تصاویر

Login

Online Users

None



غلط حکمت عملی PDF Print E-mail
کالم
Saturday, 14 November 2009 00:54

 

امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن پاکستان کا دورہ مکمل کرکے واپس چل گئیں۔ اس دورے میں ہلیری نے زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد سے گفتگو بھی کی اور ان کو سنا بھی۔ اس کہنے اور سننے کا بظاہر مقصد یا تو یہ ہوسکتا ہے کہ پاکستانی عوام میں امریکہ کے بارے میں پھیلتی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے یا یہ ہوسکتا ہے کہ امریکہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہو کہ وہ پاکستانی عوام کے قریب آنا چاہتا ہے اور ان کے مسائل سے دلچسپی رکھتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں امریکہ کو کتنی کامیابی ہوئی، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستانی امریکہ پر کتنا اعتبار کرتے ہیں یا پھر یہ کہ وہ امریکی رویوں میں کتنی تبدیلی دیکھتے ہیں۔ اس موضوع پر کوئی دقیق سروے صورتحال کو واضح کرسکتا ہے جو شاید ابھی تک کسی ادارے نے لانچ نہیں کیا۔ دورے کے آخر میں ہلیری نے ایک بات زور دیکر کہی کہ امریکہ کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان کو نتائج بھگتنے پڑے۔ اس سے قبل بھی ہلیری نے واشنگٹن میں بھی یہ بیان دیا تھا کہ امریکہ نے پاکستان میں آمروں اور طالع آزماﺅں کا ساتھ دیکر غلطی کی تھی اور اب ہم پاکستان میں جمہوری حکومتوں کو سپورٹ کرینگے۔ کوئی بھی شخص ہلیری کے ان بیانات پر ان کو خراج تحسین کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ہلیری کے بیان میں پاکستان کی سیاست کی وہ تصویر موجود ہے جو آمروں اور طالع آزماﺅں کی حمایت سے ابھری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہلیری کے ان بیانات کو کس حد تک مخلصانہ تصور کیا جاسکتا ہے اور کس حد تک اس کو سیاست کا حصہ سمجھا جاسکتا ہے۔

لارڈ کلائیو نے کہا تھا کہ سیاست بہترین ذہنوں کی بہترین ایکٹویٹی ہے اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صحافی رابن رابنسن نے کہا کہ سیاست بہترین ذہنوں کی بہترین ایکٹویٹی ضرور ہے بشرطیکہ اسکے نتائج بھی بہترین برآمد ہوں مگر بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں ہے۔ سوال یہ ابھرتا ہے کہ ہلیری کے بیانات کو لارڈ کلائیو کی نظر سے دیکھا جائے یا پھر رابن رابنسن کی نظر سے۔ یہ بات تو بالکل سچ ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے گزشتہ چالیس سالوں سے شدید بحرانوں کا سامنا ہے۔ تو کیا اس تمام صورتحال کا ذمہ دار صرف امریکہ ہے؟ میرے خیال میں الیگزینڈر ہیگ کی یہ بات صورتحال کی وضاحت کرتی ہے کہ کسی ایک فرد کی ناکامی دوسرے کی فتح ہوتی ہے اور اسی طرح کسی ایک شخص کی کم عقلی دوسرے کو عقلمند بناتی ہے۔ اگر پاکستانی سربراہوں کے پاس کامن سینس اور وژن ہوتا تو شاید ہم امریکہ کو وہ سب کچھ کرنے سے روک دیتے جو وہ اس خطے میں کرتا رہا۔ بھٹو کو Elimination کا مقصد بھی یہ تھا کہ اس شخص کو راستے سے ہٹا دیا جائے جو عالمی مفادات کے مقابلے میں ملکی مفادات اور خطے کے مفادات کو عزیز رکھتا ہے۔ پھر بھٹو کے بعد ہر حکمران نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اس کو ملکی مفادات اور خطے کے مفادات کی نسبت اپنی غیرآئینی حیثیت کو برقرار رکھنا ہے اور اس مقصد کیلئے اس کو عالمی طاقتوں کی حمایت کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک طالع آزما کی حمایت عالمی طاقتیں اسی وقت کریں گی جب ان کو عالمی مفادات کے غیرمشروط تحفظ کا یقین دلا دیا جائیگا یا پھر ملکی مفادات سے پسپائی اختیار کرلی جائیگی اور ہم دیکھتے ہیں کہ ضیاءاور مشرف کے دور حکمرانی میں ہوا بھی یہی اس طرزعمل پر امریکہ کے کسی رہنماءنے شرمندگی کا احساس مشتہر نہیں کیا کیونکہ عالمی سیاست کا اصول یہی ہے اور اس اصول کو عالمی قانون کی حمایت حاصل ہے کہ جب کوئی ملک کسی دوسرے ملک کی شرائط کسی بھی وجہ سے قبول کرلیتا ہے تو اس صورتحال پر سیاست کے تقاضے پورے کئے جاتے ہیں نہ کہ انصاف کے اور امریکہ میں یہ فقرہ بڑا مشہور ہے، کہ اگر آپ کو اپنے حقوق کا علم نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ پاکستانی حکومتوں نے طالع آزمائی کے مختلف ادوار میں عالمی طاقتوں کیلئے نرم گوشے بنائے اور عالمی طاقتوں نے ان نرم گوشوں میں Penetrate کیا۔ پاکستانی حکمرانوں نے اپنے عالمی حقوق سے دستبرداری کا اعلان کیا اور جہاں جہاں پسپائی اختیار کی وہاں وہاں عالمی طاقتوں نے پیشقدمی کی۔

عالمی قانون کے ماہرین کی نظر میں امریکہ نے بھٹو، ضیاءاور مشرف دور میں جو کچھ پاکستان کے ساتھ کیا اس کو کسی عالمی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا کہ طالع آزماﺅں نے ان اقدامات کو بخوشی قبول کرلیا بلکہ ان کو اپنی نام نہاد اسمبلیوں کے ذریعے Valioate بھی کرالیا۔ جب مذکورہ بالا صورتحال اب بھی زرداری کے زمانے میں Pre Vail کررہی ہے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ہلیری کو یہ بات کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ امریکہ کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان کو نتائج بھگتنے پڑے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی بادی النظر میں سی آئی اے اور پینٹاگون کی مرضی سے بنائی جاتی ہے۔ سابق صدر بش جونیئر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد سی آئی اے کے ڈائریکٹر سے ملاقات کی تھی۔ مبصرین اس ملاقات کو بہت اہمیت دے رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ سی آئی اے کو بہت موثر کردار ادا کرنے کا سگنل دیدیا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جب مشرف نے نواز حکومت کا تختہ الٹا تو یہ خبر ایک پارٹی میں بل کلنٹن کو دی گئی اور بل کلنٹن نے کہا تھا کہ فوج کو یہ اقدامات Reverse کرنے ہونگے۔ مگر دوسری صبح بل کلنٹن کی حکومت نے مشرف کے اقدامات کو قبول کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بل کلنٹن کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ مشرف امریکہ کیلئے نوازشریف سے زیادہ سودمند ثابت ہوسکتے ہیں۔ گمان کیا جاتا ہے کہ بل کلنٹن کو یہ بریفنگ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے نہیں بلکہ دیگر ایجنسیوں نے دی تھیں۔ ہلیری کو معلوم ہے کہ امریکہ سے باہر سارے سیاسی پروجیکٹس ایجنسیاں چلاتی ہیں اور وزارت خارجہ ان میں کوئی انقلابی تبدیلی نہیں لاسکتی۔ اسی وجہ سے پاکستان کے بارے میں جو پالیسی سابق صدر جارج بش کے زمانے میں ترتیب دیدی گئی تھی، اوباما ایڈمنسٹریشن اسی پالیسی پر من و عن عمل کررہی ہے۔ اگر ایسا ہے کہ امریکہ نے صدر بش کے زمانے میں غلط حکمت عملی اپنائی تھی تو اوباما اور ہلیری کو چاہئے تھا کہ وہ اس پالیسی کو فوری طور پر ختم کردیتے اور نئی پالیسی کا اعلان ہوتا.... مگر ایسا نہیں ہوا۔ روس، چین، ایران، شمالی کوریا، عراق، افغانستان اور پاکستان کے بارے میں جو پالیسیاں پہلے سے مرتب کردہ ہیں، انہی پر من و عن عمل ہورہا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔

اگر پاکستان میں امریکہ کی حکمت عملی غلط تھی تو بتایا جائے کہ موجودہ حکمت عملی کیا ہے اور پاکستان کو اس کے نتائج سے کس طرح محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ اس بار امریکی امداد فلاح عامہ پر خرچ ہوگی یا پھر ہم پاکستان میں جمہوریت کا فروغ چاہتے ہیں جبکہ پاکستان میں موجودہ جمہوریت.... مبصرین کی رائے میں جمہوریت کے ساتھ مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ ہمارے خیال میں ہلیری کا بیان بہت زیادہ Cosmetic ہے یا پھر شاید Cosmotic کہ اس کا اطلاق پاکستان پر ہوتا ہی نہیں۔ پاکستانیوں کی جذباتیت کو مدنظر رکھتے ہوئے غالباً ہلیری نے بہت شاطرانہ انداز میں یہ بات کہی ہے جس کا نہ تو حقیقت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی امریکہ نے اپنے عمل سے اپنی غلط حکمت عملی پر شرمندگی کا اظہار کیا ہے اور نہ ہی ازالے کی کوئی صورت نظر آتی ہے۔

 

 

 

Add New
Comments
Write comment
Name:
Email:  
Website:
Title:
UBBCode:
[b] [i] [u] [url] [quote] [code] [img] 
 
:angry::0:confused::cheer:B):evil::silly::dry::lol::kiss::D:pinch::(:shock::X:side::):P:unsure::woohoo::huh::whistle:;):s:!::?::idea::arrow:
 
Please input the anti-spam code that you can read in the image.