تصاویر

Login

Online Users

None



این آر او،سیاسی حل کی ضرورت PDF Print E-mail
کچھ خاص
Tuesday, 03 November 2009 13:15
لاہور:(خصوصی رپورٹ )پاکستانی حکومت نے سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید مخالفت کے بعد متنازع آرڈیننس این آر او کو پارلیمینٹ میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ صدر زرداری کی زیر صدارت اعلٰی سطحی اجلاس میں اس فیصلہ کے بعد منگلکے روز وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں اس کا باقاعدہ اعلان کیا اور کہا کہ ہم قومی مصالحتی آرڈیننس کا فیصلہ سپریم کورٹ پر چھوڑتے ہیں ۔ مگر کیا این آر او بارے تنازع سپریم کورٹ سے حل کرانے کی کوشش کا فائدہ صدر زرداری اور دیگر افراد اٹھا سکیں گے ۔ اس بارے میں قانونی و آئنی ماہرین کی رائے میں تضاد پایا جاتا ہے۔ تاہم فریقین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صدر زرداری کو این آر او کا دیگر سیاسی جماعتوں کے مشورے سے کوئی متبادل سیاسی حل تلاش کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر صدر زرداری کے مستقبل کا فیصلہ سپریم کورٹ کریگی ۔ جس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا ۔ بعض آئنی ماہرین کا دعوٰی ہے کہ سپریم کورٹ کی طے شدہ مدت 28 نومبر کو ختم ہو رہی ہے ۔ اس دوران اگر اس آرڈیننس کو پارلیمنٹ سے منظوری نہیں ملتی تو این آر او اپنی موت آپ مر جائے گا۔ جس کے بعد آصف زرداری عہدہ صدارت کے لیے اہل نہیں رہیں گے ۔ جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ صدر مملکت کی حیثیت سے آئن کے تحت حاصل سہولت کی وجہ سے صدر زرداری کے خلاف کوئی مقدمہ کسی عدالت میں نہیں چلایا جا سکتا ۔ لہٰذا این آر او کے خاتمہ کے باوجود صدر زرداری کی کرسی اورعہدے کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ سابق صدر پرویز مشرف اور محترمہ بینظیر شہید کے درمیان طے پانے والے اس معاہدہ کے تحت ہزاروں سیاستدانوں کے مقدمات معاف ہوئے ۔ آصف زرداری بھی اسی معاہدہ کے تحت بیگناہ قرار پائے اور عوامی عہدوں کے لیے اہل قراردیے گئے ۔ 21 جولائی کو سپریم کورٹ نے صدر مشرف کی جانب سے 3 نومبر 2007 کے بعد جاری کردہ تمام آرڈیننس تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا حکم صادر کیا ۔ اس حوالے سے آئنی ماہرین کا اتفاق ہے کہ اس مدت کے دوران پارلیمنٹ سے منظوری حاصل نہ کرنے والا کوئی ایک یا تمام آرڈیننس از خود منسوخ تصور کیے جائیں گے ۔ جس کے بعد ان آرڈیننسوں کے تحت کئے گئے اقدامات بھی منسوخ قرار پائیں گے اور جن لوگوں نے این آر او کے ذریعے مقدمات معاف کرائے وہ تمام مقدمات از خود کھل جائیں گے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر معروف آئنی ماہر عابد حسن منٹو کے مطابق این آر او کی موجودگی اور عدم موجودگی سے آصف زرداری کی صدارت کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ آئن کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر مملکت کے خلاف نہ تو کوئی عدالت مقدمہ درج کر سکتی ہے اور نہ ہی پہلے سے درج کسی مقدمہ کی سماعت کی جا سکتی ہے ۔ جبکہ آصف زرداری کے خلاف تمام مقدمات میں مدعی خود حکومت ہے ۔ اور اب جبکہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہے اور حکومت اسی میں دلچسپی نہ لے تو مقدمات عدم پیروی کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ اور عدالت انہیں عدم پیروی پر خارج بھی کر سکتی ہے ۔ نا اہلی کے حوالے سے سوال پر عابد منٹو کا موقف تھا کہ ایسا صرف ثابت شدہ جرم سے ممکن ہے ۔ صدر سمیت کسی بھی عوامی عہدے پر نا اہلی کیلئے جرم کا ثابت کرنا ضروری ہے ۔ زیر التواء یا زیر سماعت مقدمات سے نا اہلی کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ معروف قانون دان افتخار حسین گیلانی کی رائے میں ذیلی عدالتوں میں آصف زرداری کے خلاف متعدد مقدمات ثابت ہو چکے ہیں ۔اوراعلٰی عدالتوں میں اپیل کی صورت میں زیر سماعت ہیں ۔ اور صدراتی عہدہ سے نا اہلی کیلئے چھوٹی سے چھوٹی عدالت میں جرم ثابت ہونا جکافی ہے ۔ افتخار گیلانی کے مطابق صدر مملکت کے محترم عہدے پر کسی متنازع شخصیت کے بر قرار رہنے کا کوئی اخلاقی ، قانونی اور سیاسی جواز موجود نہیں ہے ۔ اور عدالتیں قانون کے ساتھ ساتھ اخلاقی روایات کی بھی محافظ ہیں ۔ اس پہلو سے آصف زرداری کی صدارت کا مقدمہ عدالت میں اٹھایا جا سکتا ہے ۔ لہذا اس کے لئے کسی سیاسی حل کی اشد ضرورت ہے ۔

 

 

 

Add New
Comments
Write comment
Name:
Email:  
Website:
Title:
UBBCode:
[b] [i] [u] [url] [quote] [code] [img] 
 
:angry::0:confused::cheer:B):evil::silly::dry::lol::kiss::D:pinch::(:shock::X:side::):P:unsure::woohoo::huh::whistle:;):s:!::?::idea::arrow:
 
Please input the anti-spam code that you can read in the image.