اشاعت کے باوقار 30 سال

مضامین » سید عارف مصطفی

  • ہم بحیثیت ملک اور قوم آگے کیسے بڑھیں ،،، اس پہ سرکھپانے کی مشق بعد میں مناسب رہے گی پہلے تو یہ سم

  • سید عارف مصطفی

  • شہلا رضا کو بھی کیا یاد آگیا،، لیکن کیا کیا بھول گیا

  • سید عارف مصطفی ۔۔۔۔

  • پطرس بخاری کی مانند میں بھی ایک شوہر ہوں اور ایک بیوی رکھتا ہوں۔۔۔بے پناہ محبت کا دعویدار نہیں اور تھوڑی سی محبت کا روادار نہیں۔۔۔ وہ کہیں گھر پہ نہ ہو تو بے حساب امن کے باوجود بے تحاشا سناٹے میرے اندر بولنے لگتے ہیں۔۔۔لہو گرم رکھنے کے بہانے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے، اور مجھے وہی میدان جنگ کی طرح بھانے لگتا ہے کہ جس کو کبھی غصے سے نہ جانے کیا کیا نام دے چکا ہوتا ہوں۔۔۔

  • ملک میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے آپ کی کوششیں لائق تحسین ہیں جو کوئی کمی اگر ہے تو صرف یہ کہ پہاڑی طالبان اور شہری طالبان کے ساتھ یکساں سلوک دیکھنے میں نہیں آیا اور دہشتگردی کے مرتکبین میں سے ایک کو تو ہر طرح سے مارا اور کھدیڑا گیا ہے جبکہ دوسرے کو الیکشن تک لڑنے کی مراعات فراہم کی گئی ہیں۔ایک ہی طرح کے جرم کرنے والے دو گروہوں کے ساتھ رویئے کا یہ فرق مجھ سمیت بہت سوں کی سمجھ سے قطعی بالاتر ہے ۔

  • سلطنت مغلیہ کے زوال کے اسباب کو نصاب میں کئی بار پڑھا لیکن کچھ زیادہ سمجھ نہ آئے بعد میں جب ریڈیو کا زوال دیکھا تو وہ اسباب سمجھنا بہت سہل ہوگیا لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی اور اس وقت ممتحن کے اتفاق کی گاڑی چھوٹ چکی تھی، آج نئی نسل کے لیئے ریڈیو کا مطلب ہے ایف ایم کہ جہاں سارا سارا دن لوکل بقراط یا بقراطن کبھی خوابناک لہجے میں سرگوشیاں کرتے تو کبھی خوفناک سے لہجے میں بڑبڑانے و چلاتے سنے جاتے ہیں

  • روشنیوں کا شہر کہتے ہی پہلے جو شہر ذہن میں آتا تھا اسے کراچی کہا جاتا تھا۔ لیکن اب کراچی کا نام سنتے ہی ذہن کی پہلے سے جلتی بتیاں بھی بجھنے لگتی ہیں پھر اب تو پاکستان میں کئی شہر اور بھی ایسے ہیں کہ جہاں بہت ڈھیر سی بتیاں جلنے لگی ہیں اور یوں ان بتیوں کو دیکھنے کیلئے کم ہی لوگ کراچی کا رخ کرتے ہیں، ہاں البتہ بیشمار ایمبولینسوں کی گھومتی بتیوں کو شریک مقابلہ کر لیا جائے تو یہ اب بھی سب سے آگے ہے۔