خفیہ مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے،حکمت یار




 لندن:حزبِ اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ انہیں بھی افغانستان سے باہر دفتر کھولنے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کو اس لیے مسترد کردیا کیونکہ اس کا مطلب جلاوطنی ہوگا، جنگ بندی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے ا ن کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کی موجودگی میں جنگ بندی نہیں کی جا سکتی ۔بی بی سی کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کے  جوابات میں گلبدین حکمت یار نے کہا کہ حزبِ اسلامی طالبان کی طرح خفیہ مذاکرات پر یقین نہیں رکھتی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے باہر دفتر کھولنا، نواز شریف کو سعودی عرب اور پرویز مشرف کو لندن بھیجنے کے مترادف ہوگا۔گزشتہ ماہ کابل کو بھیجے گئے حزبِ اسلامی کے وفد کی امریکی حکام اور افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ مذاکرات کی بابت انہوں نے کہا کہ یہ وفد مخالف فریق کی دعوت پر کابل گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کابل کے مذاکرات سے معلوم ہوا کہ امریکیوں کے ساتھ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے کوئی منصوبہ نہیں۔'ہمارے وفد نے کابل میں امریکہ کے مرکزی انٹیلی جنس کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے ملاقاتیں کی ہیں لیکن ان کے پاس افغان مسئلے کے حل کے لیے کوئی واضح پلان نہیں۔'حکمت یار نے کہا کہ کابل حکومت کے پاس افغان مسئلہ کے حل کے لیے کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے جنگ بندی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی مذاکرات کے ایجنڈے کا ایک حصہ ہو سکتا ہے لیکن غیر ملکیوں کی موجودگی میں جنگ بندی نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ کابل میں ان کے وفد کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی لیکن حزبِ اسلامی نے اس پیشکش کو بھی مسترد کر دیا کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں۔'غیر ملکیوں کی موجودگی میں جنگ بندی یا مجاہدین افغانستان میں غیر ملکیوں کے مزید رہنے پر اتفاق کرلیں، مجاہدین اس کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے۔'قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات اور قطر ہی میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سوال پر حکمت یار نے طالبان کو مشورہ دیا کہ وہ الگ لگ مذاکرات سے گریز کریں اور تمام گروپ متحد ہو کر مذاکرات کریں تاکہ ماضی کی طرح خانہ جنگی سے بچا جا سکے۔انہوں نے یہ بھی دعوٰی کیا کہ طالبان کافی عرصے سے بالواسطہ یہ بلاواسطہ امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں

Post new comment

  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Allowed HTML tags: <a> <em> <strong> <cite> <code> <ul> <ol> <li> <dl> <dt> <dd>
  • Lines and paragraphs break automatically.

More information about formatting options



Copyrights © 2012 Urdutimes.com
Urdu News and Urdu Khabrain . Largest Urdu News Website in America.