اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

لڑے بغیر ہتھیار ڈال دئے

مسلم یونیورسٹی اور آزادی ہندوستان

اگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نہ ہوتی تو ہندوستان کو اتنی جلدی آزادی نصیب نہ ہوتی کیونکہ اے ایم یو کے سبب ہندوستانیوں میں تعلیم کی ترویج و اشاعت ہوئی جس سے ہندو اور مسلمان دونوں بیدار ہوئے۔ علی گڑھ تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یہاں سے نکلا ہوا ایک بھی طالب علم تعلیم اور تربیت کے پیغام کو دنیا میں پھیلاتا رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار سرسید اکیڈمی کے سابق ڈائرکٹر پروفیسر شان محمد نے سرسید دو صد سالہ تقریبات کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سلیمان ہال میں سرسید اوران کے سماجی نظریات موضوع پرمنعقدہ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب تک جتنے وائس چانسلر صاحبان نے یونیورسٹی کی خدمت کی ہے ان سب نے کسی نہ کسی انداز میں یونیورسٹی کو فروغ دیا ہے۔ موجودہ وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے بھی بہت سارے ترقیاتی کام کئے ہیں جن کے لئے انہیں ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرسید ایسی یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے تھے جس کی شاخیں تمام ہندوستان میں پھیلی ہوں لیکن انگریزوں نے اسے محدود کر دیا۔ پروفیسر شان محمد نے کہا کہ سرسید جیسا انسان صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے سیمینار کے کنوینر پروفیسر شکیل احمد صمدانی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو بخوبی انجام دے رہے ہیں جس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
پروگرام کے اعزازی مہمان پروفیسر محمد زاہد نے کہا کہ چونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی اس لئے غدر کے بعد انہوں نے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ سرسید کو سرسید بنانے میں ان کی ماں نے اہم رول ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر سرسید نہ ہوتے تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نہ ہوتی اور اگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نہ ہوتی تو علم کا اتنا عظیم چراغ روشن نہ ہوتا۔ سرسید کے انتقال پر جتنا ہجوم جمع ہوا اتنا علی گڑھ میں اس سے قبل کبھی جمع نہ ہوا تھا۔

پروگرام کے کنوینر اور اسٹیٹ آفیسر گزیٹیڈ پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ دو صد سالہ تقریبات کے انعقاد کا فیصلہ قابلِ ستائش ہے اور اس کے لئے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور پروفیسر اے آر قدوائی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرسید راجہ رام موہن رائے اور ٹیپو سلطان سے کافی متاثر تھے اسی لئے انہوں نے سماجی اصلاح کا بھی کام کیا اور ہر مورچہ پر مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ سرسید نے جب بھی قلم کا سہارا لیا تب ہی مخالفین اور تنقید کرنے والوں کو لاجواب کردیا جس کی زندہ مثال سر ولیم میور ہے جس نے آگے چل کر کالج کی کافی مدد کی۔ پروفیسر صمدانی نے کہا کہ سرسید نے انگریزوں کو چیچک کا ٹیکہ لگانے کا مشورہ دے کر ملک سے اس خطرناک مرض کو دور کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سرسید فلاسفر ہونے کے ساتھ ساتھ ادیب، تاریخ داں، ماہرِ تعلیم، ماہرِ قانون، مفکر، ماہرِ تعمیرات، ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار، سچے مومن، نرم دل دوربیں انسان تھے۔

پروگرام کے مہمانِ خصوصی الیکٹریکل انجینئرنگ شعبہ کے پروفیسر مختار احمد نے کہا کہ انہیں یہ جان کر مسرت ہوئی کہ اے ایم یو سر سید دو صد سالہ تقریبات کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرسید نے سائنٹفک سوسائٹی اور محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس قائم کرکے مسلمانوں میں نئے انداز میں تعلیم کی شمع روشن کی۔

اس موقعہ پر طالب علم عبدالوحید اور فیض اللہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نظامت کے فرائض لٹریری سکریٹری آصف اخلاق نے انجام دئے جبکہ ہال کے پرووسٹ پروفیسر سلمان حمید نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔آخر میں مختلف مقابلوں کے فاتحین کو ٹرافیاں اور مہمانان کو یادگاری نشانات پیش کئے گئے۔پروگرام کو کامیاب بنانے میں کلچرل سکریٹری حضیفہ خاں، سرتاج عالم، وقار احمد، عبداللہ صمدانی، رجنیش کمار، نجیندر کمار، شاہ زیب انصاری، توصیف ،ہاشم خاں اور سینئر ہال توصیف خاں نے اہم رول ادا کیا۔ اس موقعہ پر انچارج ڈاکٹر فرمان علی، ڈاکٹر خلیق الزماں، ڈاکٹر محمد ارسلان، ڈاکٹر شفیق اللہ، ڈاکٹر امتیاز، ڈاکٹر واجد، شمشاد احمد، ڈاکٹر محمد شارق وغیرہ بھی موجود تھے۔