تصاویر

Login

Online Users

None



الطاف حسین کی بازی گری PDF Print E-mail
کچھ خاص
Saturday, 07 November 2009 19:48
لاہور (خصوصی رپورٹ) ملکی سیاست میں زیر آب اتھل پتھل تو جاری تھی پچھلے دنوں اچانک قائد متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین نے ایک نیا سیاسی گیم شروع کر کے سطح آب کو بھی مرتعش کر دیا ہے لندن سے ایک وفاقی وزیر کو رات دو بجے الطاف حسین نے کال کر کے اسلام آباد کا سارا سیاسی منظر نامہ تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ایوان صدر جو کچھ روز پہلے تک خاموش مگر جارحانہ انداز لئے ہوئے تھا دفاعی پوزیشن پر چلا گیا اس فون کال کے ذریعے صدر زرداری اوران کے قریبی ساتھیوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ جمہوریت، ملک اور قوم کی خاطر قربانی دیں جس کا واحد مطلب یہ اخذ کیا گیا کہ یہ لوگ اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیں۔ جب یہ مشورہ اگلے روز صدر زرداری کو دیا گیا تو حیران و ششدر رہ گئے بلکہ سکتے میں آگئے وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اپنے نازک وقت میں جبکہ وہ فوج، عدلیہ اور ن لیگ کے نرغے میں آچکے ہیں ان کے قریبی اتحادی اس قسم کا مشورہ دیں گے کہ وہ صدارت کا عہدہ چھوڑ کر خود کو اور ملک کو بچائیں۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری فوج، عدلیہ اور نواز شریف کے ہاتھوں مجبور ہو کر کبھی پسپائی اختیار نہ کرتے لیکن الطاف حسین کے فون نے ان کو الرٹ کر دیا اور انہیں پیچھے ہٹنا پڑا آصف زرداری کا یہ بھی خیال ہو گا کہ ایم کیو ایم کے ہزاروں ورکروں نے بھی این آر او سے فائدہ اٹھایا ہے لہٰذا ان کی طرف سے کم از کم وہ خطرہ محسوس نہیں کرتے تھے اور فوج اور نواز شریف سے مل کر ان کے خلاف نہیں جائیگی۔ صدر زرداری کے قریبی حلقے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر موقع آیا تو ایم کیو ایم غیر سندھی سیاستدانوں کے بجائے سندھی لیڈروں کے ساتھ بیٹھنے کو ترجیح دے گی۔ کیونکہ پنجاب کے سیاستدانوںسے متعلق الطاف حسین کی رائے کبھی بھی اچھی نہیں رہی۔ کچھ ہی روز قبل قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے حیدر عباس رضوی اور ن لیگ کے چودھری نثار علی خان کے درمیان تلخ تقاریر کا تبادلہ ہوا جس میں ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کئے گئے۔ اس کے بعد تو پیپلز پارٹی کیلئے یہ سوچنا ہی مشکل تھا کہ اتنی جلدی الطاف حسین اور نواز شریف این آر او ختم کرا کے صدر زرداری سے استعفیٰ لینے پر راضی ہو جائیں گے۔

الطاف حین کا صدر زرداری کو مشورہ ٹائمنگ کے حوالے سے انہیں بساط سیاست کا ماہر چالباز ہونا ثابت کرتا ہے اور ان کے پاور پالٹیکس پر یقین کی شہادت ہے الطاف حسین سمجھتے ہیں کہ کتنا عرصہ انہیں کس لیڈر کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اور کب بدلتے حالات میں نئی سیاسی طاقتوں کے ساتھ نیا اتحاد کر کے اپنی جماعت کو ایوان اقتدار میں رکھنا ہے ان کے اس طرز سیاست پر اخلاقی طور پر اعتراض ممکن ہے مگر پاکستان میں اسی چیز کو سیاست کہا جاتا ہے۔

قبل ازیں جب 1998ءمیں پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو انہیں خطرہ لاحق تھا کہ ماضی کے جرنیلوں کی طرح مشرف حکومت بھی ایم کیو ایم کیخلاف کوئی اقدام کریگی۔ اس صورتحال کو جاننے کے بعد ایم کیو ایم نے دھیرے دھیرے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات استوار کئے مشرف کے اردو سپیکنگ ہونے کو کیش کرایا۔ جیلوں میں قید کارکنوں کو پیرول پر رہا کرایا گیا باقی کی مقدمات میں ضمانت کرائی گئی اور ایم کیو ایم کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا گیا۔ یہ ہے سیاست کی بازی کے ایک طرف الطاف حسین پنجاب کے جاگیرداروں پر تنقید کرتے رہے اور دوسری جانب انہی کے پارٹی رہنما جمالی اور شوکت عزیز کی کابینہ میں پانچ سال تک وزیر رہے، لیکن جب مشرف کا تخت ڈولنے لگا تو انہیں سب سے پہلے استعفیٰ دینے کا مشورہ الطاف حسین نے ہی دیا۔ اور یہ پیغام گورنر سندھ عشرت العباد کے ذریعے بھجوایا گیا۔ یہ الگ بات کہ پیپلز پارٹی کے حلقے کہہ سکتے ہیں ایک آمر کو الطاف نے نو سال بعد یہ مشورہ دیا اور جمہوری صدرکو صرف ایک سال بعد مشورہ دے ڈالا۔ شائد اس میں الطاف حسین کا قصور نہیں کیونکہ ہمارے ادارے اور عوام جرنیلوں کو کم از کم دس سال اقتدار کی مہلت دیتے ہیں اور سیاسی حکومتوں کو ایک ڈیڑھ سال سے زیادہ موقع نہیں دیا گیا۔

الطاف حسین پر یہ بھی دباﺅ ہے کہ کراچی کی حد تک انہوں نے بڑا عرصہ حکمرانی کا مزا لے لیا۔ اب جب تک وہ پنجاب میں جڑیں مضبوط نہیں کرتے کسی بھی طور پر اقتدار میں کلیدی اہمیت اختیار نہیں کر سکتے۔ اس خواہش کے زیر اثر 12 مئی 2007ءسے قبل انہوں نے پنجاب میں جڑیں پھیلانے کی کوشش کی۔ لیکن ان کے اتحادی چودھری پرویز الٰہی نے ان کے قدم نہ ٹکنے دئیے الطاف حسین نے سرائیکی صوبے کی حمائت کر ک چار کروڑ سرائیکیوں کو اپنی بات ٹھنڈے دل سے سننے پر مجبور کر دیا۔ سرائیکی یہ سمجھتے ہیں کہ الطاف حسین واحد قومی لیڈر ہیں جنہوں نے کھل کر ان کی حمایت کی۔ 2005ءکے زلزلے میں ایم کیو ایم نے امدادی کارروائیوں میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ جبکہ مشرف دور میں ہونیوالے الیکشن میں ایم کیو ایم آزاد کشمیر اسمبلی میں بھی اپنے تین نمائندے بھیجنے میں کامیاب ہو گئی۔ لال مسجد کے خلاف جب کوئی بات کرتے گھبراتا تھا۔ اس وقت ایم کیو ایم نے لال مسجد کیخلاف ملین مارچ کرائے سیکولر لبرل اورپروگریسو لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی۔

البتہ 12 مئی 2007ءکو جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد کے موقع پر کراچی کی سڑکوں پر باقاعدہ خون کی ہولی کھیلی گئی جس میں 70 سے زائد لوگ مارے گئے اور جس کا الزام ایم کیو ایم پر عائد کیا گیا۔ اس واقعہ نے ایم کیو ایم کے امیج کو بری طرح تباہ کیا اور زبردست کوشش کے باوجود ایم کیو ایم اپنے دامن سے یہ داغ نہیں دھو سکی۔ بہتر ہوتا ایم کیو ایم اس واقعہ پر قوم سے معذرت کر لیتیں۔ تو شائد ایم کیو ایم کو ملک کے دوسرے حصوں تک پہنچنے میں آسانی ہو جاتی۔ اسی طرح پنجاب میں داخلے سے قبل ایم کیو ایم کو خوف، دہشت، بھتہ خوری اور پنجابیوں کے استحصال کا تدارک کرنا ہو گا تاکہ پنجاب کے اردو سپیکنگ، پنجابی اور سرائیکی ایم کیو ایم سے تعلق پر شرمندہ نہ ہوں۔

سرائیکی علاقہ میں البتہ صورتحال مختلف ہے وہاں لوگ پیپلز پارٹی سے مایوس ہو گئے۔ جبکہ نواز شریف دور میں پنجاب کے 175 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ سے ان علاقوں کو محض 5 ارب ملے۔ ن لیگ سرائیکی صوبے کے یوں بھی خلاف ہے جبکہ اردو سپیکنگ سرائیکیوں کو پنجابیوں سے الگ ایک قوم سمجھتے ہیں اب فوج، عدلیہ اور ن لیگ کے صدر زرداری کے خلاف اتحاد میں ایم کیو ایم کی شمولیت سے واضح ہے کہ ایم کیو ایم پنجاب میں داخلے کیلئے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ سے کلیئرنس سرٹیفکیٹ کا حصول ضروری سمجھتی ہے ہو سکتا ہے کہ ایک سیاسی کھیل اور اقتدار میں رہنے کی کوئی چال ہو مگر اس فیصلہ سے ایم کیو ایم کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے سیاست میں دوستی دشمنی بدلتی رہتی ہے مگر کسی اتحادی سے اتنی جلدی بیوفائی سے خود ایم کیو ایم کی وفاداری پر حرف آسکتا ہے اور پھر لوگ اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں الطاف حسین کی بادشاہ گر بننے کی یہ کوشش بازی گری بھی ہو سکتی ہے اورقوم اب بازی گروں کے غنچے میں نہیں آئیگی۔

 

 

 

Add New
Comments
GROUND ZERO   |68.192.17.xxx |2009-11-08 06:04:52
ALTAF BHAI YOU ARE A COWARD, SHAMELESS, REFUGEE (B HAGAURA) PERSON, PLEASE GET AWAY FROM PAKISTANI PO LITICS.
Ali   |110.37.29.xxx |2009-11-08 17:45:13
I have been reading Urdu Times since I was in Cana da and later in USA. I am happy that this is now a vailable online in Pakistan. It is read in almost all countries where there Pakistani and Indians li ve. I am sorry to say that the Urdu Times is now h as become a biased and sub-standard journal. It sh ould be impartial and should refrain from this typ e of columns. The comments posted by unknown perso n are not worth publishing in a reputed magazine. These are heart breaking for many readers. Words u sed in the comments have hurt the feelings of the supporters of MQM
GROUND ZERO   |68.192.17.xxx |2009-11-09 05:58:22
MR. ALI, TELL US WHAT IS WRONG IN THE COMMENT. HAD HE BEEN BRAVE AND PATRIOTIC PAKISTANI  LEADER HE WOULD HAVE BEEN LIVING IN PAKISTAN NOT  IN ENGLAND. ALL PAKISTANI MUFTIS AND ULEMA (DEOBAN DIS AND BRAILWIS) HAVE ISSUED A FATWA AGAINST HIM  THAT HE IS A "ZINDEEQ AND MURTID" BECAUSE  OF HIS SUPPORT TO "QADIANI" AHMADIA COMMUN ITY. WHAT IS YOUR COMMENT ON THIS FATWA. PLEASE DO  NOT SUPPORT ANY BODY BLINDLY BECAUSE OF HIS REGIO NAL AFFILIATION.
Write comment
Name:
Email:  
Website:
Title:
UBBCode:
[b] [i] [u] [url] [quote] [code] [img] 
 
:angry::0:confused::cheer:B):evil::silly::dry::lol::kiss::D:pinch::(:shock::X:side::):P:unsure::woohoo::huh::whistle:;):s:!::?::idea::arrow:
 
Please input the anti-spam code that you can read in the image.