اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جاپان کی سرکاری کرنسی ین

آل انڈیا اردو ماس سوسائٹی فار پیس صحافتی ایواراڈ کی تقریب

حیدر آباد: آل انڈیا ماس سوسائٹی فار پیس کی جانب سے ڈاکٹر معین افروز کی صحافتی و ادبی خدمات پر صحافتی ایوارڈ دیا گیا۔ اس موقع پر ایک یادگار و تاریخی محفل اردو گھر مغلپورہ میں منعقد کی گئی تھی۔ جس میں شہر کی تمام معزز و ادبی ہستیوں نے شرکت کی۔ صدر سو سائٹی ڈاکٹر مختار احمد فردین نے سرزمین دکن کے جواں سال جدید لب ولہجہ کے شاعر، صحافی طبیب و ادیب ڈاکٹر معین افروز کو اس ایوارڈ سے نوازا۔ تقریب کا آغاز حافظ و قاری محمد بلال قادری کے قرآت کلام پاک سے ہوا۔

صاحبزادہ نواب میر وقار الدین علی خان صدیقی بہادر نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے تمام اردو تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کی دعوت دی تاکہ اردو کے نوجوان شاعر و ادیب اپنی پہچان بنانے کے ساتھ ساتھ ساری دنیا میں حیدر آباد کا نام روشن کرسکیں۔ سہیل عظیم نے معین افروز کے حالات زندگی اور ان سے اپنے مراسم پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ چونکہ مجھے کوئی چھوٹا بھائی نہیں ہے اس لئے میں معین افروز کو اپنا چھوٹا بھائی تصور کرتا ہوں۔

ریسرچ اسکالر و صحافی جہانگیر اسحاس نے ڈاکٹر معین افروز کی تمام علمی، ادبی، طبی، تاریخی و تصوف کے حوالے سے دی جانیوالی خدمات کا اپنے مضمون میں مفصل جائزہ پیش کیا۔ ڈاکٹر سلیم نے ڈاکٹر مختار احمد فردین کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے نوجوان کا اس ایوارڈ کیلئے انتخاب کیا ہے جس کی خدمات الیکٹرانک میڈیا سے لیکر پرنٹ میڈیا تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے اس طرح کے ایوارڈ دیئے جانے چاہئے ورنہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شاعر، ادیب اور نقاد آخری عمر تک پہنچ جاتا ہے لیکن اس کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی ہے۔ معین افروز کو ایوارڈ دینے سے نوجوانوں کے حوصلے بلند ہوں گے اور وہ اردو کی خدمت کے لئے آگے آئیں گے۔ ڈاکٹر جاوید کمال نے معین افروز کی خدمات کو سراہاتے ہوئے کہ اس تقریب میں شہر کے تمام معززین کی موجودگی سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر معین افروز کس قدر مقبول ہیں۔

ممتاز شاعرہ تسنیم جوہر نے اپنے خطاب میں معین افروز کی گونا گوں خصوصیات کا ذکر کیا۔ سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر مختار احمد فردین نے کہا کہ ہمیں نوجوان اسکالرز، صحافی و ادیبوں کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے اسی مقصد کے تحت یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ معین افروز پر ذمہ داری ہے کہ وہ آگے اس کا وقار بلند کرتے ہوئے اپنی بھرپور صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے قوم وملت کا نام روشن کرتے ہوئے دیگر نوجوانوں کے لئے مشعل راہ بنیں گے۔ صدارتی خطاب میں رحیم خان نے اردو کے ماضی، حال پر مدبرانہ خطاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ شعراء حضرات وقت کے ساتھ خود کو بدلیں تو بہتر ہوگا۔ اچھے شعراء کی موجودہ دور میں کمی ہے۔ ہر کوئی ترنم میں سنا رہا ہے جس سے مشاعروں کا وقار گر رہا ہے۔

بعد ازاں سردار سلیم کی زیر صدارت مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ ڈاکٹر فاروق شکیل، سمیع اللہ حسینی سمیع، ڈاکٹر فرید ادلین صادق، تسنیم جوہر اور وحید پاشاہ قادری نے بطور مہمانان خصوصی مشاعرے میں شرکت کی۔ دیگر شعراء کرام جن میں یوسف روش، ڈاکٹر سلیم عابدی، نورالدین امری، سہیل عظیم، مختار عابد، غوث محی الدین ساجد، میر عظمت علی عظمت، جہانگیر قیاس نے کلام سنایا۔ ایوارڈ تقریب کی نظامت جہانگیر احساس نے کی۔ مشاعرہ کی نظامت ممتاز شاعر سردار سلیم نے کی۔ اس موقع پر صحافی محمد صدیق، علی عبدالغفور، والد بزرگوار معین افروز حکیم سید حبیب الدین، سید نظام الدین، رضوانی و برادران، امتیاز نظر، فرید ضیائی، ظفرمحی الدین، عارف الدین، محمد فیاض احمد خان، ریسرچ اسکالر حبیب قادری، ریسرچ اسکالر محسن خان، سید عبدالعزیز، جبین تاج اسکالر اور دیگر موجود تھے۔ میر وقار الدین علی خان نے شکریہ ادا کیا۔