اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

لڑے بغیر ہتھیار ڈال دئے

خون آلود انگوٹھے کے نشان نے ماں کا جھوٹ فاش کر دیا

ارجنٹائن میں ایک چھوٹے سے قصبے نکوچیا میں ایک خاتون فرانچیسکا روجاز کے دو بچے قتل ہو گئے۔ روجاز نے ایک مرد ویلاکو پر الزام لگایا کہ اس نے صبح کو ویلاکو کی ہم بستری کی خواہش پوری کرنے سے انکار کیا تو وہ اسے دھمکیاں دینے لگا۔ شام کو جب وہ کام سے گھر واپس آئی تو اس نے ولاکو کو گھر سے نکلتے دیکھا۔ جب وہ اندر پہنچی تو اس نے دیکھا کہ اس کے دونوں بچوں کو خنجر گھونپ کر مار دیا گیا تھا۔ پولیس نے ویلاکو کو گرفتار کر کے اس سے پوچھ گچھ کی تو اس نے جرم تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ بے انتہا سختی کئے جانے کے باوجود وہ اپنے بیان پر ڈ تا رہا۔ ریجنل ہیڈ کوارٹر میں مجرموں کی شناخت کے شعبے کا انچارج وَن اوسے ٹچ اس زمانے میں نئے نئے متعارف کئے گئے فنگر پرنٹ سے شناخت کے نظریے سے بہت متاثر تھا۔ اس نے ایک تفتیش کار کو اس گتھی کو سلجھانے کے لئے بھیجا۔ تفتیش کار نے گھر کی اچھی طرح چھان بین کی تو اسے کمرے کے دروازے پر خون آلود انگوٹھے کا ایک نشان ملا۔ روجاز سے اس کے انگوٹھے کا نشان طلب کیا گیا۔ ظاہر نظر سے ہی ثابت ہو گیا کہ دروازے پر روجاز کے ہی انگوٹھے کا نشان ہے۔ مزید پوچھ گچھ کے نتیجے میں روجاز نے جرم تسلیم کر لیا۔ روجاز اپنے بوائے فرینڈ سے شادی کے لئے اپنی سنجیدگی ثابت کرنا چاہتی تھی جسے بچے پسند نہیں تھے۔ اس نے بچوں کو قتل کر کے الزام ویلاکو پر تھوپ دیا۔ روجاز کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ فرانچیسکا روجاز دنیا میں پہلی مجرم تھی جس کا جرم فنگر پرنٹ کے ذریعہ ثابت کیا گیا۔