اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

مضامین » ثریا بابر

  • شادی ایک ایسا فیصلہ ہے جو زندگی کے دریا کا رخ کسی بھی طرف موڑ سکتا ہے۔ اگر شریک حیات آپ کا ہم مزا

  • ْمیں اس ملک خداداد کی بے بس عوام ہوں جو بھارت میں اپنا سب کچھ لٹا کر اس ۔۔ مدینہ ثانی۔۔ کی محبت

  • عروسہ کی عمر دس سال تھی۔ رضوان اور سدرہ اس کے بہن بھائی تھے۔ وہ اپنے امی ابو اور چچا چچی کے ساتھ

  • ثریا بابر
    بات یہاں سے شروع ہوئی تھی

  • ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی

  • ثریا بابر

  • ہمیں بڑی بوڑھیوں کہانی سنانے کا انداز بہت اچھا لگتا تھا۔ ہماری نانی جب،، ہاں تو بچو!

  • میری بیگم صاحبہ بڑی معصوم سی ہیں۔ انداز سخن ایسا بے ساختہ ہے کہ بات کانوں کو چھیدتی ہوئی دل چیر

  • ہمارے پاس تو روز روز اتنے پیسے نہیں آ رہے کہ اتنا اتنا لہسن منگوا کر رکھ لیں۔ ہماری بہو کو تو رتی برابر تمیز نہیں۔ لے۔ بھر بھر کے لہسن ڈال دے سالن میں۔ اللہ جانے اماں نے یہ ہی سکھا کر سسرال بھیجا ہے کیا ؟؟؟؟ اور کچھ کرنا نہ کرنا لہسن کا خرچہ بڑھا دینا۔

    ساس اماں نے شام کی چائے پی کر پان منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔

  • ر ہم تو پیدا ہوتے ہی حسن کے عاشق ہو گئے تھے کہ ہم نے اپنے اردگرد حسین چہرے ہی دیکھے تھے مگر حسن صرف چہروں میں ہی تو نہیں ہوتا۔ ہمیں تو ہر حسیں شے لبھاتی تھی۔ چاہے وہ حسن کسی بھی رنگ و روپ میں ہو، پھولوں میں ہو، ستاروں میں ہو، انسان کی صناعی میں ہو، خود انسان میں ہو یا اس کی تصویر میں ہو۔

  • تاریخ ،جب دل پر چوٹ پڑے۔ السلام و علیکم!
    آپ کو اس دنیا سے گئے بارہ سال ہونے کو آئے اور مجھے آپ کے سب سے بڑے بیٹے کے گھر میں آئے تیئس سال ہونے والے ہیں۔ گیارہ سال میرا آپ کا ساتھ رہا۔ مائوں کا عالمی دن منایا گیا تو میرا دل چاہا کہ میں آپ سے کچھ بات کر لوں۔

  • ہ واقعہ میری خالہ ساس نے مجھے سنایا تھا ۔ یہ ان ہی کے گائوں کا واقعہ ہے۔ اب تو ان کا انتقال ہوئے بھی پانچ سال ہونے کو آئے۔ مگر آج بھی جب یہ یاد آتا ہے تو میں بے اختیار سوچنے لگتی ہوں ''کیا انسان پتھروں سے زیادہ بے حس ہو سکتا ہے؟''