سگریٹ نوشوں کو منہ کاسرطان ہونیکا احتمال
Wed, 02/22/2012 - 01:23 — niyar
اسلام آباد: طبی ماہر پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی، گٹکا، پان اور سپاری کے استعمال سے منہ کا سرطان بڑھ رہا ہے اور 2030 تک منہ کے سرطان کے مریضوں کی تعداد میں وبائی مریضوں کی طرح ہوجائیگی۔ ٹی وی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد وڑائچ نے کہا کہ گٹکا، سپاری، پان اور سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے بچے بھی بالواسطہ طور پر متاثر ہو رہے ہیں اور بچوں پر ان اشیاء کی تیاری میں استعمال ہونے والے رنگ، ذائقے کے اجزاء اور دیگر اشیاء کے مضر اثرات ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو صرف سگار کے ذریعے ہی نہیں بلکہ پان، سگریٹ، حقہ اور گٹکا میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی سے نوجوان نسل زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے 6 سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں میں تمباکو کے استعمال کو تشویشناک قرار دیا۔ پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد وڑائچ نے مزید کہا کہ تمباکو کے پانچ ہزار عادی افراد مختلف بیماریوں کے باعث روزانہ ہسپتالوں میں داخل کئے جاتے ہیں جن میں منہ کا سرطان، ہائی بلڈ پریشر، دل کے مختلف امراض وغیرہ شامل ہیں۔ دریں اثناء تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً 56 لاکھ افراد تمباکو نوشی کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ موجودہ حکومت نے گٹکا کے مضر اثرات کے باعث اس کے استعمال پر فوری طور پر پابندی لگا دی ہے جسے طبی ماہرین سمیت ہر شعبہ زندگی کے افراد نے سراہا ہے۔


Post new comment