|
دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے جن ممالک کو بعض پابندیوں کے ساتھ آزادی دی ان میں جاپان کا نام سر فہرست ہے گزشتہ نصف صدی سے جاپان کی پہچان امریکہ کی فرماں برداری اور اس کے فیصلوں پر بلا چون وچراں عمل کرنے والے ملک کی ہے بڑی ڈیموکریٹک پارٹی نے 50 سال قبل دوسری جنگ عظیم میں شکست تسلیم کر کے امریکی جرنیل سے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی۔ اس جماعت نے کبھی امریکی فیصلوں اور پالیسیوں پر کوئی تنقید کی نہ عملدرآمد میں تاخیر کی۔ جاپانی عوام لبرل ڈیوکریٹک کے ان فیصلوں سے اکتا گئے اور آزاد و خود مختار قوم کی حیثیت سے اپنی شناخت پر اصرار کیا
اس وجہ سے چند ماہ قبل ہونیوالے الیکشن میں جاپانی عوام نے 50 سال سے برسراقتدار لیبر ڈیموکریٹک کو مسترد کر دیا اور اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا اپوزیشن جماعت کی شناخت ہی امریکی پالیسیوں پر تنقید ہے عراق میں امریکی فوج بھیجنے کے فیصلے کی بھی نئی حکمران جماعت نے بطور اپوزیشن پارٹی سخت مخالفت کی تھی۔ موجودہ حکومت کی تحقیقات کے مطابق عراق میں امریکہ نے جاپانی فوج کو غلط مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ جو کہ جاپانی آئین کے منافی اور عوام سے وعدہ خلافی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اتحادی اور امریکی افواج نے جاپانی فضائیہ کی مدد سے بھاری اسلحہ مختلف علاقوں میں منتقل کرایا۔ جاپانی حکومت نے اس ردعمل پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور ذ مہ داروں کیخلاف انضباطی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ نئی حکومت کا یہ اعلان سابق حکمرانوں کیلئے پریشانی اورا مریکہ کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ جاپان کے شہری علاقوں سے امریکی فوج کی منتقلی ہے اس وقت امریکہ کے 47 ہزار فوجی حفاظتی اغراض کے تحت جاپان میں تعینات ہیں جبکہ جاپانی قوم کے ہر فرد کی خواہش ہے کہ امریکہ فوج واپس لے جائے۔ یہ بھی سابق لبر حکومت کا کارنامہ ہے جس کے باعث امریکی فوج جاپان میں تعینات ہے اور اس کے تمام اخراجات جاپانی حکومت برداشت کر رہی ہے اس حوالے سے دوسرا اہم مسئلہ جاپان کے شہری علاقوں میں امریکی فوجیوں کے جرائم ہیں۔ جن کیوجہ سے جاپانی پولیس اور شہری سخت پریشان ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امریکی فوجیوں کو کسی جرم کے ارتکاب پر پولیس گرفتار کر سکتی ہے نہ ہی جاپانی قوانین کے مطابق انہیں سزا دی جا سکتی ہے کسی بھی جرم کی صورت میں ملزم کو امریکی فوج کے حوالے سے کرناضروری ہے واضح رہے کہ امریکی فوجیوں پر جاپانی خواتین سے جنسی زیادتی، راہزنی اور شراب پی کر غل غپاڑہ مچانے کے الزامات زیادہ ہیں جاپانی عوام امریکی فوج سے تنگ آچکے ہیں لیکن سابق حکومت خاموش تھی۔ اور یہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی شکست کی سب سے بڑی وجہ ہے موجودہ حکمران جماعت نے ماضی میں امریکی فوج کی شہری علاقوں سے منتقلی کیلئے تحریک بھی چلائی تھی۔ اب امریکی فوج کی دور دراز علاقوں میں منتقلی بھی دونوں حکومتوں کے درمیان تعلقات میں سردسری کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکہ سے جاپان حکومت کا ایک اور تنازع ایٹمی ہتھیاروں کی آمد کے حوالے سے بھی ہے جاپانی قوانین کے مطابق جاپان کی زمینی یا سمندری حدود میں ایٹمی ہتھیار رکھے جا سکتے ہیں اور نہ کسی کو لڑنے کی اجازت ہے لیکن سابق حکومت کے امریکہ سے خفیہ معاہدے کے تحت امریکہ کو ایٹمی ہتھیار لانے اور رکھنے کی اجازت دی گئی جو آئین کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ تب بھی ڈیموکریٹک پارٹی نے معاہدے کے خلاف آواز اٹھائی تھی مگر اس معاہدے کو راتوں رات غائب کر دیا گیا ڈیموکریٹک پارٹی نے اقتدار آکر یہ معاہدہ عوام کے سامنے لانے کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں اقتدار ملتے ہی یہ معاہدہ عوام کے سامنے پیش کر کے حکومت نے امریکہ کی پروا کئے بغیر وعدہ پورا کیا۔ جس پر سابق حکومت کو تنقید کا نشانہ بننا پڑا جبکہ امریکہ کو اس پر سخت تشویش لاحق تھی۔ نئے جاپانی وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ خارجہ پالیسی میں امریکہ کو انتہائی اہمیت حاصل رہے گی۔ لیکن زمینی حقائق ان کے اس دعوے کی نفی کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق مستقل قریب میں امریکہ اور جاپان کے تعلقات میں ہونیوالی پیش رفت خطے سمیت پوری دنیا پر اثرانداز ہو گی جاپان میں 50 سال بعد آنے والی سیاسی تبدیلی نے جاپانی عوام کی خواہش اور مطالبہ کو کھول کر رکھ دیا ہے اب کچھ چند راز نہیں رہا۔ خاص طور پر نئے وزیر اعظم یو کیو ہاتو پاما کے امریکہ کی پروا کئے بغیر خود مختار انہ فیصلے جاپانیوں میں ان کی مقبولیت بن رہے ہیں جبکہ دنیا میں جاپان کو ایک نئی شناخت دے رہے ہیں۔
|