اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر لیا گیا

ایک شام حضرت ِعارف امام کے ساتھ

انجمن تقدیسِ ادب کا پہلا طرحی مشاعرہ صاحبِ طرح کے ساتھ
چھبیس مارچ کو انجمن ِ تقدیس ِ ادب کے زیر ِ اہتمام ہیوسٹن کے ایک معروف ریسٹورنٹ افغان ولیج ہلکروفٹ میں ایک حسین اور یادگار ادبی شام کا انعقاد ہوا۔ جسے ایک شام حضرتِ عارف امام کے ساتھ کا نام دیا گیا۔ مغرب کے فورا بعد پہلے ماحضر سے حاضرین کی تواضع کی گئی اور ازاں بعد باقاعدہ محفل کا آغاز ہوا۔ اس تقریب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں ایک جداگانہ طرزو روش کا آغاز کیا گیا۔ ایک طرحی مصرعہ حضرتِ عارف امام کے کلام سے لیا گیا اور یوں صاحبِ طرح کے ساتھ یہ طرحی مشاعرہ ہ منعقد ہوا ۔ مصرعہ طرح
یہ جو ٹوٹا تو رب نظر آیا
" کتنا روشن مرا ارادہ ہے"
بحرِ خفیف میں تھا۔ تو ناظم مشاعرہ جناب سید ایاز مفتی (ابنِ مفتی) نے اعلان کیا کہ آج کی منظوم نظامت بھی بحرِ خفیف میں ہوگی۔ انہوں نے نقابت کے فرائض بحسن و خوبی سر انجام دئیے۔ اور اسکی تحسین معزز مہمانانِ گرامی نے بھی کی اور اسے ایک خوشگوار تجربہ قرار دیا۔ تلاوتِ کلام پاک کی سعادت بریگیڈیئر ارشاد خان نے حاصل کی اور اس کے بعد ہندوستان سے تعلق رکھنے والی ریڈیو ہیلتھ اور ھیپینس کی روح رواں پوجا شِو شنکر نے بسم اللہ پر کلام پیش کر کے ہر ایک کا دل جیت لیا۔

سید الطاف بخاری نے سید ایاز مفتی کو نعتِ رسول محترمۖ پڑھنے کی دعوت دی گئی اور اسکے بعد جناب الطاف بخاری نے سامعین کو مختصرا مشاعرہ کے فارمیٹ کے بارے میں بتایا اور معزز مہمانان ِ گرامی کو انکی نشتوں پر بلایا۔ اسٹیج کو فرش ِ محمدی کی طرز پر بنایا گیا ۔ اور عقب میں انجمن کا بنایا ہوا بینر بہت خوبصورت اور دلآویز دکھائی دے رہا تھا۔ محفل میں شہر کے چیدہ اور معروف شعرا ئے کرام کو دعوت دی گئی تھی، جس میں فقیرِ شہر ادب، نابغہ عصر، فقیرِ شہر ِ ادب اور صاحبِ شام حضرتِ عارف امام، معروف اور ہردلعزیز محترمہ تسنیم عابدی صاحبہ، راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر غضنفر ہاشمی اور میری لینڈ سے تشریف لائی ہوئی مونا شہاب، معروف اور ہر دلعزیز نوشہ اسرار، اسلام آباد سے تشریف لائے ہوئے طاہر حنفی، بزم ِ ادب کے روح ِ رواں اور ہیوسٹن شہر میں طرحی مشاعروں کی بنیاد ڈالنے والے حضرتِ ڈاکٹر ظفر تقوی، معروف شاعر ڈاکٹر غلام سرور ساگر، عبدالسلام جمیل، شاعرِ جمال سید الطاف بخاری، معروف شاعرہ رعنا حسین، اور ناظم ِ مشاعرہ سید ایاز مفتی المعروف ابنِ مفتی نے شرکت کی۔ طرحی غزلیں پیش کرنے والوں میں الطاف بخاری، مونا شہاب، عبدالسلام جمیل، ڈاکٹر ظفر تقوی، رعنا حسین، نوشہ اسرار اور محترمہ تسنیم عابدی صاحب شامل تھیں۔

ڈیلاس سے جناب اصغر نقوی بوجوہ شریک نہ ہوسکے مگر انہوں نے اپنی طرحی غزل بھیج دی۔ حضرتِ عارف امام پر مضامین کے سلسلے میں خطاب کرتے ہوئے معروف شاعر جناب غضنفر ہاشمی نے حضرتِ عارف امام کی اسلوب اور شاعری کے محاسن پر سیر ِ حاصل گفتگو کی۔ اور انہیں اس عہد کا ایک سچا اور بے لاگ شاعر قرار دیا۔ اس موقع پر انہوں نے عارف اما م سے اپنی دیرینہ رفاقت کا بھی ذکر کیا ۔ انہوں نے اسکے بعد اپنی کچھ غزلیات پیش کیں ۔ محترمہ تسنیم عابدی صاحبہ نے اس عہد کو اس لحاظ سے امیر قرار دیا کہ اس میں عارف امام جیسا فقیر موجود ہے۔ اور غزل میں درد کی چاشنی کو مرثیہ کی خوشبو سے مہمیز کرنا کا بھی کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے حضرتِ عارف امام کے اسلوب اور رنگِ غزل کو بہت منفرد ، جداگانہ قرادیتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا سید ایاز مفتی نے فقیرِ شہرِ ادب کی ذات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پوری دیانتداری سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ عارف امام غزل کے لئے نہیں بلکہ غزل عارف امام کے لئے اتری ہے۔

آخر میں عہد ِ حاضر کے معروف اور ہردلعزیز صوفی شاعر جناب عارف امام کو دعوت ِ سخن دی گئی اس موقع پر حاضرین کی جانب سے انہیں اسٹینڈنگ اویشن دیا گیا۔ عارف امام کے ہر ہر شعر پر انہیں دل کھول کر داد دی گئی۔ اور سامعین نے اپنی سماعتوں کو معطر کیا۔ اس موقع پر انجمن تقدیس ِ ادب کی جانب سے ایک خصوصی ضمیمہ بھی حاضرین میں تقسیم کیا گیا جس میں بے حد معروف اور مستند شاعر جناب پرویز ساحر ، تسنیم عابدی ، سید ایاز مفتی اور الطاف حسین کی جناب عارف امام پر لکھے ہوئے مضامین شامل کیئے گئے۔ یہ شاندار اور پروقار تقریب تقریبا بارہ بجے اپنے اختتام کو پہنچی۔ اس موقع پر حاضرین نے اپنے پسندیدہ شعرا کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ دنیا ٹی وی اور اردو ٹائمز کے نمائندوں نے اس تقریب کی کوریج کی۔ دنیا ٹی وی نے اس موقع پر ایک نیوز کلپ کے لئے عارف امام ، غضنفر ہاشمی، الطاف بخاری اور سید ایاز مفتی کے خیالات ریکارڈ کئے ۔