اشاعت کے باوقار 30 سال

عورت اور اسلام کے موضوع پر تصویری نمائش

شہزاد انصاری
کونست فاکت یونیورسٹی اور بوتشرکہ کمیون کے اشتراک سے مغربی دنیا میں اسلام کا اصل حسن کی مناسبت سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں کونست فاکت یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں مہمانوں کو فتیا مسجد کی سیر کرائی گئی اور ساتھ ساتھ اسلام اور اس سے متعلق ان کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات بھی دیئے گئے، ماکس دھالستراند نے اپنے دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے خوبصورت لمحات سے شرکا کو آگاہ کیا۔

تقریب کا باقاعدہ انعقاد بوتشرکہ کونست ہال میں کیا گیا جہاں پر پاکستانی مصورہ شازیہ فرخ اور مصور خسرو سبزواری کے فن پاروں کو نمائش کے لیے رکھا گیا تھا، مہمانوں سے چیت کرتے ہوئے تقریب کی روحِ رواں صائمہ عثمان نے کہا 'میرے ذہن میں ہمیشہ یہ ہی خیال رہتا تھا کہ ایسا کیوں ہے کہ ایک غیر مسلم خوفزدہ ہے مسلمان سے جب کہ کسی مسلمان کو کوئی خوف نہیں ہے کسی غیر مسلم سے،انہی تمام سوالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے میں نے یہ سوچا کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ ان تمام مغربی دنیامیں رہنے والے جو کسی بھی طرح سے اسلام یا موجودہ حالات سے خوفزدہ ہیں ان سب کو اسلام کا اصل حسن دکھایا جائے اور جو کچھ آج کل ہورہا ہے یا یوں کہیں دنیا میں دکھایا جارہا ہے مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں اس کی اصل حقیقت بتائی اور دکھائی جائے، میں کبھی کبھی خود اپنے آپ سے سوال کرتی ہوں کہ کیا ہم آزاد ہیں جس طرح پرندے ہوا میں اڑتے ہیں ان کی کوئی سرحدیں نہیں ہوتی، ہر انسان اچھی اور بہتر زندگی چاہتا ہے اور اسی سلسلے میں وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کرتا کبھی حالات کی وجہ سے کبھی بہتر مستقبل کے لیے-'

تقریب میں رکھی گئی تصاویر کی خالق شازیہ فرخ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آج کے تمام فن پاروں کا موضوں عورت اور اسلام ہیں اور تمام کام قرآن اور حدیث کو مدِنظر رکھ کر تخلیق کیا گیا ہے میرا تمام کام میرے خیالات کی ترجمانی کرتا ہے اور جب انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے تو آنے والے حالات اور مشکلات جنھیں ایک مصور محسوس کرتا ہے انھیں اپنی تصاویر میں منتقل کر دیتا ہے یا یوں کہیں کہ ہر ایک تصویر مصور کے احساسات کی ترجمان ہوتی ہے ہمارا مقصد بھی یہ ہی ہے کہ مغربی دنیا میں اسلام کے منفی اثرات کا خاتمہ اور دنیا میں اپنی تصاویر کے ذریعے ایک امن پسند اسلام کے بارے میں بتانا جو ایک مسلمان ہونے کہ ناتے ہمارا فرض بھی ہے، نمائش میں خسرو سبزواری کی تصاویر بھی پیش کی گئی جو کہ خاص طور پر اس تقریب کے لیے پاکستان سے منگوائی گئی تھی جن میں مہمانوں نے خاص دلچسپی دکھائی، تقریب سے دیگر مندوبین یوہانس انیرو، فریدرک بروسی، فزیلہ سیلبیری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، اختتام میں تمام مہمانوں کی تواضع پر لطف کھانے سے کی گئی نمائش 21 جون تک جاری رہے گی۔