اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جاپان کی سرکاری کرنسی ین

شبِ ظرافت

شبِ ظرافت 30 جولائی کی شب انجمن تقدیسِ ادب کیبانی جناب سید ایاز مفتی کی رہائش گاہ پر ہیوسٹن کے معروف مزاحیہ شاعروں کے ساتھ شب ِظرافت منائی گئی. جس میں سنجیدہ اور مسکراہٹیں بکھیرنے والی شاعری پیش کی گئی. انجمن تقدیس ِ ادب کا مثالی اور دیدہ زیب بینر ہر کسی کو دعوتِ نظارہ دے رہا تھا. اور اس میں تنظیم کے روحانی بانی و سرپرست سید عبد الستار مفتی کی تصویر مرکزِ توجہ تھی۔ اس موقع پر ماحضر کا خصوصی اہتمام و انصرام بھی کیا گیا تھا۔
نشست مختصر اور باوقار تھی۔ اس نشست کے وقار کو چار چاند، پاکستان سے کامیاب ادبی دورے سے لوٹنے والے، نازِ ہیوسٹن اور سات کتابوں کے خالق عالمی شہرت یافتہ شاعر محترم المقام ڈاکٹر افضال فردوس کی صدارت نے لگا دئیے۔
ہیوسٹن کے سرسید جناب ڈاکٹر ظفر حسین تقوی اس مشاعرے کے مہمان ِ خصوصی قرار پائے۔ مشاعرے کی نظامت کے فرائض ہر دلعزیز اور معروف شاعر اور میدانِ نظم کے شہسوار سید الطاف حسین بخاری نے سر انجام دئیے سب سے پہلے الطاف بخاری نے سامعین کو عالمی شہرت یافتہ شاعر، سات شعری مجموعوں کے خالق جناب ڈاکٹر افضال فردوس اور انکی علمی و ادبی خدمات کا مختصر جائزہ پیش کیا. اور انجمن تقدیس ِ ادب کی جانب سے اس نشست کی صدارت قبول کرنے پر انکا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا. اور حاضرین کو بتایا گیا کہ انسان کے لئے اسکی زبان ہی سب کچھ ہے. شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بڑا انسان ہونا ہی آپ کو دنیا میں ممتاز کرتا ہے۔ اور اس کے بعد سامعین کی تالیوں کی گونج میں انہیں کرسی صدارت پر بلایا گیا۔
ہیوسٹن میں علمی او ر ادبی تحریک کے بانی و سرخیل جناب ڈاکٹر تقوی کو مہمانِ خصوصی کے طور پر بلایا گیا۔ استقبالیہ کلمات کے دور میں ہیوسٹن میں نظم کے حوالے سے اپنی پہچان رکھنے والے جناب سید الطاف بخاری نے اپنے شگفتہ، برجستہ جملوں اور بے ساختہ لہجے سے محفل کے حسن کو دوبالا کیا۔ سامعین انکے اس منفرد اور چٹپٹے انداز سے محظوظ ہوئے۔
تلاوت ِ کلام پاک کے بعد ہیوسٹن کے مایہ ناز ثناخوان اور طوطی  باغ رسالت ۖ جناب آفتاب عالم نے بارگاہِ رسالت مآ ب ۖ میں گلہائے عقیدت کا نذرانہ نچھاور کیا۔ سامعین انکی طرف سے پیش کردہ خالد محمود احمد کا کلام اس پر دو آتشہ انکی خوبصورت آواز اور ترنم کے سحر میں کھو سے گئے۔ اور سبحان اللہ، ماشا اللہ اور جزاک اللہ کے کلمات ِ حسین سے انکو داد و تحسین سے نوازا گیا۔ تلاوت و نعت کے بعد ناظم ِ مشاعرہ جناب سید الطاف بخاری نے صاحب صدر کی اجازت سے اپنا کلام پیش کیا۔ اور سامعین اور معزز شرکائے محفل سے داد حاصل کی سب سے پہلے شاعر کے طور پر قرعہ فال عبدلستار مفتی یموریل جناب زاہد محمود کے نام نکلا .تالیف اِبنِ مفتی "گلہائے صد رنگ" کے ذریعے صاحب ِ دیوان بننے والے جناب زاہد محمود کہ جنکی کتاب "گلہائے نمکین" ہے۔ انہوں نے گلہائے نمکین سے اپنا خوبصورت کلام پیش کیا اور ایک آزاد نظم پیش کی۔ انہوں نے اور اسکے علاوہ ایک نئی نظم سوکنوں کا تقابل پیش کی، جسے بے حد داد و تحسین سے نوازا گیا۔
اسکے بعد محترمہ سارہ حیدر کو دعوت ِ کلام دی گئی۔ تقدیسِ ادب کی جانب سے متعارف کروائی جانیوالی ایک شاعرہ محترمہ سارہ حیدر نے کافی عرصے کے بعد اس محفل میں شرکت کی۔ انکا کلام بے حد خوبصورت اور دلنشین تھا۔ اور جناب صدر اور مہمانِ خصوصی نے انہیں فراخدلانہ داد دی اسکے بعد ظریفانہ کلام کے لئے ہیوسٹن میں ہر دلعزیز ڈاکٹر خالد رضوی جنکی ایک ظریفانہ کلام پر مبنی کتاب "پھلجھڑیاں" بھی منصہ شہود پر آچکی ہے۔ اور اِبنِ مفتی کی بے مثال کاوش "گلہائے صدرنگ" کے حسن کا باعث بھی ہے۔ ان کو سامعین کی تالیوں میں بلایا گیا۔ انہوں نے حسبِ معمول خوب چوکے اور چھکے لگائے۔ اور بقول ناظم ِ مشاعرہ تقریبا مزاحیہ کلام کی سینچری مکمل کی۔
شبِ ظرافت کے حسن کو مزید دوبالا کرنے کے لئے ہیوسٹن کیتمام مشاعروں میں شرکت کا اعزازِ خاص رکھنے والی ادب پسند تاریخی شخصیت جناب ملک سعیدی نے اس موقع پر نہ صرف اپنے معروف مزاحیہ قطعات سے شرکائے محفل کو مسکرانے پر مجبور کر دیا۔ بلکہ اس دوران اپنی ظریفانہ گفتگو سے بھی محفل کو زعفران زار کئے رکھا۔ اس موقع پر انہوں نے کچھ قطعات سامعین کی اجازت سے دوسرے شعرا کے بھی پیش کئے۔ اور شبِ ظرافت کو مزید حسین بنا دیا اس موقع پر معروف مزاحیہ شاعر جناب قاضی سلمان جلالی کی سالگرہ پر انکے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا اور انکی اہلیہ کی علالت پر انکے لئے دعائیہ کلمات کہے گئے۔ انکی عدم موجودگی کو محسوس کیا گیا۔
ناظمِ مشاعرہ جناب الطاف بخاری نے اس موقع پر انجمن تقدیس ادب کے روحِ رواں اور بانی جناب سید ایاز مفتی کی شہرِ ادب ہیوسٹن میں تاریخی علمی اور ادبی کاوشوں کا ذکر کیا کہ جنکی زندگی کا ایک ہی مقصدِ و منشا ہے اور وہ کسی بھی صلے، ستائش سے بے نیاز ہو کر لیلائے اردو کیے گیسو سنوارنے کی عبادت میں مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ 27 مشاعرے، منظوم نظامت، تین شاعری کے مجموعے اور ہیوسٹن کو گیارہ سے زائد شاعر اور شاعرات کا تحفہ دینے اور پھر انہیں صاحب ِ دیوان بنانے میں انکا بے مثال کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں دعوتِ کلام دی گئی۔
اِبنِ مفتی نیاپنا کلام سنانے سے پہلے سب سے پہلے عالمگیر شہرت کے حامل جناب افضال فردوس کی خدماتِ عالیہ کا مختصر احاطہ کیا۔ اور اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود انجمن تقدیس ِ ادب کے پروگروام میں جلوہ گر ہونے پر اس عظیم شاعر کا شکریہ ادا کیا . اور اسکے ساتھ ہی انہوں نے ہیوسٹن کے سرسید جناب ڈاکٹر تقوی صاحب کی شخصیت اور انکی وجہ سے ہیوسٹن میں ادبی سرگرمیوں اس نہج پر پہنچانے پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا شبِ ظرافت میں متوقع مہمان سلمان گیلانی جو ناگذیر وجوہات کی بنا پر شریک نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے اِبنِ مفتی نے کہا۔ کہ سلمان گیلانی مزاحیہ حوالے سے کچھ سالوں پہلے لوگوں میں معروف ہوئے ہیں۔ اور ابھی میدانِ ادب کے نوواردوں میں سے ہیں۔ انکے نہ آنے کے پیچھے یقینا انکی کوئی مجبوریاں ہونگی مگر یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جناب افضال فردوس کا مقام یہ ہے کہ کئی سلمان گیلانی بھی اکٹھے کئے جائیں تو ایک افضال فردوس کے پاسنگ نہ ہو سکے گا۔ انہوں نیاس موقع پر اللہ کریم کی ذات ِ بے نیاز کا شکر ِ خاص ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کریم ہمیشہ بہتر اور اعلی متبادل فراہم کرتے ہیں۔ اور آج ایسا ہی ہا ہے۔ اس کے بعد حاضرین اور جناب صدر کی فرمائش پر انہوں نے اپنے قطعات اور ایک مترنم غزل پیش کی۔ جسے بے حد سراہا گیا۔
اس کے بعد انجمن تقدیس ِ ادب کے حاضر سرپرستِ اعلی اور سینئر شاعر جناب مسرور بریلوی کو دعوتِ کلام دی گئی، جنہوں نے مختصر مگر جامع کلام پیش کیا۔ اور داد و تحسین کے سزا وار ہوئے اسکے بعد ناظم مشاعرہ نے مشاعرے کے مہمان ِ خصوصی کی خدمات ِجلیلہ کا مختصر احاطہ کرتے ہوئے انہیں دعوتِ کلام دی۔ ڈاکٹر تقوی نے اس موقع پر شبِ ظرافت کی مناسبت سے پہلے ایک مزاحیہ نظم ( اکبر الہ آبادی) کی پیش کر کے سب کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کیا۔ اور اسکے بعد اپنا سنجیدہ اور متین کلام پیش کیا۔ جسے تمام لوگوں نے کمال دلجمعی اور توجہ کے ساتھ سماعت کیا اور انہیں بے پناہ داد دی گئی آخر میں محفل کے دولہا جناب ڈاکٹر افضال فردوس کو دعوتِ کلام دی گئی۔ ڈاکٹر افضال فردوس نے مشاعرہ گویا لوٹ لیا۔ انکا ایک ایک شعر سونے میں تولنے کے مترادف تھا۔ حاضرین انکے ایک ایک شعر سے محظوظ ہوئے۔ اورسینئر شاعر انکی غزلوں میں پنہاں شاعرانہ باریکیوں سے لطف اٹھاتے نظر آئے۔ خوبصورت تراکیب، استعارے، تشبہیہات اور علتوں کا استعمال ڈاکٹر افضال فردوس کا خاصہ۔ انہوں نے اپنی ساتویں کتاب سے کچھ غزلیں پیش کیں۔ اور پھر ڈاکٹر تقوی، ابنِ مفتی اور مسرور بریلوی کے پرزور اصرار پر کچھ پرانی اور کلاسک رنگ کی غزلیں بھی پیش کیں۔
آخر میں ناظم مشاعرہ کی اجازت سے میزبان سید ایازمفتی نے ایک مرتبہ پھر معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ گھر پہ ہونیوالی اس نشست میں حاضرین کی تعداد قلیل ہونے کے باوجود انکا جوش و خروش قابل تحسین اور دیدنی تھا۔
اسکے بعد تصاویر سیشن کیا گیا۔ جس میں شرکائے محفل نے معزز شعرا کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔