اشاعت کے باوقار 30 سال

سر سید اویرنیس فورم کے زیر اہتمام 'سر سید اور روادار' موضوع پر سیمینار

علی گڑھ مہوتسو دوہزار سولہ سرکاری زراعتی و نمائش کے مکتاکاش منچ پر سر سید اویرنیس فورم کے ذریعہ آٹھواں قومی سیمینار پروفیسر شکیل صمدانی کی صدارت میں 'سر سید اور رواداری' موضوع پر منعقد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی امیش چندر شری واستو، ضلع جج علی گڑھ و مہمان اعزازی ڈاکٹر اصفر علی خاں، رجسٹرار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، سنجے چودھری، سول جج، محترمہ مردلا مشرا، سی جے ایم ،علی گڑھ، پروفیسر این اے کے درانی، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنس، پروفیسر رضوان حسن خان، صدر شعبہ بایو ٹکنا لوجی، پروفیسر انصار اللہ اور ڈاکٹر خلیل چودھری نے شرکت کی۔

سیمینار کو مخاطب کرتے ہوئے ضلع جج مسٹر امیش شری چندشری واستو نے کہا کہ سرسید نے ہمیشہ مذہبی رواداری پر زور دیا، سر سید ہمیشہ ہندو مسلم اور سبھی مذاہب کے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا کرتے تھے، سر سید ہمیشہ مذہبی شدت پسندی کے خلاف رہے اور جدید تعلیم، صحت اور ماڈرن سائنس کے حق میں رہے، انھوں نے مزید کہا کہ ہم سبھی کو سر سید کی زندگی سے سبق لینا چاہئے اور صحت اور صفائی کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں اتارنا چاہئے۔ جج شری واستو صاحب نے فورم کے صدر پروفیسر شکیل صمدانی کو سیمینار کی بے پناہ کامیابی کے لئے مبارک باد دی۔ مسلم یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر اصفر علی خاں نے سرسید احمد خاں کو مذہبی رواداری کی ایک مثال بتاتے ہوئے سرسید کے لاہور میں دیئے گئے تقریر کا ذکر کیا جس میں سر سید نے زور دے کر کہا تھا کہ مسلم یونیورسٹی کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں انھوں نے کہا کہ موجود تناظر میں سرسید کے خیالات اور افکار ملک اور عوام کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں جواب دلائل کے ساتھ دینا چاہئے اور ہمارا جواب اس طرح کا ہو کہ وہ رد عمل نہ ہو کر ایک عالمانہ جواب ہو۔ انھوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ علی گڑھ کی نمائش میں فورم کی جانب سے سرسید کی یاد میں سیمینار منعقد کیا جارہا ہے اور وہ بھی اس کامیابی کے ساتھ۔
پروفیسر این اے کے درانی، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنس نے کہا کہ موجودہ دور میں ہمیں مذہبی رواداری پر زور دینا چاہئے اور جذبات کے مقابلِ دلائل کی بنیاد پر مخالفین سے نپٹنا چاہئے۔ لیڈی فاطمہ کی طالبہ سارہ صمدانی نے اپنی انتہائی پر اثر تقریر میں کہا کہ اگر ہم اس پروگرام کو سیمینار نہ کہہ کر نمائش کا سر سید ڈے کہیں تو غلط نہ ہوگا، کیونکہ جس جوش اور جذبہ کے ساتھ طلبہ و طالبات کے ساتھ اس پروگرام میں شریک ہوئے ہیں وہ سرسید جیسا ہی ہے۔ طالبہ عائشہ انصاری نے کہا کہ سرسید نے کالج کے دروازے سبھی کے لئے کھلے رکھے اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے کالج کا پرنسپل ایک عیسائی سر ٹھیوڈربیک کو بنایا اور اس کالج کا پہلا گریجویٹ بھی ایک غیر مسلم ہی تھا۔ عائشہ انصاری نے اپنی انگریزی تقریر میں مندوبین سے کہا کہ آج ملک کو سرسید کے افکار وخیالات کے جتنی ضرورت ہے اتنی اس سے پہلے شاید نہیں تھی۔

سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے فورم کے قومی صدر پروفیسر شکیل صمدانی نے سرسید کی زندگی کے رواداری کے تعلق سے کئی واقعات کا پر اثر انداز میں ذکر کیا اور بتایا کہ اٹھارہ سو پچاسی کی غدر کے دوران بجنور کے ہندوئوں نے انگریزوں سے یہ مطالبہ کیا کہ ضلع کا انتظام سرسید احمد خاں کو دیا جائے اور کسی نہ دیا جائے کیونکہ انھیں صرف سرسید احمد خان پر بھروسہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انگریزوں نے جب سرسید کو جاگیر عطا کرنی چاہی تو سرسید نے جاگیر لینے سے انکار کردیا کیونکہ ان کی نگاہ میں جاگیر لینے سے کہیں بہتر انگریزوں کو اپنے اعتماد میں لینا تھا جس کی بدولت انھوں نے ایم او کالج کا قیام کیا اور مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف مائل کیا۔ پروفیسر صمدانی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سرسید صرف ماہرِ تعلیم نہیں تھے بلکہ ایک سوشل ریفارمر، فلاسفر، تاریخ داں، سماجی کارکن اور انتہائی دور اندیش شخص تھے اور اسی لئے انھوں نے ملک میں تعلیم کے حق میں فضا ہموار کی اور پورے ملک میں ہندوستانیوں میں جدید تعلیم کا رجحان پیدا کیا۔ یونیورسٹی کے موجودہ صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مسلم یونیورسٹی کو نیک میں اے پلس ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ انتظامیہ بالخصوص مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ، وائس چانسلر، رجسٹرار اور فائننس آفسر انتہائی محنت کے ساتھ یونیورسٹی کے ترقی میں لگے ہوئے ہیں۔ پروفیسر صمدانی نے اخیر میں عوام کے جم غفیر سے یہ وعدہ لیا کہ وہ مسلم یونیورسٹی کو نمبر ون بنانے کے لئے جی توڑ محنت کریں گے اور فرقہ پرستی کو روکنے کے لئے حکمت اور تدبر کا مظاہر کریں گے ۔
سیمینار میں علی فاران گلریز اور شفیق احمد نے بھی اپنے خیالات کا ذکر کیا۔ فورم کے اغراض و مقاصد عبداللہ نے بیان کئے اور بتایا کہ یہ فورم پچھلے گیارہ سال سے سرسید کے افکار و خیالات کو ملک کے گوشہ گوشہ میں پھیلانے کی کامیاب کوشش کر رہا ہے۔ سیمینار میں مشہور شاعرہ ریحانہ شاہین، شکتی چودھری اور دلشاد انصاری نے غزلیں اور نظمیں پیش کیں۔ اس موقع پر پروفیسر رضوان حسن خان، پروفیسر انصاراللہ، ڈاکٹر عبید صدیقی، طارق حسین، محمد شاہد اور ہری رام گپتا کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ایواڑ پیش کیا گیا اسی کے ساتھ ساتھ بینک آفسر نجم عباسی، جاوید لودی، ڈاکٹر خلیل چودھری، محمد قربان، مطیع الغفار، محمد شفیق اور محمد شاہد کو سماجی خدمات کے لئے اعزازات دیئے گئے۔ سیمینار کی نظامت محبوب عنایتی اور مشرف محضر نے مشترکہ طور پر کی۔ مہمانان کا استقبال فورم کے سکریٹری نے کیا۔

اس سیمینار کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر حیدر علی، اے پی آر او ذیشان احمد، انجم تسنیم، انکتا چودھری، عادل شیروانی، نازش نقوی، کورٹ ممبر مصطفی فراز، شبھم ،منجیت وارشنے، عمرالدین ایڈوکیٹ، محترمہ روحی زبیری، خان وجاحت ایڈوکیٹ وغیرہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس سیمینار کی خصوصیت یہ رہی کہ اس میں تقریباً تیس مندوبین اتر پردیس اور ملک کے دوسرے حصوں سے شامل ہوئے اور بیرونی ممالک کے تقریباً تیس ریسرچ اسکالرس نے بھی حصہ لیا۔

عبد اللہ صمدانی