اشاعت کے باوقار 30 سال

امریکہ کی زیر قیادت افغانستان پر حملہ کیا گیا

آج کے دن 2001 میں امریکہ کی زیر قیادت افغانستان میں قائم طالبان کی حکومت کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کی ابتدا امریکی اور برطانوی طیاروں کی بمباری سے ہوئی۔ ان کو فرانس ، جرمنی ، آسٹریلیا اور کینیڈا کی فوجی مدد بھی حاصل تھی۔ طالبان مخالف شمالی اتحاد نے اپنے فوجی دستے مہیا کر دئے۔ یہ 11 ستمبر 2001 کو نیو یارک اقور واشنگٹن میں دہشت گردی کے جواب میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ابتدا تھی۔ افغانستان کی طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کو مقدمہ چلانے کے لئے اتحادی فوج کے حوالے کرنے کو کہا گیا۔ طالبان کے انکار پر کابل ، قندھار ، جلال آباد ، قندوز اور مزار شریف میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی۔ اس کے بعد شمالی اتحاد کے دستوں کی مدد سے زمینی کارروائی کی گئی۔ 12 نومبر کو طالبان نے کانل خالی کر دیا۔ دسمبر کے اوائل میں ان کا آخری گڑھ قندھار بھی ان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔ طالبان راہ نما ملا عمر تورا بورا کی پہاڑی غاروں میں جا کر چھپ گیا۔ دسمبر کے وسط میں تورا بورا پر بھی اتحادی فوجوں کا قبضہ ہو گیا تو وہاں اسامہ بن لادن کا نشان تک نہ ملا۔ تورا بورا کی فتح کے بعد افغان سرداروں اور جلا وطن راہ نماؤں کا جرگہ حامد کرزائی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس جرگے نے حامد کرزائی کو افغانستان کا عبوری صدر مقرر کیا۔ بعد میں عام انتخابات میں حامد کرزائی ارغانستان کے پہلے جمہوری صدر منتخب ہوئے۔