اشاعت کے باوقار 30 سال

انجمن تقدیسِ ادب کے زیر انتظام عید ملن ادبی شام

ظہورالاسلام جاوید کیساتھ ایک عید ملن ادبی شام

رپورٹ: ابنِ مفتی

جولائی دوہزار سولہ کی شب انجمن تقدیسِ ادب کے بانی سید ایاز مفتی کی رہائش گاہ پر ایک محفل ِ مشاعرہ منعقد ہوئی۔ جس میں عید الفطر کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لئے دبئی میں ادبی محافل کے روحِ رواں اور معروف شاعر اور ادیب ظہور الاسلام جاوید کے ساتھ ایک عید ملن ادبی شام کا انعقاد کیا گیا۔ اور صدارت عالمی شہرت یافتہ فقیرِ ادب حضرت ِ عارف امام نے کی ۔ پاکستان سے آئے ہوئے بہت ہی خوبصورت لب و لہجے کے شاعر جناب احمد عطا نے بھی محفل کو رونق بخشی۔ اس کے علاوہ ہیوسٹن کے ہردلعزیز خالد خواجہ، غضنفر ہاشمی، تسنیم عابدی صاحبہ، ڈاکٹر ظفر تقوی، مسرور بریلوی اور نوشہ اسرار نے شرکت کی۔ ہیوسٹن کی ایک اور معروف ادبی تنظیم بزم ِ یاران سخن کو بھی بطورِ خاص اس محفل میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ ساڑھے آٹھ بجے ماحضر پیش کرنے کے فوراً مشاعرہ کا آغاز کیا گیا۔ سید ایاز مفتی نے صدارت کے لئے حضرتِ عارف امام کو دعوت دی اور صاحب شام کے طور پر جناب ظہورالاسلام جاوید صاحب کو تخت ِ خصوصی پر بیٹھنے کی دعوت دی ۔ اسکے علاوہ مہمانان ِ ذیشان میں جناب خالد خواجہ، محترمہ تسنیم عابدی، غضنفر ہاشمی، احمد عطا اور نوشہ اسرار کا نام لیا گیا۔ معزز مہمانوں کے اپنی نشستیں سنبھالنے کے بعد باقاعدہ مشاعرے کی کاروائی کا آغاز ہوا۔

تلاوت ِ کلام برحق
سب سے پہلے کلام پاک کی آیات ِ برحق کی تلاوت کا اعزاز شہر کی معروف سماجی اور انسانی خدمات کے حوالے سے جانی پہچانی شخصیت جناب الیاس چوہدری صاحب نے حاصل کیا۔

نعتِ رسول ِ مقبول ۖ
دعا اور حمد کے رنگ سے سرشار نعت معروف نعت خوان جناب ذیشان مسعود نے پیش کی اور او ر اسکے بعد نعت گو شاعر اور حسان ِ ہیوسٹن کا لقب رکھنے والے سید ایاز مفتی نے بارگاہ ِ رسالتمآب ۖ میں گلہائے عقیدت نچھاور کئے۔

عبدالستار ایدھی اور امجد صابری کے لئے قراردادِ تعزیت
اسکے بعد انجمن تقدیس ِ ادب کے کلیدی رہنما جناب الطاف حسین بخاری کو قراردادِ تعزیت پیش کرنے کے لئے بلایا گیا۔ انہوں نے اس موقع پر مرحوم امجد صابری اور بابائے خدمت عبدالستار ایدھی صاحب کے لئے ایک منٹ کی خاموشی کی قرارداد پیش کی۔ اور تمام شرکائے کرام نے کھڑے ہو کر سورتِ فاتحہ اور سورہ اخلاص کے ذریعے انکے لئے خصوصی دعائے مغفرت کی ۔ اس کے بعد الطاف بخاری نے نظامت کی ذمہ داری جناب سیدایاز مفتی کے حوالے کی۔

بحرِ خفیف میں منظوم نظامت
اس موقع پر سید ایازمفتی نے بتایا کہ وہ پچھلے مشاعرے کی طرح اس مشاعرے کی نظامت بھی منظوم کریں گے اور اِمشب نظامت کی بحر بھی ایک ہی ہوگی، جو کہ بحرِ خفیف ہوگی ۔اب مشاعرہ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ اس عید ملن ادبی شام کے پہلے دورِ ظریفانہ میں میں جن شعرائے کرام نے اس محفل میں شرکت کی اس میں، جناب زاہد محمود، ڈاکٹر خالد رضوی، ملک سعیدی نے میدان ِ ظرافت میں اپنے جوہر دکھائے ۔ اور اپنے مزاحیہ کلام سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔ اسکے بعد جناب اصغر نقوی صاحب نے خالصتا روایتی اور کلاسیکی رنگ کی ایک غزل پیش کی۔ اور سامعین نے انہیں بیحد سراہا۔ اس موقع پر شہرِ ادب میں تشریف لائے ہوئے ایک مہمان شاعر بنام اطہر عباس کو بھی دعوتِ سخن دی گئی۔ انہوں نے رنگِ مودت میں اپنا کلام سنا کر ہر کسی کو اہلِ بیت کی محبت سے سرشار کر دیا۔ بزم یاران ِ سخن کے رکن ِ خاص اور معروف ادبی اور سماجی شخصیت جناب شمشاد ولی خان نے ایک انتہائی خوبصورت چھوٹی بحر کی غزل سنا کر ہر کسی کی توجہ حاصل کر لی۔ صدرِ مشاعرہ نے بھی بطورِ خاص شمشاد ولی خان سے انکے کچھ اشعار مکرر ارشاد کے ساتھ سنے۔ سامعین نے انہیں دل کھول کے داد دی۔ اسکے بعد شہر کی ایک اور شاعرہ محترمہ رعنا حسین کو دعوتِ سخن دی گئی۔ انہوں نے اس موقع پر نسائیت سے بھرپور غزلیات پیش کیں۔ اس موقع پر سید ایاز مفتی نے جناب صدر ِ مشاعرہ اور صاحب شام کی اجازت سے اپنا کلام پیش کیا۔ سید ایاز مفتی نے اپنے قطعات اور اپنی معلمہ اور نعت خواں والدہ مرحومہ کے نام لکھا گیا ایک خصوصی قطعہ سنایا اور اسکے بعد ایک بالکل نئی اور مترنم غزل سنا کر داد و تحسین حاصل کی۔ محترمہ تسنیم عابدی، خالد خواجہ، ظہور الاسلام جاوید اور حضرت ِ عارف امام نے ان سے مکرر ارشاد کر کے بعض اشعار سنے ۔ اور یوں وہ بھی خاصی داد سمیٹنے میں کامیاب رہے۔ اس محفل کی ایک خاص بات یہ تھی کہ کافی عرصے بعد ہیوسٹن شہر کی تین ادبی تنظیموں کے سربراہان بھی اس موقع پر موجود تھے جس میں علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن کے کلیدی رہنما نوشہ اسرار، بانی انجمن تقدیس ادب سید ایاز مفتی اور بزم یاران سخن کے سرپرستِ اعلی جناب خالد خواجہ اور صدر باسط جلیلی شامل تھے ۔

اب ناظم مشاعرہ سید ایاز مفتی نے معروف نظم کے حوالے سے شہرت رکھنے والے شاعر باسط جلیلی کو دعوتِ سخن دی، انہوں نے اوجِ انساں پیش کر کے ہر شخص کی آنکھ کو نمدیدہ کردیا اور اس کے بعد ایک نئی غزل پیش کی اور خوب داد و تحسین کے سزاوار ٹہرے۔ انکے ایک شعر۔ کیوں نہ اپنوں میں رہوں اور ہزاروں میں رہوں۔ کو بار بار سنا گیا۔ اس کے بعد شہر ِ ادب میں شاعر، کالم نگار، اور ریڈیو ینگ ترنگ کے روحِ رواں جناب سلیم سید کو دعوت ِ سخن دی گئی۔ انکی چھوٹی بحروں میں کہے گئے کلام کو خوب سراہا گیا۔ اس کے بعد انجمن تقدیس ادب کے رہنما اور شاعرِ جمال جناب الطاف بخاری کو دعوت دی گئی ۔ اور انہوں نے اپنی معروف نظم جشنِ حریف پیش کی۔ انکی نظم میں استعمال تراکیب اور استعاروں سے مہمانانِ ذیشان خوب متاثر نظر آئے اور یوں الطاف بخاری نے خوب داد و تحسین سمیٹی۔ اس کے بعد شہر ِ ادب میں منفرد لہجہ اور انداز رکھنے والی بے حد حسین لب و لہجہ کی شاعرہ محترمہ حِنا رضوی صاحبہ کو دعوتِ سخن دی گئی۔ اور وہ ہمیشہ کی طرح داد سمیٹنے میں کامیاب رہیں۔ ہر شخص انکے اشعار پر آفرین کہتا نظر آیا۔ اسکے بعد ڈاکٹر نوشہ اسرار کو دعوت دی گئی۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں ایک نظم جو امت ِ مسلمہ کی زبوں حالی کا احاطہ کرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ان کی اس نظم نے ہر کسی کو داد دینے پر مجبور کر دیا۔ خود ناظم مشاعرہ ، اور صدرِ محفل بھی اس جوش کی رو میں بہہ گئے ۔ جو انکی نظم نے پیدا کیا تھا ۔ بعد ازاں انجمن تقدیس ادب کے سرپرست اعلی جناب مسرور بریلوی کو کو دعوت سخن دی گئی۔ انہوں نے محفل کو رنگِ محبتِ مصطفی ۖ میں ڈھال دیا اور ایک خوبصورت طرحی نعت پیش کی جسکے بعض اشعار بہت خوبصورت تھے ۔ اس موقع پر شہرِ ادب کو ادبی راہوں پر گامزن کرنے والے ڈاکٹر ظفر حسین تقوی جو کہ معروف شاعر شعلہ کراوری کے فرزند ِ ارجمند ہیں کو دعوتِ سخن دی گئی ۔ اور انہوں نے تجربہ اور زندگی کے مسائل کا مظہر کلام پیش کیا ۔ اور اسکے بعد ایک طرحی غزل سنا کر خوب داد و تحسین سمیٹی۔ اب گجرات پاکستان سے آئے ہوئے مہمان شاعر جناب احمد عطا کو دعوت سخن دی گئی۔ جو کہ رنگ تغزل میں اپنا کلاسیکی انداز رکھتے ہیں۔ اور خاص و عام میں بہت مقبول ہیں۔ انہوں نے بیحدنئی ردیف پر مبنی غزل سنا کر سینئر شعرا کو خوب محظوظ کیا۔ اسکے بعد سید ایاز مفتی نے مہمانِ ذیشان محترمہ تسنیم عابدی صاحبہ کو سب سے پہلے تو انکی نئی کتاب ردائے ہجر پر مبارکباد پیش کی۔ اور اسکے بعد نہ ختم ہونے والی تالیوں کی گونج میں دعوت ِ سخن دی ۔ محترمہ نے اپنی نئی کتاب سے کچھ غزلیات پیش کیں۔ اور ہمیشہ کی طرح ہر ایک کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ ازاں بعد جدید غزل میں اپنا کردار ادا کرنے والے غضنفر ہاشمی صاحب کو دعوت دی گئی۔ انہوں نے اپنے خاص رنگ میں غزل پیش کی اور ہر کسی کو واہ واہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں ہرکسی کو گھائل کر گئے۔ اور اب پاکستان بھر میں اپنا لوہا منوانے والے اور ہیوسٹن کی جان بیحد دلعزیز شاعر اور سرپرستِ اعلی بزم یاران ِ سخن جناب خالد خواجہ کو دعوت ِ کلام دی ۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں اپنا کلام پیش کیا اور عارف امام اور دیگر سامعین کی فرمائش پر بھی کچھ قطعات پیش کئے ۔ انہوں نے اپنے خوبصورت کلام سے محفل کو ایک نئے رنگ میں ڈھال دیا ۔ ہر کوئی انکی شاعری سے محظوظ ہوتا نظر آیا۔ اب نوشہ محفل جناب ظہور الاسلام جاوید کو تالیوں کی گونج میں دعوت دی گئی۔ اور سامعین نے انکے کلام کو بیحد سراہا گیا۔ ہر کوئی انکے کلام و انداز کا گھائل نظر آیا۔ اور آخر میں ان سے تسنیم عابدی اور ایاز مفتی کی خصوصی فرمائیش پر منظوم دعا پیش کرکے گویا ہر ایک کے دل کی دعا پیش کردی ۔ اس دعا میں ظہور الاسلام نے بہت خوبصورت تراکیب کا استعمال کیا ہے ۔ہر کوئی اس موقع پر دوران ِ سماعت اپنے انداز میں دعا گو نظر آیا۔ انکا ہر شعر جیسے حاضرین کی اپنے رب سے بصمیم ِ قلب دعا تھی ۔

اس موقع پر جناب ظہور الاسلام جاوید نے کہا ۔ کہ آج کی محفل کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں۔ کہ یہاں اردو کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ اور شاعری کی ترویج اور اردو کے تحفظ کے لئے یہاں بہت کام ہو رہا ہے۔ اور بہترین ادب تشکیل پا رہا ہے۔ انہوں نے بانی تقدیس ِ ادب اور انکے معاونین کا بطورِ خا ص شکریہ ادا کیا۔ اسکے بعد صدرِ محفل فقیرِ شہرِ ادب حضرتِ عارف امام کو بلایا گیا۔ کلام عارفانہ خود حضرتِ عارف سے سننا بھی ایک تاریخ رقم کرنے کے مترادف ہے۔ ہر کوئی انکے کلام کے رنگ میں ڈوب گیا۔ محفل کا ہرشخص انہیں داد دینے پر مجبور نظر ا یا ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا ۔ کہ داد نہ دینا گویا کوئی گناہ ہے ۔ اور اس میں کوئی بھی خود کو گناہگار نہیں رکھنا چاہتا تھا ۔محفل پوری طرح قبضہ امام میں تھی ۔ اور سخن کے امتی امام کو ہمہ تن گوش سن رہے تھے۔ انتہائی مرصع، عارفانہ، فقیرانہ اور صوفیانہ شاعری سماعت کی گئی۔ غضنفر ہاشمی، خالد خواجہ ۔ جناب ظہور الاسلام جاوید، احمد عطا، تسنیم عابدی ہرکسی کی خواہش تھی۔ کہ عارف امام سناتے رہیں اور لوگ سنتے رہیں۔ انکی حالیہ تازہ غزل کے ایک ایک شعر نے پوری محفل کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اور سامعیں لطف کی معراج پہ تھے ۔بڑے اصرار کے باوجود فقیرِ شہر نے صرف تین غزلیں پیش کیں ۔ وگرنہ ماحول اس سے کہیں زیادہ کا متقاضی تھا۔ آخر میں جناب صدر نے سید ایازمفتی کا بطورِ خاص شکریہ ادا کیا۔ اور اس محفل کو ایک یادگار محفل قرار دیا۔ اور جناب صدر کی اجازت سے سید ایاز مفتی نے مشاعرہ کا اختتام کیا ۔

مختصر جھلکیاں
انجمن تقدیس ادب کے بانی حضرت ِ سید عبدالستار مفتی کا خوبصورت شعر اور تصویر خوبصورت نظارہ پیش کر رہی تھی۔ دو خوبصورت بینرز آویزاں کئے گئے تھے ۔ جس میں جناب ظہور الاسلام جاوید، عارف امام خالد خواجہ، غضنفر ہاشمی، تسنیم عابدی صاحبہ، احمد عطا، ابنِ مفتی اور الطاف بخاری کی تصاویر نمایاں تھیں۔

سید ایاز مفتی کی رہایش گاہ پر ایک مدت کے بعد شاعروں کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ اور ایک ساتھ تین ادبی تنظیموں کے سربراہان اس میں شریک تھے۔ سید ایاز مفتی نے بحرِ خفیف میں منظوم نظامت کی۔ اور ہر شاعر کو اسکی شعر ی محاسن اور نام کی مناسبت سے اشعار کی صورت میں دعوتِ سخن دی گئی۔ خصوصا باسط جلیلی، خالد خواجہ، تسنیم عابدی اور عارف امام کو دعوت دینے سے پہلے انکے خیر مقدمی اشعار سامعین نے خوب پسند کئے ۔ مشاعرہ کے بعد تصاویر کا سیشن کیا گیا ۔ جس میں شرکانے اپنے محبوب شاعروں کے ساتھ تصاویر بنوائیں ۔ سید ایاز مفتی نے اس موقع پر معاصر ادبی تنظیموں کے اراکین کا بطورِ خا ص شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر سیدا یاز مفتی نے میڈیا کی ٹیم عمر قریشی، ساحر قریشی، سلیم سید، زارا سید اور عبدالستار قریشی، حسن باجوہ اور ناصر ملک صاحب کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔ یہ محفل تقریبا ایک بجے اپنے اختتام کو پہنچی۔ محفل میں موجود ہر شخص ماحضر اور مشاعرے کے نظم و ضبط کی توصیف کرتا نظر آیا۔ اس ٹیم ایونٹ کو آرگنائز کرنے میں سید ایازمفتی کے معاونت سید ایاز مفتی اور انکے اہلِ خانہ اور انکے دستِ راست جناب الطاف بخاری نے کی ۔

Comments

aimal.nawaz@gmail.com's picture

what i can say?

Submitted by [email protected].. on Tue, 08/16/2016 - 20:53