1۔ اپنی ترجیحات کا تعین کریں اور یہ طے کریں کہ تاحال آپ کیلئے سب سے اہم بات کیا ہے۔جو کام آپ کیلئے اہم ہیں نہیں کرنے پر توجہ مرکوز کریں اور جو کام ایک سال تک آپ کیلئے اہم نہیں ہیں ان کےبارے میں سوچ سوچ کر ہلکان نہ ہوں۔ 2۔ اگر آپ ایسا کام کررہی ہیں جس میں آپ کے ہاتھ زیادہ دیر تک گرم پانی میں رہیںتو بہتر ہے کہ ناخنوں اور ہاتھوں کی حفاظت کے لئے ربڑ کے دستانے پہن لیں۔ 3۔ اپنی جلد کی حفاظت کےلئے اکثر اوقات ہاتھوں پر لگانے والی کریم استعمال کریں ۔جب بھی ہاتھ دھوئیں کریم ضرور لگائیں۔ 4۔ ہاتھ کے بجائے کندھے اور کان کے سہارے سے ٹیلی فون پکڑنے کی کوشش نہ کریں اس طریقے سے فون پکڑنے سے کان اور کندھے میں درد شروع ہوسکتا ہے اور بہت ممکن ہے کہ سردرد شروع ہوجائے یا سر بھاری محسوس ہونے لگے۔ 5۔ اپنے آپ کو آلودی سے محفوظ رکھیں ۔کھانے پینے کی اشیاءکو بھی آلودگی سے بچائیں۔ اناج کو پھپھوندی اور کیڑے مکوڑوں سے بچانے کیلئے ادویات استعمال کی جاتی ہیں یہ ادویات اناج پر لگی رہتی ہیں اور اگر اناج کو صحیح طور سے نہ دھویا جائے تو ایسا اناج کھانے سے انسان بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ایلومنیم کے برتن استعمال نہ کریں۔رنگ کے ڈبوں میں سے بچا کچھا رنگ و روغن پھینک دیں کیونکہ بچے ہوئے رنگ و روغن سے بخارات نکلتے ہیں جو سانس کی بیماری میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ ماحول کو آلودگی سے پاک کرنے کیلئے پودے لگائیں۔گھر صاف رکھیں۔ 6۔ ذہن کو تروتازہ کرنے اور تفریح طبع کرنے کیلئے جب بھی کوئی اچھی فلم دیکھیں تو ہیروئینوں کی نشست و برحاست کے انداز ان کے ملبوسات اور ان کے بولنے کے انداز پر خاص توجہ دیں۔ 7۔اس بات کا عہد کریں کہ میک اپ اتارے بغیر نہیں سوئیں گی۔ 8۔ہلکی پھلکی ورزش کریں۔ خاص طور پر ٹخنوں کی ورزش ضرور کریں۔ 9۔صبح کے وقت جب آفس جائیں تو لفٹ سے نہ جائیں بلکہ سیڑھیوں سے جائیں صبح کے وقت لفٹ کے بجائے سیڑھیوں سے جانا آپ کی ٹانگوں کے لئے بے حد مفید ثابت ہوگا۔ 10۔اپنے اٹھنے،بیٹھنے،چلنے پھرنے اور بھاگنے دوڑنے کے انداز کو بہتر بنائیں۔ اگر نشست کا انداز ٹھیک نہ ہوتو معدے پر زور پڑتا ہے۔ جب کام کرنے کیلئے کرسی پر بیٹھیں تو تن کراس طرح نہ بیٹھیں کہ آپ کی کمر کرسی کی پشت سے لگی ہوئی ہو۔ 11۔ آفس میں کام کرتے وقت آپ کے ذہن پر کوئی بوجھ نہیں ہونا چاہیے،پابندی کے ساتھ وقفے وقفے سے سر کی ہلکی سی ورزش کریں۔یعنی سرکو دائیں بائیں اور آگے کی طرف ہلائیں۔ 12۔ اس سال ورزش کو اپنے معمولات میں شامل کرلیں اور وزش سے اسٹیمنا بڑھانے اور توانائی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ 13۔ ہلکی پھلکی ورزش جسم کو لچکدار اور چاک و چوبند بنانے کےلئے بہت ضروری ہے سیدھی ٹانگیں کر کے فرش پر بیٹھ جائیں اور ہاتھوں سے پیر کے پنجے اس طرح چھونے کی کوشش کریں کہ گھٹنے نہ مڑیں۔ 14۔اسٹیمنا بہتر بنانے کیلئے پانچ منٹ تک ایک منٹ میں 20مرتبہ کے حساب سے سیڑھیوں پر چڑھیں اور اتریں۔ اس بات کا بھی جائزہ لیں کہ آپ یہ مشق کتنی دیر تک جاری رکھ سکتی ہیں۔ساتھ ہی نبض کی رفتاربھی چیک کریں۔ 15۔پورا دن ہنستے مسکراتے گزاریں کینیڈا کی وائر لو یونی یورسٹی کی ریسرچ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ خوش طبع یا پر مذاق لوگوں میں قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے مسکرانے اور خوش رہنے سے عمل تنفس پر بہت مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 16۔نمک کا زیادہ استعمال نہ کریں۔کھانے میں نمک کا کم استعمال صحت کیلئے مفید ہے۔ نمک کے زیادہ استعمال کی وجہ سے مائع کو شریانوں میں بہنے کیلئے محنت کرنا پڑتی ہے۔ 17۔ ٹینشن سے نجات حاصل کر نے کےلئے کمر کے بل لیٹ جائیں۔ دایاں گھٹنا چھاتی کی طرف لائیں۔بایاں ہاتھ گھٹنے پر کھیں۔ اب دایاں بازو کندھے کی سیدھ میں سیدھا کرلیں۔ اب دائیں بازو پر نظر جمانے کیلئے سر کو سیدھی جانب موڑ لیں۔یہ عمل تیس سکینڈ تک کریں۔ گہری سانس لیں اب آہستگی سے دایاں پاﺅں سیدھا کرلیں اور بائیں حصے پر یہی عمل دہرائیں۔ 18۔ صبح کے وقت ہلکی پھلکی ورزش کریں۔ دونوں پیر پھیلا کر کھڑی ہوجائیں۔ پیٹ کو سانس کے ساتھ اندر باہر کریں بازو اوپر اٹھائیں سانس لیں اب ہاتھ نیچے کر لیں اور ٹانگیں سیدھی کرلیں یہ مشق دس دفعہ دہرائیں۔
|