تصاویر

Login

Online Users

None



مسلم فلسفے کا تاریخی ارتقاء PDF Print E-mail
کچھ خاص
Thursday, 12 November 2009 18:34
یعقوب کند ی : مسلم فلسفیوں کے قافلے کا پہلا راہ رو .1
پورا شہر اس وسیع میدان میں امڈ آیا تھا اور اس پر موت کا سکتہ طاری تھا۔ اچانک ایک طرف سے کھسر پھسر کی آوازیں آنا شروع ہوئیں تو سارا ہجوم اس طرح متوجہ ہوا.... وہاں ایک بزرگ تھا جس کی داڑھی سفید تھی ، چال میں بلا کی متانت تھی اور چہرے پر وقار تھا.... اسے میدان کی طرف لایا جا رہا تھا۔ جب وہ ہجوم سے بھرے میدان کے بیچوں بیچ پہنچ گیا تو اسے گھٹنوں کے بل بیٹھنے کا حکم دیا گیا اور جب وہ سر کو ذرا آگے کی طرف جھکا کر بیٹھ گیا تو عامل نے اس کوڑا بردار سیاہ فام چمکتے ہوئے جسم والے حبشی کو آنکھ کا اشارہ کیا جو ساٹھ سال بوڑھے کی پشت پر موجود تھا۔ اس نے کوڑے کو فضا میں لہرایا۔ جونہی کوڑا لہرانے کی مخصوص آواز فضا میں بلند ہوئی،

 

ہجوم پر دوبارہ سکتہ طاری ہو گیا۔ مگر جیسے ہی وہ کوڑا اس بزرگ کی پیٹھ پر پڑا اس کے منہ سے آہ کی آواز بلند ہوئی اور ہجوم نے خوشی کے نعرے بلند کرنے شروع کر دئیے اور یہ جابرانہ میکانکی عمل سیاہ فام حبشی کے کوڑے کی پچاس جسم کو ادھیڑ دینے والی ضربوں تک دہرایا گیا....

یہ ابو یوسف یعقوب ابن اسحاق الکندی ہے....

مسلم دانشوروں کے قافلے کا پہلا مسافر جو مذہبی کٹرپن کی عدم رواداری، گھٹیا تنگ نظری اور ننگے جبر کا شکار ہوا۔ اسلام سے پہلے عربوں میں فکر و فلسفہ کی کوئی قابل ذکر روایت نہیں ملتی۔ محمد کاظم صاحب نے اپنی کتاب ”مسلم فکرو فلسفہ عہد بہ عہد“ میں مسلمانوں میں فلسفے کے آغاز کی کہانی بڑی تفصیل سے لکھی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب اسلام نے استحکام اور سیاسی پھیلاﺅ حاصل کر لیا تو یونان کا فلسفہ اور سائنس، ایران کی ادبی اور سیاسی دانش اور ہندوستان کی طب اور ریاضیات بھی ان کی دسترس میں آگئے۔ مگر اب انہیں ایک چیلنج بھی درپیش تھا۔

مسلم علماءو فقہاءکا مقابلہ مفتوح قوموں خصوصاً یہود نصاریٰ کے ایسے متکل مین سے ہوا جو فلسفہ اور منطق سے پوری طرح لیس تھے۔ علماءنے پہلے تو اپنے عقیدے اور ایمان کے زور پر ان لوگوں کے منہ زور سوالات اور اعراضات کا جواب دینے کی کوشش کی مگر انہیں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔ یہاں معتزلہ سامنے آئے جو انہیں ہتھیاروں سے لیس تھے جس سے ان کے دشمن ان پر حملہ آور ہوئے تھے۔ ان کو حقیقی عروج عباسیوں خصوصاً مامون کے دور میں حاصل ہوا....

عباسی جو ہزار ہاشخصی کمزوریوں کے باوجود دانش سے محبت کرتے تھے، اس کیلئے راستے ہموارکرتے تھے اور اپنے دربار میں علم و حکمت کیلئے خصوصی مسند خالی رکھتے تھے۔ محمد کاظم صاحب نے لکھا ہے اور بجا لکھا ہے کہ مسلم فکر کے دو بڑے ماخذ قرآن اور یونانی فلسفہ ہیں اور جہاں تک فلسفہ یونان کی تفہیم اور تحصیل کا تعلق ہے اس کی ابتداءیونانی علوم کی کتابوں کے تراجم سے ہوئی اور عباسی دور میں ہمیں مستند اور پروفیشنل مترجمین کی ایک قطار نظر آتی ہے۔

اس میں حنین بن اسحاق اور قسطابن لوقا جیسے اہم مترجم بھی ہیں جو تراجم کرنے کے علاقہ فلسفیانہ موضوعات پر لکھنا بھی شروع ہو گئے تھے۔ مگر پہلی دفعہ صحیح معنوں میں حقیقی گہرائی کے ساتھ فلسفیانہ موضوعات پر سوچنے اور لکھنے والا جو نظر آتا ہے وہ ایک عرب یعقوب کندی ہے۔

کندی اپنا سلسلہ نسب قدیم قبیلہ کندہ کے شاہان سے ملاتا ہے۔ یہ جنوبی عرب کا وہ قبیلہ ہے جو ظاہری تمدن میں اپنے تمام ہمعصر قبائل پر فوقیت اور برتری رکھتا تھا۔ اس کے اجداد کا سلسلہ یعرب ابن قحطان تک پہنچتا ہے جن میں سے ایک اشعث بن قیس بھی ہیں جو آنحضرت کے صحابی تھے اور کندے کے بادشاہ بھی۔ دوسرے معدی کرب ہیں اور یہ حضرموت کے حکمران تھے۔ کندی کے بعض اکابرواجد۔ مشعر، یمامہ اور بحرین کے فرماں رواں بھی رہے....

کندی اپنے اجداد کی فضیلت بیان کرنے میں ایک قدم اور آگے جاتا ہے وہ کہتا ہے کہ جنوبی عرب کے قبائل کا مورث اعلیٰ قحطان اہل یونان کے مورث اعلیٰ یونان کا بھائی تھا اور یہ باتیں دربار عباسیہ کے ابتدائی خلفاءکے دور میں کہنا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا جہاں نسل و قوم کا امتیاز نہیں تھا اوریونانیوں کے علم و فضل کی ستائش میں کنجوسی نہیں برتی جاتی تھی۔ اکثر بنی کند ہنے ابتدا ہی سے عراق میں بستیاں بسالی تھیں۔ کندی اسی صوبے کے شہر کوفہ میں پیدا ہوا جہاں اس کا باپ اسحاق بن صباح تین عباسی خلفاءمہدی، ہادی اور ہارون الرشید کے زمانے میں امیر رہا۔ اس نے اپنے زمانے کے بڑے تعلیمی مراکز میں تعلیم حاصل کی۔ کچھ عرصہ بصرے میں اور اس کے بعد بغداد میں۔ سلمان بن حساس (ابن جلجل اند لسی) کے مطابق کندی بصرے کا باشندہ تھا جہاں اس کی زمینیں تھیں۔ اس کے بعد وہ بغداد گیا۔ یہ وہی سلمان ابن حساس ہے جو کہتا ہے کہ مسلمانوں میں کندی کے سوا کوئی فلسفی نہیں تھا۔ غالباً وہ یہ کہنا چاہتا ہو گا کہ اسلام کا پہلا فلسفی تھا۔ یعنی اس سے پہلے کسی فلسفی کا نام نہیں ملتا۔ مورخین نے کندی کی تاریخ پیدائش اور وفات کا تعین یقین کے ساتھ نہیں کیا۔ ان کی تمام تر کوششیں صرف اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ اس کا زمانہ نویں صدی عیسوی ہے۔ البتہ مغرب کے دو محققین نے اس کے متعلق کچھ تحقیق کی ہے ان میں سے ایک فلوگل ہے جو کہتا ہے کہ کندی نویں صدی کی نصف اول میں گزرا ہے اور اس کا سنہ وفات861ءہے دوسرا ناجی ہے (ایک رومن پروفیسر جس نے انیسویں صدی میں وفات پائی) جس کے مطابق کندی کی وفات 873ءمیں ہوئی اس تحقیق کو 870ءمیں ہونیوالے اس واقعے سے بھی تقویت ملتی ہے جس بمطابق علم ہیئت ایک فلکی دور اپنے اختتام کو پہنچنے والا تھا۔ قرامطہ اس صورت حال کو خلافت عباسیہ کے فوری زوال سے جوڑتے تھے۔ لیکن عباسی خلیفہ متوکل کے برے سلوک کے باوجود کندی میں ابھی اتنا ظرف باقی تھا کہ اس نے خلافت کے ساتھ اپنی وفاداری نباہتے ہوئے یہ پیشین گوئی دی کہ خلاف عباسیہ کو ساڑھے چار سال تک کوئی خطرہ نہیں ہو گا....

اس لحاظ سے وہ تقریباً 80 سال تک زندہ رہا۔ کندی ہمہ گیر طبیعت رکھتا تھا اور اسے اپنے زمانے کے کل علوم پر دسترس حاصل تھی جن میں ریاضیات، جیو میٹری، علم ہیئت، موسیقی، جغرافیہ، طب اور منطق شامل ہیں۔ اسے فارسی، ہندی، سریانی اور یونانی پرمہارت حاصل تھی۔ اسی وجہ سے مامون نے اس کو دوسرے حکماءکی طرح ارسطو اور دیگر فلاسفہ کی تالیفات کے ترجمے پر مامور کیا تھا۔ وہ دوسروں کیلئے ہوئے ترجموں میں اصلاح بھی دیا کرتا تھا۔ اس طرح وہ یونانی فلاسفہ سقراط، افلاطون، ارسطو اور اس کے شارحین (خصوصاً سکندر افرودیسی) کے نظریات سے بخوبی آگاہ تھا۔ کندی کا اصل فلسفہ، فلسفہ فطرت اور ریاضیات پر مشتمل ہے جس میں نوافلاطونی اور نوفیثا غورثی نظریات یکجا نظر آتے ہیں۔ علم ہندسہ کا ایک طلسماتی انداز اس کی تحریروں میں ملتا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے علم طب میں مرکب ادویات کے نظریوں میں بھی ریاضی اور ہندسوں کے نکات سے کام لیا ہے۔

کندی کی تالیفات، جن کی تعداد 256 ہے، ان تمام موضوعات پر ہیں جن کا ذکر اوپرکیا گیا ہے۔ اس نے بالکل ارسطو کا اندازہ اختیار کیا ہے۔ اکثر فلسفے کی کتابوں کی تشریح کی ہے۔ مشکل مقامات کی توضیح و تلخیص کی ہے اور سنجیدہ گتھیوں کو سلجھایا ہے۔ اس کے علاوہ علم تعمیرات، علم معدنیات اور جواہرات کی اقسام پر بھی اس کے رسائل ملتے ہیں۔ اسی رسالے میں اس نے آبگینے کی تشریح کی ہے۔ ایک دوسرے رسالے میں اس نے عطر، لوہے، تلوار اور نیام کی اقسام پر گفتگو کی ہے۔ ایک اور رسالے میں اس نے کیمیا گروں کے مکرو فریب پر روشنی ڈالی ہے۔ اس نے لوگوں کو سونا بنانے کیلئے کیمیا سیکھنے سے منع کیا۔ اس نے اس شغل کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ یہ نہ صرف عمرو دولت بلکہ عقل کا بھی ضیاع ہے۔ وہ ان چیزوں کے کرنے کو انسان کیلئے نا ممکن سمجھتا تھا جسے صرف فطرت کر سکتی ہے۔ الٰہیات میںوہ معتزلی عقائد رکھتا تھا۔ (جاری ہے)

 

 

 

Add New
Comments
Write comment
Name:
Email:  
Website:
Title:
UBBCode:
[b] [i] [u] [url] [quote] [code] [img] 
 
:angry::0:confused::cheer:B):evil::silly::dry::lol::kiss::D:pinch::(:shock::X:side::):P:unsure::woohoo::huh::whistle:;):s:!::?::idea::arrow:
 
Please input the anti-spam code that you can read in the image.