اشاعت کے باوقار 30 سال

مصر کے صدر سادات کا دورہ اسرائیل

کسی بھی عرب راہنما کے لئے ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر مصر کے صدر انور السادات آج کے دن 1977 میں اسرائیل کے دورے پر تل ابیب پہنچ گئے۔ اس دورے کا مقصد کئی دہائیوں سے جاری تنازعہ کی صورت حال کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لئے بات چیت کرنا تھا۔ اس دورے کے دوران صدر سادات نے اسرائیل کے وزیر اعظم میناخم بیگن سے ملاقات کرنے کے علاوہ اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب بھی کیا۔ عرب دنیا میں اکثر و بیشتر ان کے اس اقدام پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ مگر خطے میں اپنے دوست ممالک کی تنقید و مخالفت کے باوجود سادات نے ستمبر 1978 میں امریکہ میں کیمپ ڈیوڈ میں امریکی صدر جمی کارٹر کی موجودگی میں اسرائیلی وزیر اعظم سے ایک اور ملاقات کی اور کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کئے۔ اس معاہدے کے مطابق 1979 میں دونوں ممالک کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات قائم ہو گئے۔ امن کی کوششوں کے اعتراف میں 1978 میں سادات اور بیگن دونوں کو مشترکہ طور پر امن کا نوبل انعام دیا گیا۔ سادات کی امن کے قیام کی یہ کوششیں عرب دنیا میں عام طور پر ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھی گئیں۔ 6 اکتوبر 1981 کو شدت پسند مسلمانوں نے ایک تقریب کے دوران انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔