|
کالم
|
|
Friday, 20 November 2009 03:27 |
|
کیا آپ کو اس بات پر شدید حیرت ہو رہی ہے کہ پاکستان کے ماہرین نے سامراجی جبر اور کیری لوگر بل کی انتہائی مشکل شرائط کی مخالفت کیوں ترک کردی ہے؟اچانک کیری لوگر بل کیوں نان ایشو بن گیا ہے؟ مجھے ان سوالوں کا جواب جاننے کا بے حد تجسس تھا جس نے مجھے واشنگٹن ڈی سی میں چند روز گزارنے پرمجبور کیا۔ اپنے سوالوں کا جواب تلاش کرنے کےلئے میں نے امریکی دارالحکومت میں کئی روز گزارے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ آخر اوباما انتظامیہ اس مکمل اور خفت آمیز ناکامی کو کس طرح دور کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ یہاں اندر کے چند لوگوں اور اس معاملے کے ماہرین نے اپنی ملاقاتوں میں ایک ہی چیز کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ ہے 19 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والی امریکی اور پاکستانی فوجی حکام کی ملاقاتیں۔ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اور امریکی سینیٹر جان کیری اٹھارہ اکتوبر بروز اتوار اسلام آباد پہنچے تھے ۔ مقامی میڈیا میں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ بظاہر ملاقاتیں جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے بارے میں تھیں‘ لیکن درحقیقت امریکی حکام کی پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی سے ملاقاتوں میں گفتگوکا محور صرف 7.5 ارب ڈالر کا امدادی پیکیج یعنی کیری لوگر بل ہی تھا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ”امریکی حکام سمجھنا چاہتے تھے کہ یہ بل کس طرح پاکستان کی سالمیت کی خلاف ورزی کرتا ہے اور وہ یہ بات پاکستان کی اصل طاقت یعنی پاکستان آرمی کے منہ سے سننا چاہتے تھے۔“ جنرل پیٹریاس اور سینیٹر جان کیری کو اس وقت پاکستان بھیجا گیا جب امریکی صدر اوباما 7.5 ارب ڈالر کے اس غیر فوجی امدادی پیکیج پر دستخط کر چکے تھے جس کا مقصد اسلامی مزاحمت کاروں کے خلاف مہم کو مزید تیز کرنا تھا۔ اگرچہ صدر زرداری کی حکومت نے اس پیکیج کا خوب دفاع کیا لیکن پاک آرمی نے اس کی مخالفت کرکے عوامی جذبات ابھارنے کی راہ بھی ہموار کر دی۔ پاک فوج نے کچھ شرائط پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جو اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف مہم کی کوششوں کے لئے فنڈز کی فراہمی کے بارے میں تھیں۔ اس بل کے مطابق پاکستان یہ فنڈ ایٹمی پھیلاﺅ‘ دہشت گردوں کی حمایت یا ہمسایہ ممالک پر حملوں کے لئے استعمال نہیں کر سکتا۔ یہاں کسی ہمسایہ ملک کا نام تو نہیں ظاہر کیا گیا لیکن اشارہ بھارت ہی کی طرف تھا۔ بل میں یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں ناکامی پر پاکستان کی امداد روک دی جائے گی۔ امریکہ کی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اور سینٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان کیری نے پیر انیس اکتوبرکو پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا فوری نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ پاکستان کی نجی ٹی وی چینلز پر کیری لوگر بل کے حوالے سے کی جانے والے شدید تنقید روک دی گئی۔ سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے جی ایچ کیو میں جنرل کیانی پر بالکل واضح کردیا تھا کہ کیری لوگر بل کی مخالفت ختم کی جائے۔ اس ملاقات سے باخبر ایک قریبی ذریعے کے مطابق ”جنرل کیانی کو یہ بات دوٹوک الفاظ میں بتا دی گئی کہ اوباما انتظامیہ ایک اور ہنڈراس کو برداشت نہیں کرے گی۔ یہاں یہ بات بیان کرنا بھی دلچسپ ہوگا کہ پاکستان میں کیری لوگر بل کے خلاف مہم کے ممکنہ نتائج کی بات کرتے ہیں میرے تین ذرائع نے ہنڈراس کا تذکرہ کیا۔ ہنڈراس کا پس منظر میں آپ کو بتاتا چلوں کہ 28 جون کو ہنڈراس کی فوج نے جمہوری طریقے سے منتخب صدر مانیول زیلا کو بندوق کے زور پر بیڈ سے اٹھایا اور کوسٹاریکا پہنچا دیا۔ وسطی امریکہ میں گزشتہ پچیس سال سے زائد عرصے کے دوران ہنڈراس میں کسی فوجی آمر کی جانب سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ امریکہ‘ اقوام متحدہ‘ یورپی یونین‘ آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس اور ہنڈراس کے تمام پڑوسی ملکوں نے ہنڈراس کے جنرل رومیو واس کوئز کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی مذمت کی تھی۔ اوباما انتظامیہ نے ابتدائی طور پر فوج کی جانب سے زیالا کی حکومت کے خاتمے کو غیر قانونی قرار نہیں دیا کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں خود بخود امداد کی فراہمی رک جاتی لیکن بعد میں امریکہ نے ہنڈراس کے ساتھ فوجی تعاون ختم کر دیا۔ ہنڈراس کا تنازع صدر اوباما کے لئے شدید پریشانی کا سبب تھا کیونکہ امریکی صدر خود اس نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے کہ وہ کہیں بھی جبر اور فوجی آمروں کی حمایت نہیں کریں گے۔ پاکستان میں میڈیا نے زرداری انتظامیہ کو امریکہ کی تابعدار حکومت کے طور پر پیش کیا ہے فوج کی غیر مشروط حمایت کرنے والے پاکستانی صحافیوں نے کیری لوگر بل کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کی اور مغرب مخالف سیاستدانوں اور ان بنیاد پرستوں کوایک جگہ جمع ہونے کا موقع فراہم کیا جن کا یہ دعویٰ ہے کہ اس بل سے پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے اور ملک امریکی کی نئی کالونی بن کر ختم ہو جائے گا۔ درحقیقت ان دعوﺅں میں سچائیاں بہت ہی کم ہیں۔ اگر ہم بات یہاں سے شروع کریں کہ پاکستان تو گزشتہ ساٹھ سال سے امریکہ کی کالونی بنا ہوا ہے جس میں زیادہ تر اقتدار پر فوجی آمر قابض رہے ہیں۔ دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان آرمی کی وجہ سے یہ ملک امریکہ کی سیٹلائٹ ریاست بن چکا ہے ۔ پاک فوج امریکہ کی دی ہوئی مالی امداد اور ٹیکنالوجی پر چلتی ہے اور طالبان کے خلاف جنگ کی وجہ سے مستقبل قریب میں اس کو مزید امداد دی جائے گی۔ یوں اگر امریکی کانگریس کیری لوگر بل کے تحت آئندہ پا نچ سال تک 7.5ارب ڈالر کی امداد پر سخت شرائط عائد بھی کرتی ہے تو اس کے پاکستان فوج کے جنرلز کے لئے تو کوئی خطرناک نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ سچ تو ہے کہ سینیٹر جان کیری اور جنرل پیٹریاس دونوں ہی پاکستان کے لئے سخت پیغام لے کر آئے تھے۔ انہوں نے جنرل کیانی کو یقین دہانی کرائی کہ امریکہ ان کی جانب سے مانگی گئی امداد اور آلات فراہم کرے گا لیکن اگر وہ پیچھے ہٹے تو اوباما انتظامیہ فوری طور پر پاک آرمی سے تعلقات ختم کر لے گی۔ سینیٹر جان کیر ی کی جنرل کیانی سے جی ایچ کیو میں ملاقات صبح جبکہ جنرل پیٹریاس کی دوپہر میں ہوئی ان ملاقاتوں کے بعد جنرل کیانی نے اپنے دوستوں اور مشیروں سے صلاح و مشورے کیے اور انیس اکتوبر کا دن ختم ہونے پر یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ کیری لوگر بل کی سرعام مذمت نہیں کی جائے گی۔ اسی شام پانچ پاکستانی صحافیوں سے رابطہ کرکے بتایا گیا کہ گڑھے مردے نہ اکھاڑے جائیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ حکومت پاکستان امریکہ کی حد درجے تک تابعدار بن چکی ہے۔ یہ بات نہیں کہ ایسا میں نے محسوس کیا ہے بلکہ یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہے یہاں تمام تنازع کی جڑ ”غیر فوجی امداد“ کی شرط یا اصطلاح ہے یہ امدادی پیکیج تاریخی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں صحت‘ تعلیم‘ بنیادی سہولتوں اور سول سوسائٹی کے لئے بھی رقم رکھی گئی ہے اور پاکستان آرمی کو الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔ پاک فوج تو کیری لوگر بل پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی ہے لیکن جمہوری حکومت اپنا توازن کھو رہی ہے اس معاملے کے بعد اب این آر او‘ غذائی قلت کا مسئلہ‘ توانائی کا بحران اور دیگر کئی سماجی مسائل صدرآصف علی زرداری کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ پاکستانی میڈیا بدعنوانی کی خبروں سے بھرا پڑا ہے۔ آرمی کے حکم پر کیری لوگر بل کے خلاف مہم میں پاکستان کے ہوگو شاویز بننے والے بعض ٹی وی چینلز کے میزبان اب زرداری حکومت کے خلاف بدعنوانی کے الزام کی مہم چلا رہے ہیں۔ کبھی کسی ایک میزبان نے بھی یہ نہیں کہا کہ بدعنوان جنرلز کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے۔ بدعنوان آرمی افسران تنقید کے دائرے سے باہر کیوں ہیں؟ پاکستان آرمی ہیروئن کی اسمگلنگ سے لے کر قیمتی اراضی ہڑپ کرنے اور آبدوزوں سمیت آلات کی خریداری میں کمیشن لینے تک ‘ہر معاملے میں ملوث ہے۔ سچ تو ہے کہ اس نے وہ سب کچھ لوٹ لیا ہے جو ہمارے پاس تھا میں حیران ہوں کہ یہ سب ہونے کے باوجود پاکستانی عوام صرف سیاست دانوں کو ہی کیوں ہر چیز کاملزم ٹھہراتے ہیں؟ اسی وجہ سے اوباما انتظامیہ اپنی مکمل اور خفت آمیز ناکامی چھپانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ انہیں وہ پرانی کہاوت یاد تھی کہ جس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ اس ہاتھ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے جس نے آپ کو کھلایا ہو۔ پاکستان جنرلز نے اس کہاوت کو نہ صرف سمجھا ہے بلکہ اس پر پورا بھی اترے ہیں۔
|