اعلیٰ شخصیات کا اغوا طالبان کا اہم ہدف
Mon, 02/20/2012 - 15:10 — waseem
نیو یارک: پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادیوں نے اعلیٰ سطحی شخصیات کے اغواء اور ان کے قریبی لوگوں سے تاوان کی وصولی کو اپنی آمدنی کا بڑا ذریعہ بنا لیا ہے، ان میں امیر صنعت کار، ماہرین تعلیم، این جی اوز کی اہم شخصیات اور فوجی افسروں کے رشتہ دار ان کا اہم ہدف ہوتے ہیں۔ امریکی اخبار''نیو یار ک ٹائمز'' میں پیر کو شائع ہونیوالی رپورٹ کے مطابق دوہزار دس میں چار سو چوہتر اور دو ہزار گیارہ میں چار سو ستاسٹھ اغوا برائے تاوان کے واقعات پیش آئے۔ ہر شخص کی واپسی کیلئے تاوان کی رقم پانچ لاکھ سے بائیس لاکھ ڈالر تک مانگی جاتی ہے جبکہ بعض کیسوں میں ان میں کم یا زائد بھی طلب کی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل (ر) طارق مجید کے داماد کے بدلے اغوا کاروں نے ایک سو ترپن قیدیوں کو چھوڑنے اور چودہ لاکھ ڈالر کا تقاضا کیا۔ ایک این جی او نے اپنے چار کارکنوں کو چھڑانے کیلئے طالبان کو دو لاکھ پچاس ہزار ڈالر ادا کیے۔ اخبار کی اپنے نمائندوں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ کے مطابق اعلیٰ سطحی شخصیات کے اغوا برائے تاوان نے پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی عسکریت پسندوں کے لئے وسائل فراہم کرنے کا نیا راستہ کھول دیا ہے، عسکریت پسندوں کو لاکھوں ڈالر مالیت کے اسلحے سے مسلح، غیر ملکی امدادی پروگراموں کو خطرے سے دوچار اور ملک بھر میں پھیلے جہادی نیٹ ورک اور مجرمانہ گروہوں کو بھی فراہم کرنے میں یہ رقم استعمال کی جارہی ہے اس کیلئے ان کے اہداف امیر ترین صنعت کار، ماہرین تعلیم، مغربی امدادی کارکن اور فوجی افسران کے رشتہ دار ہیں۔ پاکستانی سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ تین سال قبل شروع کی جانے والی اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ملک بھر کے بڑے شہروں اورپوش علاقوں تک ہے۔سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ ان یرغمالیوں اور اغواکنندگان کو افغان سرحد کے ساتھ وزیرستان میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ایک پنجابی نوجوان تاجرنے گزشتہ برس طالبان کے خفیہ سیل میں اپنے ساتھ پیش آنے والی غیر انسانی سلوک کی دل ہلا دینے والی صوت حال بتائی۔ اغوا کار نیکی اور انسانی مہربانیوں کی آڑ میں دھوکا دیتے ہیں لیکن ان کے سفاکانہ ارادے شک سے بالا ہیں اس نے اپنی پہچان نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہاں چار نو عمر خود کش حملہ آورزیر تربیت تھے۔ وہ بچے صبح کلاسز لیتے اور دوپہر کودھماکاخیز مواد سے اڑانے کی تربیت حاصل کرتے تھے، ان کو یہ باور کرایا جاتا کہ ایک بٹن دبانے سے آپ جنت میں چلے جائیں گے۔ اخبار کے مطابق پاکستان میں اغوا صدیوں پرانی لعنت ہے اسی کی دہائی میں مسلح گروہوں کا نشانہ کراچی کے کاروباری خاندان تھے۔ حالیہ سالوں میں قومی سطح پران واقعات کے مختلف اعداد و شمار سامنے آتے رہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق دوہزار دس میں چار سو چوہتر اوردوہزار گیارہ میںچار سو ستاسٹھ اغوا برائے تاوان کے واقعات پیش آئے، تبدیلی یہ ہے کہ اب اس کاروبار میں طالبا ن شامل ہوگئے ہیں سترسالہ جرمن اور چوبیس سالہ اٹلی کے شہری، پنجاب کے سابق گورنر کے بیٹے شہباز تاثیر، دو سوئس شہری، فور اسٹار جنرل کے داماد اور امریکی شہری وارن وین اسٹین کو پاکستان کے مختلف علاقوں سے اغوا کیا گیا اور بتایا جاتا ہے کہ انہیں قبائلی پٹی میں رکھا گیا ہے، پاکستانی طالبان اپنی ان کارروائیوں پر کوئی افسوس نہیں کرتے۔ پاکستانی طالبان کے نائب رہنما ولی الرحمن کا کہنا ہے کہ اغوا برائے تاوان سے قابل قدر فنڈز حاصل ہوتے ہیں، یہ رقم حراست میں لیے گئے جنگجوؤں کو چھڑانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ پاکستانی سیکورٹی فورسز کی طر ف سے عسکریت پسندوں کی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے باوجود اغوا برائے تاوان کی وارداتیں جاری ہیں۔ خودکش حملوں میں دوہزار گیارہ میں پینتیس فیصد کمی ہوئی۔ دوہزار نومیں تین ہزار اکیس افراد خود کش حملوں میں مارے گئے جب کہ یہ تعداد دو ہزار گیارہ میں کم ہو کر دو ہزار تین سو اکیانوے ہوگئی۔ اغوا کار تاوان کی مد میں پانچ لاکھ سے 2.2 ملین ڈالر تک مطالبہ کرتے ہیں۔ جب کہ طلب کی گئی رقم کا دسواں حصہ ہی دیا جاتا ہے۔ سابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل طارق مجید کے داماد کے بدلے اغوا کاروں نے ایک سو ترپن قیدیوں کو چھوڑنے اور 1.4 ملین ڈالر کا تقاضا کیا تھا۔ اس اغوا میں کالعدم لشکر جھنگوی کا ہاتھ بتایا گیا جسے مشرف دور میں کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان کے دو صوبوں میں ایک این جی او نے اپنے چوالیس دفاتر اس وقت بند کر دیئے جب طالبان نے ان کے ملازم کو بلوچستان میں قتل کر دیا، انہوں نے اپنے چار ورکروں کو چھڑانے کیلئے طالبان کو دو لاکھ پچاس ہزار ڈالر ادا کئے۔


Post new comment