آن لائن نگرانی بل پر خدشات درست نہیں،وک ٹوز
Sun, 02/19/2012 - 02:41 — shahzad
اوٹاوا۔ پبلک سیفٹی کے وزیر وک ٹوز کا کہنا ہے کہ حکومت کی آن لائن نگرانی کے بل میں ایسی کسی شق کے بارے میں مجھے علم نہیں جس میں پولیس انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والوں سے صارفین کے بارے براہ راست معلومات حاصل کر سکے۔ ریڈیو چینل کو دئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں جہاں تک بل کو سمجھا ہوں اس میں کہا گیا ہے کہ پولیس صرف مخصوص جرائم کی تحقیقات میں انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والے اداروں سے معلومات کے حصول کیلئے درخواست کر سکتی ہے۔ عوام کی جانب سے اس بل پر احتجاج کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس بل کی جس شق کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ کوئی بھی پولیس اہلکار بغیر وارنٹ معلومات حاصل کر سکتا ہے میرے نزدیک اس کی یہ تشریح درست نہیں۔ میں پہلی مرتبہ یہ سن رہا ہوں کہ پولیس کو اس بل میں ایسے اختیارات دئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بل دوبارہ مطالعے سے قبل پھر کمیٹی کو بھیجا جائے جائیگا جسے اس بل کو اس کی حقیقی روح کے مطابق ڈھالنے کیلئے اس میں ترامیم کا اختیار حاصل ہو گا۔ عام طور پر بل رائے شماری کے بعد دوسری بار مطالعے میں کمیٹی کے پاس جاتا ہے اوررائے شماری میں اس بات کا تعین کر لیا جاتا ہے کہ کمیٹی کس حد تک بل میں ترامیم کر سکتی ہے۔ دوسرے مطالعے پر رائے شماری سے قبل ووٹ کمیٹی کو بھجوانے کا مطلب ہو گا کہ ممبر پارلیمان اس بل میں کثیر ترامیم کر سکتے ہیں۔ وک ٹوز کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے پاس بل جانے سے حزب اختلاف کو بل میں کثیر ترامیم کا اختیار حاصل ہو گا۔ اگر حزب اختلاف واقعی ایسی ترامیم لاتی ہے جو اثر رکھتی ہیں تو میرے خیال میں ان پر متاثر کن بحث ہو گی۔


Post new comment