اس دور کی پیچیدہ زندگی میں اپنی شخصیت کو انفرادی طور پر پیش کرنے اور توجہ حاصل کرنے کیلئے خوشبوﺅں کی ورائٹی کی ضرورت پڑتی ہے۔ پرفیوم اور کولن کا انتخاب اپنے لائف سٹائل کے مطابق کریں۔ مختلف سٹورز پر جائیں اور سیمپل کے طور پر پرفیوم کو اپنی کہنی اور بغل کے اندرونی حصوں پر سپرے کریں۔ انتخاب سے پہلے 10 منٹ تک خوشبو کا جائزہ لیں جب تک کہ آپ کے جسم کا پسینہ اس خوشبو میں رچ بس نہ جائے۔ پرفیوم خریدنے کا فیصلہ عین اسی وقت ایک دم سے نہ کر لیں۔ بلکہ اس کیلئے آپ کو دکان پر بہت سے چکر لگانا پڑیں گے۔ آپ کسی دوسری خاتون کی پرفیوم کی خوشبو سونگھ کر جلدی سے یہ نہ سوچ لیں کہ آپ کیلئے بھی یہی بہتر ہو گی، بلکہ اس کے انتخاب کا انحصار آپ کے اپنے جسم کے پسینے پر ہو گا۔ خوشبو کو استعمال کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے کلائی پر سپرے کریں اس کے بعد کانوں کے پیچھے بازو کے اندرونی حصے، گھٹنوں کے نیچے اور پھر گردن پر سپرے کریں۔ سپرے کا مقصد یہ ہے کہ جسم کے گرم ترین حصوں میں استعمال کیا جائے، تاکہ پسینے میں مکس ہو کر خوشبو کا احساس بڑھ جائے۔ بغلوں میں سپرے، شیمپو اور ڈرائی کرنے کے فوراً بعد کریں۔ تھوڑا سال سپرے اپنے کپڑوں پر بھی کر لیں۔ کالر اور گلے پر خاص طور پر توجہ دیں۔ آپ اپنی پسندیدہ خوشبو کو روئی کے چھوٹے سے گولے میں بھگو کر کمرے کے کسی کونے میں بھی رکھ سکتی ہیں۔ روم فریشنر استعمال کرنے کی بجائے کمرے میں سپرے کا استعمال فرحت اور تازگی بخشتا ہے۔ کچھ باذوق خواتین روئی میں بھیگے ہوئے سیٹ کو ٹیبل لیمپ کے شیڈ کے قریب رکھ دیتی ہیں اور وہ بلب کی گرمی سے اسے سارے کمرے میں بکھرا دیتا ہے۔ جب تک آپ یہ فیصلہ نہ کر لیں کہ آپ کیلئے کون سا پرفیوم موزوں ہے اس کی چھوٹی شیشی خریدیں۔ فیصلہ کرلینے کے بعد آپ بڑے سائز کے سپرے خرید سکتی ہیں۔ پرفیوم کو کمرے کے قدرتی ٹمپریچر میں رکھیں۔ زیادہ ٹھنڈک اس کے کیمیکلز پر اثر انداز ہو سکتی ہے، البتہ کولون پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ خوشبو آپ کسی بھی خاتون سے یہ دریافت کریں کہ وہ کسی خاص دن کسی خاص خوشبو کو کیوں ترجیح دیتی ہے تو اس کا جواب صریح اور غیر مبہم ہوی ا شرما کر دیا جائے۔ ہمیشہ دلچسپ اور حتمی طور پر مختلف ہو گا۔ شاید وہ جواب کسی خوشگوار یاد کسی مخصوص جذبے کو ابھارتا ہے اور اس روز کے مزاج کے مطابق ہوتا ہے یا پھر وہ خاتون اپنی شخصیت کے بارے میں کوئی دیرپا تاثر دینا چاہتی ہے۔ خواہ ترغیب اور مقصد کچھ ہی ہو، حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص خوشبو کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ خوشبوﺅں کی اقسام تمام خوشبوﺅں میں مختلف تناسب کے ساتھ جوہروں یاستوں کا مکسچر ہوتا ہے اور ان خوشبوﺅں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مشرقی خوشبو ئیں یہ وہ خوشبوئیں ہیں جن میں پھولوں اور مصالحوں سے اخذ کردہ خوشبوﺅں کا مکمل توازن پایا جاتا ہے۔ یہ خوشبوئیں پر اسرار ریت، خود اعتمادی اور دلفریبی کی فضاءپیدا کرتی ہیں۔ اکثر یہ خوشبوئیں دو متضاد خوشبوﺅں کو ملا کر بنائی جاتی ہیں۔ جن کو اچھی طرح ملایا جاتا ہے اور مصالحوں کا جزہلکا رکھا جاتا ہے۔ پھولوں اور پودوں کو دیوار، صنوبر، یلانگ یلانگ، شاہ بلوط، بچوپی اور صندل کی لکڑی کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ مشک جوتبت کے نر ہرن سے حاصل ہوتا ہے، اسے بھی ان خوشبوﺅں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اب کیمیاوی مشک بھی تیار کر لیا گیا تھا ہے۔ جدید خوشبوئیں ان کی خوشبو عموماً ہلکی ہوتی ہے لیکن دیر پا نہیں ہوتی۔ یہ مصروف طرز زندگی کے لوگوں کیلئے خاص طور پر مناسب ہوتی ہیں۔ ان کا استعمال کرنے والا چستی اور کھلاڑیوں کی سی توانائی محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ گلاب اور چنبیلی کے پھولوں سے اور لیموں چونے اور سنگترے کے پھولوں سے کشیدکی جاتی ہیں۔ کیمیائی اثرات عورت کے جسم سے جو خوشبو پھوٹتی ہے، وہ مختلف ہوتی ہے اور اس کا انحصار اس کے جسم کی کیمیاوی حالت اور جلد کی قسم پر ہوتا ہے جس کی تاثیر اور کامیابی کسی بھی عورت کے اختیار سے باہر ہوتی ہے۔ اس کیلئے کہ قدرتی جلد کے تیل خوشبوﺅں کو بڑے اہم طریقے سے تبدیل کر سکتے ہیں، جس کا نتیجہ انتہائی انفرادی نوعیت کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو خوشبو آپ کی دوست کیلئے نرالی یا بے ڈھنگی ہو، وہ ضروری نہیں کہ آپ کے لئے بھی ویسی ہی ہو۔ اصل آزمائش تو جلد اور جسم کی ساخت اور خوشبو کے استعمال سے ہوتی ہے۔ آپ کیلئے خوشبو کا استعمال آسان ہو جاتا ہے جب آپ کو مختلف خوشبوﺅں کا اپنی جلد اور جسم پر ردعمل معلوم ہو جاتا ہے۔ گہرے رنگ کی جلد آپ کی جلد جتنی گہرے رنگ کی ہو گی۔ اتنی ہی گہرے رنگ کی قدرتی خوشبو اس کیلئے موزوں ہو گی۔ ایسی جلد کیلئے قائم رہنے والی خوشبو زیادہ درکار ہوتی ہے۔ آپ کے جسم کی قدرتی خوشبو زیادہ کثیف اور جلد اڑجانے والی خوشبوﺅں سے مل جاتی ہے۔ جس طرح کہ مشرقی اور مصالحہ والی خوشبوئیں آپس میں مل جاتی ہیں۔ سانولی جلد ایسی جلد پر دھوپ کا اثر بہت آسانی سے ہوتا ہے، لیکن مناسب تحفظ کے ساتھ اس کا رنگ قائم ہو سکتا ہے، گرم قسم کی خوشبوئیں جیسی کہ جدید چکوترہ گروپ کی ہوتی ہیں اس قسم کی جلد کیلئے نہایت مناسب ہیں۔ صاف جلد ایسی جلد کی قدرتی مہک ہلکی ہوتی ہے اس لیے جو خوشبو آپ پسند کریں وہ آپ کی قدرتی مہک پر غالب نہیں آنا چاہئے۔ پھولوں اور پودوں کی قسم کی تازہ اور ٹھنڈی خوشبوﺅں کا مرکب آپ کیلئے بہترین ہو گا۔ خشک جلد اس جلد میں تیل یا چکناہٹ کم ہوتی ہے جس کے باعث اس پر لگائی جانیوالی خوشبو دیرپا نہیں ہوتی۔ آپ کو بار بار خوشبو لگانے کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسی خوشبو استعمال کرنی چاہیے، جو یوڈی ٹوائلٹ سے زیادہ جلد پر قائم رہنے والی ہو۔ خوشبو لگانے سے پہلے اپنے جسم پر نہاتے وقت تیل کی تہہ کریم لگانا مناسب ہو گا۔
|