/2012 - 13:07 — fazal.masood
واشنگٹن: امریکی صدر باراک اوباما نے فغان صدر حامد کرزئی سے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں اور اسلام آباد میں پاکستان، ایران اور افغانستان کے رہنماؤں کے مابین ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ صدر اوباما نے ٹیلیفون پر افغان صدر سے افغانستان میں مصالحت کے حوالے سے علاقائی ممالک کی حمایت کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان کے تین روزہ دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری، ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے علاوہ طالبان کے حامی مذہبی رہنما مولانا سمیع الحق سے بھی ملاقات کی تھی۔ ترجمان کے مطابق گفتگو کے دوران صدر کرزئی نے افغانستان میں مصالحت کے عمل کو علاقائی ممالک کی حمایت کے حوالے سے آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جلد دوبارہ بات چیت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق دونوں صدور نے افغان مصالحتی عمل کے لیے علاقائی تعاون، گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہوئی پاکستان، ایران اور افغانستان سہ فریقی ملاقات اور باہمی تعاون کے دیگر اسٹریٹیجک معاملات پر گفتگو کی۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا اور افغانستان کے حکام مستقبل میں بھی رابطے میں رہیں گے تاکہ مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے قریبی مشاورت جاری رکھی جا سکے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک اخباری انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ کابل حکومت ملک میں قیام امن کے لیے طالبان سے مذاکرات جاری رکھے ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ مذاکرات کے اس عمل میں کچھ جگہوں پر امریکا شامل ہے اور کچھ پر نہیں۔ واضح رہے کہ شیڈول کے مطابق دو ہزار چودہ میں افغانستان میں تعینات امریکی جنگی فوجی واپس بلوا لیے جائیں گے۔ اس لیے واشنگٹن کی بھرپور کوشش ہے کہ اس سے قبل ہی افغانستان میں قیام امن کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کر لی جائے۔ امریکا نے طالبان کے ساتھ مشروط مذاکرات کی حامی بھی بھر رکھی ہے۔ امریکا کا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان ہتھیار پھینک دیں، دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی مذمت کریں اور افغان آئین کو تسلیم کر لیں تو ان سے مذاکرات ممکن ہیں۔ اسی دوران طالبان نے بھی کہا ہے کہ وہ قطر میں اپنا ایک دفتر کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مصالحتی عمل جاری رکھا جا سکے۔


Post new comment