توہین عدالت کیس: وزیر اعظم گیلانی پر فرد جرم عائد ہوگی
Thu, 02/02/2012 - 14:16 — fazal.masood
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزیر اعظم گیلانی پر توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کرنے کیلئے تیرہ فروری کو طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے مختصر فیصلے میں کہا کہ وزیر اعظم توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں ان پر تیرہ فروری کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔ کیس کی سماعت جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے کی۔ آج جب سماعت شروع ہوئی تو اعتزاز احسن نے رولز آف بزنس کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم نے قواعد کی مطابق قانونی امور پر رائے اور ایڈوائس لی۔ اس پر جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیئے کہ ایک جانب رائے اور دوسری طرف واضح عدالتی احکامات ہیں۔ اس پر ایک اور فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کے پاس اس ایڈوائس کو مسترد کرنے کا اختیار نہیں تھا اس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ اختیار تھا تاہم محفوظ طریقہ یہی تھا کہ اس پر عمل کیا جاتا۔ سماعت کے دوران وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے تئیس ستمبر کو عدالتی حکم سے متعلق نئی سمری کی منظوری دیدی تھی اور عدالت سے استدعا کی کہ اس سمری کا پیراگراف نمبر دو بھی پڑھ لیا جائے۔ سمری کے مطابق سابق سیکریٹری قانون عاقل مرزا نے لکھا سوئس مقدمات معاملہ عدالتی نوٹس میں لایا گیا، یہ بھی بتایا گیا کہ بینظیر اور صدر زرداری کیخلاف سوئس مقدمات ختم ہوچکے۔ اس پر جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیئے کہ نئی سمری بھی تو عدالتی حکم کے خلاف ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ سمری ہے سوئس مقدمات ملک قیوم کے خط پر نہیں، شواہد نہ ہونے پر ختم ہوئے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے مزید ریمارکس دیئے کہ عدالت نے بھی یہی کہا کہ جو غلطی ہوئی ہے اسے درست کرلیں۔ اس پر وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ آپ نے تو مجھے بند جگہ میں ڈال دیا اور توہین عدالت کا الزام عائد کر دیا۔ بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیئے کہ یہ کام آپ اب کیوں نہیں کر دیتے؟ وقفے کے بعد ہونے والی سماعت میں جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ معاملہ یہ ہے کہ این آر او کالعدم قرار دینے کے بعد معاملات پہلے کی سطح پر آگئے۔ وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو ایڈوائس دی گئی تھی کہ سوئٹزر لینڈ میں مقدمات ختم ہوچکے ہیں، صدر کو غیر ملک نہیں پھینک سکتے۔ پھر وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیں اور یہ کہ وزیراعظم عدالت کا اختیار تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایک بار پھر عدالت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ دے دیا گیا ہے جس پر عدالت نے کہا ہے کہ آدھے گھنٹے کے بعد آکر دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔ آدھے گھنٹے کے بعد عدالت نے ایک مختصر فیصلے میں حکم دیا کہ وزیر اعظم پر تیرہ فروری کو فرد جرم عائد کی جائے گی اور اسی تاریخ کو ایک بار پھر وزیراعظم کو طلب کر لیا گیا ہے۔


Post new comment