اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی وفات

برصغیر کے عظیم فلسفی اور شاعر علامہ محمد اقبال آج کے دن 1938 میں وفات پا گئے۔ سر علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1938 کو ایک دین دار گھرانے میں شیخ نور محمد صاحب اور آپ کی اہلیہ امام بی بی صاحبہ کے گھر کا چراغ بنے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ ہی میں حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں گریجویشن کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لئے جرمنی چلے گئے۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد واپس وطن آ گئے ۔ تحریک پاکستان میں آپ کا ایک اہم کردار ہے۔ 1931 میں الٰہ آباد میں آپ کا خطبہ صدارت تصور پاکستان کا نقطہ غاز سمجھا جاتا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے آپ پاکستان کو معرض وجود میں آتا نہ دیکھ سکے اور 21 اپریل 1938 کو لاہور میں وفات پا گئے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور مسلمانوں میں عظمت رفتہ کے حصول کا جذبہ پیدا کرنا آپ کی شاعری کا محور ہے۔ آپ نے بہت سی کتب تحریر کیں جن میں سے زیادہ تر آپ کے مجموعہ ہائے کلام ہیں۔ فارسی میں اسرار خودی ، رموز بے خودی ، پس چہ باید کرد ، جاوید نامہ ، پیام مشرق ، زبور عجم اور اردو میں بانگ درا ، بال جبریل ، ضرب کلیم اور ارمغان حجاز ( اس کا ابتدائی کچھ حصہ فارسی شاعری پر مشتمل ہے ) آپ کی چند مشہور کتب ہیں ۔ آپ کی آخری آرام گاہ لا ہور میں شاہی مسجد کے احاطہ میں ہے۔