اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

میں کیسے زندہ بچا؟

چند ہفتوں قبل جب کراچی کے ایک معروف ہوٹل میں آگ لگی تو وہ ہر چینل کی بریکنگ نیوز تھی ۔ لاہور میں الیکٹرانک میڈیا کے صحافی کی زبان میں اس کو ’’پھٹا‘‘ کہتے ہیں۔ اب جس وقت پھٹا چل رہا تھا تو میں اپنی مصروفیت کی وجہ سے اس کو مکمل وقت نہیں دے سکا۔ بس اتنا ہی معلوم تھا کہ کراچی کے ایک ہوٹل میں کسی وجہ سے شدید آتشزدگی ہوئی ہے‘جس میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ اگلے دن اخبار سے خبر اور اس کی نوعیت کا علم ہوا اور اسی روز مجھے معلوم ہو اکہ ہمارے ہی ادارے کا ایک نوجوان اسی ہوٹل میں موجود تھا اور وہ بھی وہاں سے زندہ بچنے والوں میں شامل تھا۔ اس کی ’سروائونگ اسٹوری‘ مختصراًاس کی زبانی سنئیے۔

میرانام یاسر نیازی ہے اور میں پاکستان کے سب سے بڑے پراپرٹی پورٹل کے مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ میں اے ایم کی جاب کر رہا ہوں۔ میں دفتری امور کے سلسلے میں کراچی گیا تھا۔ دن بھر کام کرنے کے بعد حالت ایسی تھی کہ دل کر رہا تھا کوئی یہی چارپائی دے اور میں یہاں ہی سو جاؤ۔ تھکن سے چُور بدن کے ساتھ میں ریجنٹ ہوٹل پہنچا اور آٹھویں فلور پر اپنے کمرے ’ کمرہ نمبر 828‘ میں چلا گیا۔ میرے دوست نے اندر آ کر ٹی وی آن کر دیا اور میں نے کپڑے تبدیل کر کے اپنے آپ کو بستر پر گرا دیا۔ میں چند ہی سیکنڈ میں سو چکا تھا۔ رات کے کسی پہر میرے دوست نے مجھے روز سے جھنجھوڑا، ’’ابے یاسر اُٹھ‘ آ گ لگی ہے ‘ بھاگ۔۔۔‘‘ اُس کے یہ بے ربط الفاظ تھے جو میرے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح سے لگے۔ میں اُٹھا تو کمرے کی روشنی میں دیکھا کہ کمرے میں ہلکا ہلکا دھواں آ رہا ہے۔ یہ دھواں ایگزاسٹ اور ائیر کنڈیشننگ سے آ رہا تھا۔ میرا دوست دروازے تک پہنچ چکا تھا۔ میں نے جلدی سے سائڈ ٹیبل سے موبائل اُٹھایا اور باہر کی جانب دوڑ لگا دی۔ ہمیں نہیں پتا تھا کہ آ گ کہاں لگی ہے۔ میری حس اب جاگ رہی تھی اور میں نے سوچا کہ اب پریشانی سے کچھ نہیں ہوگا‘ ہم آٹھویں فلور پر ہیں اور ہمیں سب سے پہلے جتنا جلدی ہو سکے نیچے آنا ہے۔ کمرے میں لیپ ٹاپ‘ بیگ‘ پیسے‘ جوتے ‘ کمرے اور سب ہی کچھ تھا‘جو وہی چھوڑا حتی کہ جوتے بھی نہیں پہنے اورہم باہر بھاگے۔ میں تھا‘ میرا دوست تھا اور میرے ہاتھ میں دونوں موبائلز تھے۔ ہم لفٹ کی جانب دوڑے۔

اسی لمحے خیال آیا کہ لفٹ تو بند ہوگی۔ ہم نے وہی سے فائر ایگزٹ کی جانب دوڑ لگا دی۔ اسی اثنا میں مختلف کمروں سے لوگ باہر آ رہے تھے اور باقی کے کمروں پر ہم ٹھونک بجا کر چلا رہے تھے کہ بھاگو ‘ آ گ لگی ہے۔ فائر ایگزٹ کا دروازہ اندر بند تھا۔ ذہن میں ایک ہی دم مختلف خیالات دوڑ گئے ، بلدیہ فیکٹری کا سانحہ بھی یاد آیا۔ اس منزل پر تیزی سے دھواں پھیل رہا تھا ۔ ہم نے دروازے کو ٹھوکریں مارنا شروع کر دی۔ میں نہیں جانتا کہ وہ دروازہ ٹوٹا تھا کہ کھلا تھا‘ لیکن جیسے ہی دروازے ایک جھٹکے سے دیوار سے ٹکرایا تو کالے رنگ کا سیاہ گاڑھا دھواں ہمارے نتھنوں سے ٹکرایا۔ اس کی بدبو متلی کیلئے کافی تھی لیکن حواس کو قابو میں رکھنے کی وجہ سے ہم بس بھاگے۔ اُس فائر ایگز ٹ میں دھواں اس قدر شدید تھا کہ سانس لینا دشوار تھا‘ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا اور ہم سیڑھیاں پھلانگ رہے تھے ۔ شدید دھویں میں محسوس ہو گیا کہ ہم زیادہ نیچے نہیں جا سکتے ہیں۔ موبائل کے ٹارچ کی روشنی میں ہم نے سیڑھیوں کے ایک دروازے کو زور سے دھکا دیا تو وہ کھل گیا۔

اب ہم پانچویں منزل پر تھے ۔ ہم اُس منزل کے آخری کنارے پر پہنچے اور ایک کمرے میں گھس گئے ۔ اس کمرے میں اور لوگ بھی تھے ۔ سامنے کی کھڑکیاں تھی جو کہ مضبوطی سے بند تھی ، ہم نے دروازہ بند کر دیا کیونکہ پانچویں فلور پر اس قدر شدید دھواں تھا کہ سانس لینا ناممکن تھا۔ ناک‘ آنکھ اور منہ سے پانی بہہ رہا تھا۔ ہم نے سب سے پہلے کھڑکیاں توڑی۔کھڑکی کا بڑا سا شیشہ ایک زور دار چھناکے کے ساتھ ٹوٹا۔ا سی اثنا میں اوپر سے بھی شیشہ نیچے کی جانب گر رہا تھا۔ ہم نے لوگوں کو دیکھا۔ وہ نیچے کھڑے ہوکر اوپر کی جانب دیکھ رہے تھے ۔جیسے ہی ہم نے نیچے دیکھا تو آگ کا ایک بہت بڑا شعلہ نیچے ہی جانب سے اوپر کو اٹھتا ہو ا دکھا ئی دیا۔ اب معلوم ہوا کہ آگ نچلی منزل پر لگی تھی ۔

باہر ایمبولینسوں کی قطاریں تھی‘ لوگ تھے‘ پریشان صورتیں تھیںاور اگر کوئی نہیں تھا تو مدد نہیں تھی ۔ ہوٹل کی آٹھویں منزل پر مجھے کمرہ دیا گیا تھا اور اس کا سادہ سا مطلب تھا کہ ہوٹل مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنی جانیں بچا رہے تھے ۔ شیشے توڑ دینے کے بعد ہوا اندر کی جانب آ رہی تھی اور اب سانس لینا قدرے آسان تھا۔ کمرے میں کل چھ آ دمی تھے ۔ اب ہم نے یہاں سے نکلنے کا سوچا۔ اس کیلئے ہم نے ایک قدرتی رسی بنائی ۔ یہ بیڈ شیٹوں تو پھاڑ کر اور اُن کی گانٹھیں باندھ کر بنائی تھی ۔ ہم نے وہ رسی نیچے لٹکائی تو وہ تیسری منزل کے قریب پہنچ گئی تھی ۔ ہم نے اُس رسی کو بیڈ کے فریم سے مضبوطی سے باندھا‘ اُس پر میٹرس رکھا‘ پھر ایک اور میٹرس رکھا اور اس پرکمرے میں موجود بھاری سامان رکھ دیا۔

اب باری تھی کہ سب سے پہلے نیچے کون جائے گا۔ اگر ہم کسی طرح سے نیچے سیکنڈ فلور تک پہنچ جاتے تو اُس کے ٹیرس سے بچنے کا امکان تھا ۔ تھرڈ فلور اور سیکنڈ فلور سے کچھ لوگ وہیں سے نیچے کی جانب گئے تھے ۔ وہاں ایک سیمنٹ کے کالم سے ایک سلائڈ سی تھی جو کہ نیچے کی جانب جاتی تھی ۔لیکن پانچویں فلور سے دوسرے فلور تک کیسے جائیں؟ ہم سے کچھ ہی فٹ کے فاصلے پر سکیف فولڈنگ کی طرح کی موٹی سی رسی جھول رہی تھی۔ وہاں سے بچنا ممکن تھا لیکن اُس تک رسائی ممکن نہیں تھی ۔ بیڈ شیٹس کو کاٹ کر بنائی گئی رسی نیچے لٹک رہی تھی ۔ کمرے میں دھواں تیزی سے پھیل رہا تھا ‘ لوگوں میں پریشانی ‘ بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا تھا‘ مدد تھی کہ آنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور فائر ایگزسٹ میں دھواں بھر جانے کی وجہ سے وہاں سے نیچے جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔
اُس کمرے میں موجود چھ لوگوں نے یہی کہا کہ میں نیچے جاؤں کیونکہ سب سے کم وزن میرا ہی تھا۔ خیر تھوڑی سی بحث کے بعد میں جانے کیلئے تیار ہوگیا۔ میں نے اُسی کمرے سے کسی کے جوتے پہنے اورکھڑکی کے راستے ‘خود ساختہ رسی کو پکڑ کر باہر نکلا، ابھی میں نے اپنے آپ کو نیچے لٹکایا ہی تھا کہ میری نظر نیچے کی جانب گئی۔ مجھے ایک دم سے شدید قسم کا چکر آیا۔میری بیڈ شیٹ کی رسی پر گرفت کمزور ہو رہی تھی ۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ مجھے فورا اوپر کھنچیں ۔ انہوں نے مجھے اوپر کھینچا۔میں جیسے ہی ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے راستے سے کمرے میں پہنچا تو اوپرسے بھاری تعداد میں شیشہ نیچے ہی جانب گرا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں بچ گیا ورنہ میرے سر پر گہری چوٹ لگ سکتی تھی ۔ اسی اثنا میںکسی کمرے سے ایک خاتون نے پریشانی کے عالم میں پانچویں فلورسے نیچے چھلانگ لگا دی۔ ہماری آنکھوں کے سامنے وہ خاتون نیچے گرتے ہی دم توڑ گئی۔اب موت تو ہمیں بھی سامنے دکھائی دے رہی تھی ۔

اندر دھویں‘ گرمی اور حبس کی وجہ سے بڑا حال ہو رہا تھا۔ ناک ‘ آنکھوں اور منہ سے پانی نکل رہا تھا۔ سانس لینا نا ممکن ہو رہا تھا ۔ کھڑکی سے بھی ہوا نہیں آ رہی تھی اور دم گھٹ رہاتھا۔ اتنے میں کسی نے تولیے اٹھائے اور اُن کو باتھ روم سے گیلا کر کے لے آیا۔ ہم نے بھی اُس کی پیروی کی۔ ہم اُس کو اپنی آنکھوںپر مل رہے تھے اور اُس کو چوس کر اپنے حواس بحال رکھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔وقتی طور کیلئے یہ کام ٹھیک تھا۔ واش روم سے واپسی پر باہر نکلتے ہوئے میرا پاؤں پھسلا اور میں بہت بڑی طرح سے نیچے گرا۔ میرے ہاتھ میں موجود ایک موبائل گر کر بند ہو گیا۔ میں کسی طرح سے دوبارہ اُٹھا اور جان بچانے کی ترکیب سوچنا شروع کر دی۔ ایک بات واضح تھی کہ اس کمرے میں موت صاف تھی اور اب کمرہ تبدیل کرنا ضروری تھا۔

میں اور میرا دوست باہر بھاگے اور ایک اور کمرے میں گھس گئے ‘ وہاں بھی پہلے سے لوگ موجو دتھے ۔ ہم نے سب سے پہلے اس کمرے میں گیلے تولیے سے خود کو تھوڑا گیلا گیا۔ دروازے کی درزوں میں بیڈ شیٹ پھنسائی اور کھڑکیوں کو توڑ کر ہوا کی ترسیل کیلئے جگہ بنائی ۔ اسی اثنا ء میں آرمی‘ رینجرز اور فائر برئیگیڈ کا عملہ پہنچ رہا تھا۔ آرمی کو دیکھتے ہی ایک سکون سا ہوا کہ شاید اب زندگی بچ جائے ۔ نیچے سے کسی نے آواز لگائی کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور اب حالات انڈر کنٹرول ہیں۔ تاہم کمرے کے حالات آؤٹ آف کنٹرول ہو رہے تھے ۔ سب سے زیادہ معاملہ دھویں کی وجہ خراب تھا جو کہ ایگزاسٹ اور ائیرکنڈیشننگ کی جگہ سے آ رہا تھا۔ یہ سنٹرل سسٹم جس کو بند کرنا ممکن نہیں تھا اور مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس ہوٹل کا عملہ اس وقت کیا کر رہا ہے۔

فوجی جوان سیڑھیاں لگا کر لوگوں کو ریسکیو کرنا شروع ہو چکے تھے۔ ایمبولینسیں لاشیں اور زخمیوں کو اُٹھا رہی تھی ۔ بہت سے ایسے زخمی تھے جنہوں نے جان بچانے کیلئے پریشانی میں چھلانگ لگائی اور اُن کی ٹانگیں اور بازو ٹوٹ چکے تھے ۔ فوجیوں نے سیڑھی سے ساتھ سیڑھی باندھ کر اس کو مطلوبہ اونچائی تک پہنچایا تھا۔ مزید امداد ابھی آ رہی تھی ۔نیچے سے ایک جوان نے ہمیں کہا کہ صاحب آپ کو ساتھ والے کمرے میں آنا ہوگا‘ ہم آ پ کو یہاں سے نہیں بچا سکیں گے۔ ہم نے کہا کہ بھائی ہمیں معلوم نہیں ہے کہ راستہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا، آپ نے باہر کی جانب دوڑ لگانی ہے۔ جیسے ہی اُس نے بات ختم کی تو ساتھ ہی دروازہ روز سے بجا۔ ہم نے دروازہ کھولا تو باہرچند فوجی تھے۔ انہوں نے ہمیں ایک کمرے میں پہنچایا جہاں تک اُن کی سیڑھی کی رسائی تھی ۔ اب ہم باری باری نیچے اتر رہے تھے ۔ پانچویں فلور سے نیچے کی جانب دیکھیں تو دل دہل جاتا ہے(یہاں میرے دوست نے ’مختلف ‘ الفاظ استعمال کئے تھے)۔ہمیں جوان نے کہا کہ صاحب آپ نے نیچے نہیں دیکھنا ہے۔ اِس رسی کو درمیان میں کر لیں ‘ ایک ہاتھ سے رسی پکڑیں اور دوسرے ہاتھ سے سیڑھی کو پکڑیںاور اپنا وزن سامنے کی جانب رکھیںاور آہستہ آہستہ نیچے کی جانب آئیں، کچھ نہیں ہوگا۔ معلوم نہیں کہ اُس کے لہجے میں ایسا کیا تھا کہ میں نے یقین کر لیا کہ مجھے کچھ نہیں ہوگا ۔ میں کھڑکی کے راستے نیچے پہنچ گیا۔

وہاں سے میڈیا لائیو رپورٹنگ کر رہا تھا ، میں بھیڑ سے ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔ مجھے ایک بندے نے کہا کہ جناب آپ کا سامان کہا ںہے ؟ میں نے کہا سامان کی کس کو ہوش تھی ، ابھی سب واپس مل جائے گا۔ اُس نے کہا کہ کچھ بھی واپس نہیں ملے گا۔ کوئی نہ کوئی اس کو غائب کر دے گا اور اگر واپس ملا تو وہ کپڑے ہونگے۔ میں ریجنٹ ہوٹل کے اندر دوبارہ سے داخل ہوا کیونکہ میرا لیپ ٹاپ ‘ پیسے اور سب کچھ زمین سے آٹھ منزلیں اوپر تھا اور جس جگہ سے میں جان بچا کر بھاگا تھا ‘ میں وہی جا رہا تھا۔ اندر سارا ہوٹل جل کر کالا ہو چکا تھا۔جلنے کی بو شدید ترین تھی اور حبس اور گرمی سے بڑا حال تھا ۔ برائے کرم مجھے پاگل مت سمجھئیے گا، ایسی صورتحال میں ایسا ہو سکتا ہے ۔

اوپر جانے کیلئے اب میں نے فائر ایگزٹ کا راستہ چنا۔ یہ ایک عجیب فائر ایگزٹ تھی جو کہ بند تھی جبکہ باقی فائر ایگزٹ اس طرح سے بند نہیں ہوتی ہیں۔ اندر شدید حبس اور گرمی تھی اور ساتھ میں جلنے کی شدید ترین بدبو تھی۔ ہر منزل پر لگتا تھا کہ کسی نے ان دروازوں کو کھولنے کی کوشش کی ہے لیکن کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ میں آٹھویں فلور پر پہنچا تو میرا بڑا حا ل ہو چکا تھا ۔وہاں پر رینجرز یا فوج کے جوان تھے ۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر پوچھا کہ صاحب کون ہو؟ کہاں جانا ہے؟ واپس نیچے جاؤ۔ میں نے کہا کہ میرا سارا سامان اوپر ہے اور میں نے اس کو ہر حالت میں لینا ہے۔ اس منزل پر شدید ترین دھواں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اچھا ، جائیں ‘ لے آئیں۔ میں نے کہا کہ آپ میرے ساتھ آئیں، میرے پاس تو ٹارچ بھی نہیں ہے ۔ وہ میرے ساتھ آئے ۔ میں نے کمرہ کھولنے کی کوشش کی تو وہ بند تھا‘جبکہ میں اسی راستے سے تو باہر نکلا تھا۔ خیر‘ انہوں نے کوئیک مارچ کے بوٹس کا استعمال کیا اور دروازے کو چند ہی سیکنڈ میں توڑ دیا۔ اب میں نے اپنا لیپ ٹاپ‘ والٹ اٹھایا، بیگ میں کپڑے پھینکے اور باہر نکل کر نیچے آ گیا۔ فجر کی اذانیں ہو رہی تھیں، میں نے گھر فون کر کے اپنی خیریت کی اطلاع دی۔ میں وہاں سے اپنے دوست کے گھر گیا ۔ ایک وقت میں ایسا لگ رہا تھا کہ میں شاید زندہ نہیں بچوں گا‘ لیکن میں اللہ کے رحم سے زندہ تھا۔ میرے سامنے لوگ چھلانگیں لگا کر گر رہے تھے‘ زخمی ہو رہے تھے‘ مر رہے تھے ‘ لیکن اللہ نے مجھے زندہ رکھا۔ میں نے ایک بات سیکھی ہے کہ ایسی صورت میں حواس کا بحال ہونا بہت ضروری ہے ورنہ آپ کی زندگی کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتاہے ۔ اس حادثے کی حتمی تحقیقات کیا کہتی ہیں ‘اُس پر بات بعد میں کریں گے لیکن سوال یہ ہے کہ فائر ایگزٹس کو اپ ڈیٹ کب کریں گے؟ اُ ن کے دروازے کب ٹھیک کریں گے؟ آگ بجھانے کے کافی انتظامات کب ہونگے؟ میڈیا کی رپورٹس سے میں متفق نہیں ہوں کہ 14لوگ مرے ہیں،شاید تعداد زیادہ ہی ہو تاہم میں بھی حتمی کچھ نہیں کہ سکتا لیکن اُن کا خون کس کے سر ہے؟