|
|
|
Monday, 05 July 2010 12:53 |
بہار کے مشہور شہر دربھنگہ سے محض12کلو میٹر کی دوری پر بہادر پور بلاک میں واقع کمل پور نام کا ایک گاؤں آباد ہے جس کی آبادی یہاں کے لوگوں کے مطابق تقریباً3000ہزار افراد پر مشتمل ہے، یہاں کا حال اتنا قابل رحم ہے کہ آج بھی یہاں کے غریب باشندے ٹائیفاڈ، کارا کالا زار اور ڈائریا جیسی خطرناک بیماریوں سے بغیر علاج کے تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں، دوا تو دور کی بات یہاں پر کوئی ڈھنگ کا سرکاری اسپتال بھی نہیں ہے حالانکہ آج کی تاریخ میں ترقی کی راہ پر ہندوستان تیزی سے دنیا کے نقشہ پر ابھر رہا ہے اور ہمارے رہنما ہر طرح کی ترقی کادعوی بھی کر رہے ہیں، یہ بھی سچ ہے کہ دہلی ممبئی اور پٹنہ جیسے بڑے شہروں کو دلہن کی طرح سجایا بھی
|
|
تفصیل...
|
|
|
|
|
|
Saturday, 03 July 2010 06:43 |
|
حضرت علی کا مشہور قول ہے کہ کفر کی حکومت اور نظام تو چل سکتا ہے مگر ظلم کی حکومت اور نظام نہیں چلا کرتا۔ اس وقت پوری دنیا میں یوں توافرا تفری دہشت گردی ظلم و ستم اور قتل وغارت گری کا دور دورہ ہے مگر یہ انفرادی سطح پر ہوتاتو شاید اس کا کوئی ممکنہ حل بھی نکل آتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آج دہشت گردی ریاستی سطح پر
|
|
تفصیل...
|
|
|
|
|
Saturday, 03 July 2010 05:31 |
|
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایران ہی اقوام عالم کا وہ ملک ہے جس نے نہ تو امریکہ کی اقائیت کو تسلیم کیا اور نہ ہی کسی استعماری ریاست کے شہشاہوں کے دیگر مسلم اقوام کی طرح تلوے چاٹے۔اسی لئے تہران روئے ارض کی دونوں دہشت گرد قوتوں امریکہ و اسرائیل کی انکھوں میں دہشت گرد بن کر کھٹکتا ہے۔ امریکہ و استعماری بازیگروں نے ایران
|
|
تفصیل...
|
|
|
|
|
Wednesday, 30 June 2010 07:22 |
|
قارئین کرام ! ہم کوئی خاص لکھاری تو نہیں لیکن شعبہ صحافت سے تعلق کی وجہ سے ہمارا رشتہ قلم سے جُڑ گیا ہے ۔ اسلئے ہم اپنے اندر کے احساس کو کبھی کبھی تحریری شکل دے دیتے ہیں اور پل دو پل کیلئے سکون حاصل کر لیتے ہیں ۔ آج ہم جو لکھیں گے کسی کی ذات پر انگلی اُٹھائیں گے اور نہ ہی کسی دِل آزاری ہمارا مقصد ہو گا ، ہم تو بس حقیقت سے پردہ اُٹھائیں گے لیکن پھر بھی اس تحریر سے یقینا کچھ لوگوں کو بہت ہی زیادہ تکلیف ہو گی اس
|
|
تفصیل...
|
|
|
|
|
|
Saturday, 03 July 2010 06:15 |
|
امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج بھرپور قوت کے ساتھ طالبان کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔جوکہ انتہائی اطمینان بخش ہے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی یہ جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے جو امریکی ایما ء پر نہیںلڑی جارہی۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا
|
|
تفصیل...
|
|
|
|
|
Friday, 02 July 2010 07:38 |
|
پاکستان کے وکلا نے جس طرح تحریک چلائی شاید اتنی منظم تحریک21ویں صدی میں مشکل ترین کام تھا لیکن وکلا کو اپنے امام چیف جسٹس پر پختہ یقین تھا کہ ان کا امام نہ جھکے گا نہ رکے گا اور نہ بکے گا۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے ایک بدترین امر کو جھکنے پرمجبور کر دیا اور چیف جسٹس بحال ہو گئے اور عوام کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں نے
|
|
تفصیل...
|
|
|
|
|
Tuesday, 29 June 2010 17:35 |
پتہ نہیں روشنیوں کے شہر کو کس کی نظر لگ گئی ہے‘ جہاں امن و سکون کی سمندری ہوائیں چلتی تھیں اب وہاں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ بھائی بھائی کو مار رہا ہے‘ ہمسایہ ہمسائے کو اور ایک ہی شہر کے باسی ایک دوسرے سے پنجہ آزما ہو گئے ہیں۔ نظریۂ سازش کو ماننے والے یہ کہتے ہیں کہ یہ سب کیا دھرا بھارت کی خفیہ ایجنسی را RAW کا ہے‘ کچھ اسے اپنوں کی سازش بتا رہے ہیں مگر اس سازش کا سرا ہاتھ نہیں آتا۔پاکستان جب بنا تو یہاں صرف سندھی لوگ آباد تھے‘ پھر تقسیم کے وقت بیشتر اردو بولنے والے مہاجروں نے ادھر کا رخ کیا‘ شروع میں ان کے درمیان چپقلشیں جاری رہیں جن کا نکتہ عروج 1973-74ء میں آئین سازی کے موقع پر ہوا۔ سندھی کسی حالت میں اردو کو سندھ کی زبان تسلیم نہیں کرتے تھے چنانچہ تصفیہ اس بات پر ہوا کہ سندھ کی دو زبانیں ہوں گی اردو اور سندھی۔اس دوران ایک نیا عنصر سندھ کی سیاست میں جڑیں پکڑنے لگا‘ ہمارے صوبے کے پشتون بھائی محنت مزدوری کے لئے کراچی کا رخ کرنے لگے اور یہ ان کا حق بھی تھا کہ پاکستان پر سب پاکستانیوں کا حق ہے مگر جوں جوں پشتونوں کی تعداد اور قوت بڑھنے لگی توں توں وہ سندھ و کراچی کے اردو بولنے والوں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگے یہاں تک کہ دونوں قوتیں ایک دوسرے کے مخالف صف آرا ہو گئیں۔سندھی بیچ میں سے نکل گئے اور ان کی جگہ پشتون مہاجر مغائرت بلکہ نفرت بڑھنے لگی جسے دونوں اطراف کی سیاسی قیادت نے مزید ہوا دے کر چنگاری سے شعلہ بنا دیا۔ اس وقت عمومی فسادات کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ کا بھی ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے‘ کراچی و حیدر آباد میں پشتون آبادی کی تعداد کم و بیش پچیس سے تیس لاکھ تک جا پہنچی ہے اور سندھی و مہاجر دونوں کی سیاست میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں‘ ناقوس بج چکا ہے‘ حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد ہونے کے باوجود پشتون برادری انتخابی سطح پر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر پائی اور اربن سندھ کے بیشتر ووٹ مہاجروں کے حق میں پڑتے ہیںیہاں بھی نظریہ سازش کے ماننے والے بڑے بڑے نظریے پیش کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ پشتون جہاں بھی ہوں ایک متحدہ قیادت کے زیر اثر نہیں رہ سکتے۔ دوسری طرف سندھیوں نے بھٹو فیملی کو اپنا سیاسی و انتخابی گرو مان کر سارا ٹنٹا ہی ختم کر دیا ہے‘ اب سندھ کے قوم پرست ہزار کف دردہاں سندھی عوام کے حقوق کی دہائیاں دیں سندھی عوام ووٹ صرف بھٹو کے نام‘ قربانی اور شہادت کو دیتے ہیں۔ تیسری طرف اردو سپیکنگ سندھ کو الطاف بھائی کی صورت میں ایک مضبوط لیڈر میسر آ گیا ہے‘ اب مہاجر وہ کچھ کرتے ہیں جو ان کا پیر لندن میں کہتا ہےآج تک عوام کے ایک طبقے کو ایسی متفقہ و متحدہ قیادت نصیب نہیں ہوئی۔ الطاف بھائی کے بارے میں ہزار کنسپریسی تھیوریاں پیش کی جاتی رہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ الطاف بھائی کے ایک اشارے پر مہاجر اپنی جان دینے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ اس کا اندازہ الطاف بھائی کے ٹیلی فونک خطابات اور ان میں شامل ٹھاٹھیں مارتے ہوئے عوام کے سمندر کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے اربن سندھ کا بے تاج بادشاہ الطاف حسین ہی ہے اور رہے گا‘ متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی و حیدرآباد کی انتخابی سیاست سے جماعت اسلامی‘ مسلم لیگ اور پی پی پی تک کو نکال باہر کیا ہے۔کسی زمانے میں کراچی جماعت اسلامی کا گڑھ ہوتا تھا اسے جتنی نشستیں بھی ملتی تھیں وہ کراچی سے ملتی تھیں مگر اب اسے وہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں ملتی۔ مہاجر پشتون قضیہ ایک بہت بڑا بم ہے اس کو پھٹنے سے روکنے کے لئے دونوں طرف کی قیادت کو آگے بڑھنا ہو گا اور صدق دل سے ایک دوسرے کو تسلیم کر کے Co-Existence کا ثبوت دینا ہو گا۔ مہاجروں کو تو لیڈر شپ میسر ہے مگر افسوس کہ پشتون اپنی آزاد روی اور انفرادیت پسندی Individualism کی وجہ سے بٹے ہوئے ہیں ان کا یہ حال صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی ہے۔
|
|
|
|
|
|
|
Page 6 of 124 |