رواداری… اسلامی تہذیب و تمدن کی اہم خصوصیت
Wed, 03/16/2011 - 21:27 — farooq
مل جل کر رہنے اور اکٹھے زندگی گزارنے کا نام معاشرہ ہے۔ حضوراکرم ۖنے امت مسلمہ کو مسلم معاشرہ کی ایسی خصوصیات عطا فرمائیں کہ جن سے انسان کو محض اپنے زندہ رہنے کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی میں بھی مکمل طور پر شریک ہونے کی تعلیم ملتی ہے
مولانا فضل الرحیم اشرفی
رسول اکرمۖ نے ارشاد فرمایا '' آپ مومنوں کو آپس میں رحم ، محبت اور مہربانی کرنے میں ایسا پائیں گے جیسا کہ ایک بدن ہو ، جب اس کے کسی عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورے جسم کے سارے اعضاء بے خوابی، بے تابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔''
اس حدیث مبارک میں حضور ۖنے مسلم معاشرے کی حقیقت بڑے عمدہ انداز میں بیان فرمائی ہے۔ مل جل کر رہنے اور اکٹھے زندگی گزارنے کا نام معاشرہ ہے۔ حضوراکرمۖ نے امت مسلمہ کو مسلم معاشرہ کی ایسی خصوصیات عطا فرمائیں کہ جن سے انسان کو محض اپنے زندہ رہنے کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی میں بھی مکمل طور پر شریک ہونے کی تعلیم ملتی ہے ۔
جب انسان امت مسلمہ کافرد بن جاتا ہے تو اس پر امت مسلمہ کے بارے میں مخصوص قسم کے حقوق عائد ہوجاتے ہیں ۔ ان حقوق میں سے بنیادی حق اور امت مسلمہ کی ایک اہم خصوصیت امت مسلمہ کا اتحاد واتفاق ہے ، جسے حضورۖ نے بڑے خوبصورت اور حقیقی انداز میں بیان فرمایا کہ آپس کی محبت، آپس کے پیار اور مہربان ہونے میں مومنوں کی مثال ایک جسم جیسی ہے جو چند اعضاسے مرکب ہوتا ہے جب کبھی ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارے جسم کے اعضابے خوابی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔
گویا کہ پوری امت مسلمہ ایک جسم کی طرح ہے اور امت کے افراد اس جسم کے اعضا ہیں ، اگر ایک عضو کو تکلیف ہوتو تمام اعضا تکلیف کو محسوس کرتے ہیں اسی طرح پوری ملت اسلامیہ کے ہر فرد کو اپنے مسلمان بھائی کی تکلیف محسوس کرنی چاہیے ۔ امت مسلمہ کے اسی اتحاد واتفاق کو حضور اکرم ۖنے ایک عمدہ انداز میں یوں بیان فرمایا : '' ایک مسلمان کا تعلق دوسرے مسلمان کے ساتھ ایک مضبوط عمارت جیسا ہے اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کرتا ہے پھر آپۖ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پیوست کرکے دکھایا۔''
یہ بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ عمارت کی تعمیر میں کئی ماہ ، کئی سال لگ جاتے ہیں لیکن عمارت گرنے میں چند لمحے صرف ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ امت مسلمہ پر بڑے کٹھن مرحلے آئے لیکن جب اتحاد واتفاق برقرار رہا امت مسلمہ کی طرف نگاہ غلط کی کسی کو جسارت نہ تھی کیونکہ امت مسلمہ کو خدائی حکم یاد تھا ۔ ''اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور پھوٹ مت ڈالو۔''(القرآن)
لیکن جب بھی امت مسلمہ کے اندر انتشار نے سر اٹھایا توامت مسلمہ کمزور ہوتی چلی گئی کیونکہ اس بارے میں بھی اللہ تعالیٰ واضح الفاظ میں آگاہ فرما چکے ہیں ۔ ''یعنی تم آپس میں مت جھگڑو ورنہ تم مفلوج ہو جائو گے بے جان ہو جائو گے اور انتہائی کمزور ہو جائو گے ۔ '' آج ہمارے معاشرے میں رواداری کا بھی فقدان ہے بلکہ یہی چیز فتنہ اور ایک وبال کی صورت میں عام ہوچکی ہے جس کے نتیجہ میں ہر گھر ، خاندان، معاشرے، صوبوں ، علاقوں اور ملکوں میں نفرت پھیلتی جارہی ہے ، ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی عام ہوچکی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورہ انعام کی آیت نمبر108میں ارشاد فرمایا ۔''اور تم لوگ ان کو بُرا نہ کہو جن کی یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا ۔ پس وہ برا کہنے لگیں گے اللہ کو بغیر سمجھے ۔ اسی طرح ہم نے ہر طریقے والوں کے لیے ان کا عمل آراستہ کررکھا ہے پھر ان سب کو اپنے رب کے پاس پہنچنا ہے تب وہ جتلا دے گا ان کو جو کچھ وہ کرتے ہیں ۔ ''
یہ آیت رسول اکرمۖ پر جن حالات میں نازل ہوئی اگر ان حالات کو پیش نظر رکھا جائے تو خوب اچھی طرح یہ بات واضح ہو جائے گی کہ انسان کو کس حد تک رواداری کا خیال رکھنا چاہیے۔
ابن جریرکے مطابق چند قریشی سرداروں نے مشورہ کرکے ابو طالب کے پاس جانے کے لیے ایک وفد تشکیل دیا جس میں ابو سفیان، ابو جہل، عمروبن عاص شامل تھے۔ وفد نے ابو طالب سے کہا آج اپنے بھتیجے کو بلا کر سمجھا دیں کہ وہ ہمارے معبودوں کو بُرا نہ کہیں ۔ ابو طالب نے رسول اکرمۖ کو اپنے پاس بلایا اور کہاکہ آپ ۖکی برادری کے سردار آئے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ آپ ہمیں اور ہمارے معبودوں کو بُرا کہنا چھوڑ دیں تو پھر ہم بھی آپ کو اور آپ کے معبود کو بُرا نہ کہیں گے ،اس طرح مخالفت ختم ہو جائے گی ۔ رسول اکرمۖ نے فرمایا، اچھا یہ بتائو اگر میں تمہاری یہ بات مان لوں تو کیا تم ایک ایسا کلمہ کہنے کے لیے تیار ہو جائو گے جس کے کہنے سے تم سارے عرب کے مالک ہو جائو گے ؟ ابو جہل بولا ، ایسا کلمہ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں ۔ آپ بتائیں وہ کیا ہے ؟ آپۖ نے فرمایالَا اِلہَ اِلَّا اللہ یہ سنتے ہی سب برہم ہو گئے ۔ ابو طا لب نے کہا کہ اے میرے بھتیجے اس کلمہ کے سوا کوئی اور بات کہو کیونکہ آپ کی قوم اس کلمہ سے گھبرا گئی ہے آپۖ نے فرمایا چچا جان میں تو اس کلمہ کے سوا کوئی دوسرا کلمہ نہیں کہہ سکتا اگرچہ وہ آسمان سے آفتاب لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دیں ، اس پر وہ لوگ ناراض ہوکر کہنے لگے کہ پھر ہم بھی آپ کے معبود کو بُرا کہیں گے اس پر سورہ انعام کی مذکورہ آیت نازل ہوئی کہ آپۖ ان کے بتوں کو بُرا نہ کہیں جن کو ان لوگوں نے خدا بنا رکھا ہے ورنہ وہ اپنی بے سمجھی سے اللہ تعالیٰ کو بُرا کہیں گے ۔جب معاشرے میں کسی بھی مرحلے میں دوسرے کو بُرا کہا جائے گا تو جواب میں بُرا ہی سننے کو ملے گا یہاں سے فساد کا دروازہ کھل جائے گا جس کا نتیجہ یقیناً پھوٹ پڑنے کی صورت میں سامنے آئے گا۔
رواداری اسلامی تہذیب وتمدن کی خصوصیات میں سے ایک خوبی ہے۔ اسلام نے جہاں یہ تعلیم دی کہ کسی کو بُرا نہ کہو وہاں یہ بھی درس دیا کہ اگر تمہیں کوئی بُرا کہے یا اسے بُرا کہا جائے جسے تم چاہتے ہو تو صبر اور عفوو درگزر سے کام لیا جائے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے جذبات کا احترام ،ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے اپنے خیالات بیان کریں اور دل کو وسیع کرکے کھلے ذہن سے دوسرے کی بات سنیں ، اپنی بات میں وزن پیدا کرنا ہے تو دلیل سے وزن پیدا کریں ،دوسرے کی بات کو ردکرنا ہے تو دلیل سے رد کریں ،اسی سے جمہوری تقاضوں کو پورا کیا جاسکے گا یہی اسلامی قدریں ہیں اور یہی وقت کا اہم تقاضا ہے ۔


Post new comment