|
کٹ پیس
|
|
Thursday, 15 October 2009 22:42 |
|
”ماں “اس دنیا کا سب سے حسین اور انوکھارشتہ ہے۔ بچہ اپنی زندگی کاایک بڑا حصہ اپنی ماں کے ساتھ گزارتا ہے۔ کسی بھی شخص کی تربیت میں اس کابچپن بہت اہم کردارادا کرتاہے۔ یہ زندگی کا وہ حصہ ہوتاہے کہ جب بچے کی شخصیت کو رے کا غذ کی جیسی ہوتی ہے جس پر تحریر ہونے والا ہر لفظ اہم ہوتا ہے۔یہ ابتدائی الفاظ بچے کی حرکات و عادات کی صورت میں ماں بچے کوسکھاتی ہے۔ قدرت نے جو منصب اور ذمہ داری سونپ دی ہے اس قدر اہم ہے کہ ماں کی ذرا سی بے توجہی اور لاپروائی بچے کی شخصیت مسخ کردیتی ہے۔ اگرآپ ایک ماں ہیں تو صرف ایک لمحے کے لیے سوچئے کیا آپ اپنے بچے سے انصاف کررہی ہیں؟ اس کواس قابل بنارہی ہیں کہ وہ اس معاشرے کا مفید شہری بن سکے؟ کیا آ پ کے بچے کی شخصیت مکمل ہوگئی؟ بہت سی مائیں مطمئن ہیں کہ وہ اپنے بچوں سے مکمل طورپر انصاف کررہی ہیں۔
یہ بات سننا بھی بھی کوئی ماں گوار انہیں کرے گی کہ وہ اپنے بچے سے انصاف نہیں کررہی ۔ تاہم بہت سی خواتین یہ تو چاہتی ہیں کہ ان کا بچہ انگریزی اور مہنگے سکولوں میں تعلیم حاصل کرے مگر کبھی یہ نہیں سوچا کہ اس کے لیے دینی تعلیم بھی اشد ضروری ہے جو بچپن سے ہی دی جانی چاہیے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل انگریزی تو فرفر بول سکتی ہے مگر شاید ہی کسی کو عربی میں قرآن پاک کے چند آیات یاد ہوں۔ ہمارے لیے یہ توفخر کی بات ہے کہ ہمارا بچہ مدرڈے یا فادر ڈے پر ہمیں کارڈ یا تحائف دے کر اپنی محبت کااظہار کرے مگر کیا ہم اس کے حقدار ہیں؟ یہ سوچنے کی بات ہے ۔ نوجوان نسل کی بے راہ روی کی ذمہ دار ی ان کے والدین خصوصاً ان ماو ں پر ہے جنہوں نے اس بات پر تودھیان دیا ہے کہ وہ ”ورکنگ ورمن “ بن کر زیادہ سے زیادہ پیسے کمائیں اور بچوں کو مہنگے سکولوں میں داخل کروائیں۔ ان کے نام پر بینک بیلنس اور کوٹھیاں بنائیں مگر وہ یہ فراموش کر رہی ہیں کہ ان کے بچے کو ان کے بھرپور وقت کی ضرورت ہے ۔ ایسے بچے جوا پنے بچپن میں والدین کی عدم توجہ کا شکار ہوتے ہیں وہ معاشرے کے لیے ناسور بن جاتے ہیں ان کی شخصیت ادھوری ہوتی ہے۔ وہ تہذیب سے ناآشنا ہوتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اپنے ساتھ ہونے والی محرومیوں کا بدلہ وہ جرائم کی صورت میں معاشرے سے لیتے ہیں۔ بعض مائیں ایسی بھی ہیں جو خود تو ادھوری ہیں مگر انہوں نے اپنے بچوں کو بہت مکمل شخصیت دی۔ ضروری نہیں کہ تعلیم یافتہ ماں ہی بچے کی اچھی پرورش کرسکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ معزور ماں کا بچہ ذہنی اور شخصی لحاظ سے معزور ہو گا ۔ میں اپنی زندگی کے ایک گہرے مشاہدے اور ذاتی تجربے کا ذکر ضروری سمجھتی ہوں۔ میری ماں شمع فردوس نابینا خاتون ہیں۔ وہ شادی کے ایک سال کے بعد ہی حادثاتی طورپر آنکھوں سے محروم ہوگئیں۔ انہوں نے تین بچوں کو نہ دیکھنے کے باوجود نہ صرف جنم دیا بلکہ ان کی اچھی تعلیم و تربیت بھی کی ۔ان کا رشتہ ہمارے ساتھ ایک انمول رشتہ ہے۔ وہ آج تک ہمارے صورت سے ناواقف ہیں مگر خود نہ دیکھ پانے کے باوجود انہوں نے ہمیں وہ آنکھیں دیں جو نہ صرف اچھے برے کی تمیز کرتیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی معاون ثابت ہوں۔ میری ماں کسی ہمدردی کی محتاج نہیں وہ یقیناخراج تحسین کی حقدار ہیں جولوگوں سے نہیں ان کی اولاد کی تعریف کی صورت میں بار ہا ملتا ہے۔ ایسی ہی مثال ایک معزور خاتون رابعہ ہیں جو چلنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ پولیو کی وجہ سے ان کی ٹانگیں اس قابل نہیں کہ وہ ان کا جسمانی بوجھ اٹھا سکیں مگر وہ بہادر خاتون نہ صرف اپنے بچوں کو سنبھالتی ہیں بلکہ اپنے حادثاتی طورپر معزور شوہر کا بھی خیال رکھتی ہیں۔ یہ یقینا کامیاب اور مکمل مائیں ہیں جنہوں نے خود نامکمل ہوکر اپنی اولادوں کی اچھے طریقے سے تکمیل کی ۔ ضرور ت اس امر کی ہے کہ ہم خوابوں خیالوں کی دنیا سے نکل کر حقیقتوں کاسامنا کریں۔ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت یوں کریں کہ پھر سے کوئی قائداعظم‘ علامہ اقبال‘ فاطمہ جناح پیدا ہو نہ کہ کوئی مائیکل جیکسن‘ میڈونا یا کوئی فرنگی نما مسلمان۔ میں نے اپنی ایک پروسن سے یوں ہی دریافت کرلیا کہ ان کا بچہ انگریزی سکول میں تو جارہاہے مگر کیا وہ قرآن پاک پڑھ چکا ہے اس پر انہوں نے نہایت غصیلی نظروں سے مجھے گھورا اور جواب دیا ”پوری عمر پڑی ہے پڑھ ہی لے گا!“ یہ جواب سن کر میں حیران رہ گئی۔ اچھی تعلیم کا مقصد مذہب سے دوری ہرگز نہیں۔ خدارا اپنے بچوں کواچھا انسان اوراچھا مسلمان بنایئے تاکہ آپ ایک مکمل ماں کہلانے کا نہ صرف حق رکھیں بلکہ اسے ثابت کردیں۔
|