اشاعت کے باوقار 30 سال

آٹھواں سیارہ دریافت ہوا

رمن ہیئت دان گاٹ فریڈ گال نے برلن کی رصد گاہ میں سیارہ نیپچون دریافت کیا۔ نیپچون جسے عام طور پر آٹھواں سیارہ سمجھا جاتا ہے ، کے وجود کی نشان دہی ایک فرانسیسی ہیئت دان اربین۔جین۔جوزف لی ویریئر نے کی تھی اور یورینس میں کشش ثقل کی وجہ سے ہونے والے اتار چڑھاؤ کا مطالعہ کرتے ہوئے حسابی عمل سے اس کا اندازاً محل وقوع بھی معلوم کیا تھا۔ 23 ستمبر 1846 کو لی ویریئر نے گال کو اپنی دریافت کے بارے میں بتایا۔ اسی شب گال اور اس کے نائب ہینرچ لوئی ڈی اریسٹ ن نے برلن میں اپنی رصد گاہ سے نیپچون کو پہچان لیا۔ 24 گھنٹے تک اس کے پس منظر میں ستاروں کے لحاظ سے اس کی حرکت کے مطالعہ نے نہ بات پایہ ثبوت تک پہنچا دی کہ یہ ایک سیارہ ہے۔ نیلے گیس والے اس ضخیم سیارے ، جس کا قطر زمین کے قطر کا چار گنا ہے ، کا نام رومیوں کے سمندر کے دیوتا کے نام پر نیپچون رکھا گیا۔ اس کے آٹھ چاند معلوم ہو چکے ہیں جن میں سب سے بڑا ٹرائیٹن ہے۔ اس کے گرد تین حلقوں کا نظام ہے ، جن میں سے ایک شوخ اور باقی کم شوخ ہیں۔ یہ سورج کے گرد اپنا ایک چکر 165 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔