اشاعت کے باوقار 30 سال

افغانستان کے حکمران امان اللہ مستعفی ہونے پر مجبور

افغانستان کے بادشاہ امیر امان اللہ ( بعد میں انہوں نے امیر کی بجائے ملک کہلانا پسند کیا ) کو مذہبی راہنماؤں کے دباؤ کے پیش نظر آج کے روز 1929 میں اقتدار سے دست بردار ہونا پڑا۔ امان اللہ مغرب کی طرز پر ملک کو جدید اور ترقی یافتہ بنانا چاہتے تھے جو افغانستان کے روایت پسند اور قدامت پسند مذہبی طبقے کو منظور نہ تھا۔ مذہبی راہنماؤں کے ملک میں اثرو رسوخ کے باعث امان اللہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے بلکہ حبیب اللہ کلکانی ( جو بچہ سقہ کے نام سے مشہور ہوا ) کی قیادت میں بغاوت کے نتیجے میں امان اللہ تخت و تاج سے دست بردار ہو کر برٹش انڈیا میں چلے گئے۔ وہاں سے وہ یورپ چلے گئے اور 1960 میں زیورچ ، سویٹزر لینڈ میں ان کی وفات ہوئی۔